جموں و کشمیر
عمر نے ’غیر سنجیدہ‘ قرار دینے پر بی جے پی کو جواب دیا، کہا: بی جے پی ’اسمبلی میں بمشکل نظر آتی ہے‘
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو سات روزہ اسمبلی اجلاس کے انعقاد پر ان کی حکومت کو ’’غیر سنجیدہ‘‘ قرار دینے پر بی جے پی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے، خاص طور پر اس وقت جب بی جے پی کے ارکان ’’اسمبلی میں بمشکل نظر آتے ہیں‘‘۔
21 ستمبر سے سات روزہ اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ ’’غیر سنجیدگی‘‘ سے کیا مراد ہے اور بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں ہونے والے مختصر اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اس سے بھی کم مدت کے اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے سری نگر میں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’غیر سنجیدگی اس وقت ہوتی اگر ہم بی جے پی کے دکھائے ہوئے راستے پر چلتے، جہاں ان کی ریاستوں میں ایک یا دو روزہ اجلاس طلب کیے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اسمبلی میں کبھی نہیں آتے۔ یہ پارلیمنٹ میں کبھی نظر نہیں آتے۔‘‘
عمر نے کہا کہ ان کی حکومت کے ارکان صبح سے شام تک اسمبلی میں موجود رہتے ہیں اور دلیل دی کہ اس طرح کی شرکت قانون سازی کے امور کے تئیں حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’ہم صبح اسمبلی میں بیٹھتے ہیں اور شام کو نکلتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا دن ہوتا ہے جب ہم اسمبلی میں موجود نہ ہوں۔ غیر سنجیدگی، چاہے کوئی اور ہم پر غیر سنجیدہ ہونے کا الزام لگائے یا نہ لگائے، بی جے پی یقینی طور پر ہم پر یہ الزام نہیں لگا سکتی۔‘‘
اسمبلی میں بی جے پی کے ارکان کی حاضری پر طنز کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ ان کی حکومت پر سوال اٹھانے سے پہلے بی جے پی کو اپنے ریکارڈ کا جائزہ لینا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بی جے پی کو یو سی سی نافذ کرنے کے لیے ‘پچھلے دروازے’ کا راستہ نہیں اپنانا چاہیے: عمر
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کے لیے “پچھلے دروازے” کا راستہ نہیں اپنانا چاہیے مسٹر عبداللہ نے مرکزی وزیرِ داخلہ امِت شاہ کے اس اعلان کے بعد یہ بات کہی ہے جس میں مسٹر شاہ نے کہا تھا کہ سال 2029 تک این ڈی اے کی حکمرانی والی تمام ریاستوں میں یو سی سی نافذ کیا جائے گا۔ مسٹر عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ اس قانون کو الگ الگ ریاستوں کے ذریعے منتخب طور پر آگے بڑھانے کے بجائے پارلیمنٹ میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “اگر آپ کے پاس عددی اکثریت ہے، تو اسے پارلیمنٹ میں لائیں۔ آپ اسے الگ الگ ریاستوں میں کیوں کر رہے ہیں۔” انہوں نے مختلف ریاستی حکومتوں کے ذریعے یو سی سی کو آگے بڑھانے کے قدم پر سوال اٹھائے۔
انہوں نے اس معاملے پر بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے اندرونی اختلافات کی طرف بھی اشارہ کیا اور دعویٰ کیا کہ جنتا دل (یونائیٹڈ) نے بہار میں اسے نافذ کرنے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے پوچھا، “اگر ان کے اپنے ہی لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں، تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسے پورے ملک میں نافذ کیا جانا چاہیے؟” وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی کو پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ان کے پاس قانون منظور کرانے کے لیے ضروری عددی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا، “انہیں پچھلے دروازے کا راستہ نہیں اپنانا چاہیے؛ انہیں پارلیمنٹ میں بل لانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ ان کے پاس عددی طاقت ہے یا نہیں۔” وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس ہو سکے گا، کیونکہ بی جے پی کے کچھ اتحادیوں کی طرف سے اس کی مخالفت کیے جانے کی رپورٹیں ہیں۔
اپوزیشن کے اس الزام پر کہ بی جے پی فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے یو سی سی کا استعمال کر رہی ہے، انہوں نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صرف بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں نافذ قانون کو یونیورسل نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، “اگر یہ پورے ملک پر نافذ نہیں ہوتا ہے تو یہ یونیورسل نہیں ہے۔ پورا ملک بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست نہیں ہے۔ ایسی کئی ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ اس لیے، اگر آپ اسے صرف بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں نافذ کرتے ہیں، تو یہ یونیورسل نہیں ہے۔ اور اس طرح کی چیز کا فیصلہ الگ الگ ریاستوں کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا فیصلہ پورے ملک کو کرنا ہوگا۔ پورے ملک کی نمائندگی ریاستوں میں نہیں، بلکہ پارلیمنٹ میں ہوتی ہے۔ قانون کو پارلیمنٹ میں آنے دیں۔”
مسٹر عمر نے کہا کہ یہ قانون ابھی پارلیمنٹ میں نہیں آیا ہے۔ جب مسٹر عمر سے پاکستان کا نام لیے بغیر پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرنے والے برکس اعلامیے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر مرکزی حکومت، بالخصوص وزارتِ خارجہ کو دھیان دینا چاہیے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ اعلامیہ ہندستان کی خارجہ پالیسی کی ایک “کامیابی” ہے۔ انہوں نے کہا، “دیکھیے، پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت ہونا ہی اپنے آپ میں ایک بڑی بات ہے۔ ذرا دیکھیے کہ اس کمرے میں پاکستان کے کتنے اتحادی ملک موجود تھے۔ اس لیے، پہلگام کا نام لیا جانا ہی ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔”
مسٹر عمر نے کہا کہ ہندستان کو اپنی خارجہ پالیسی کے بارے میں دوسرے ممالک کی تعریف یا تنقید کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے؛ ملک کی خارجہ پالیسی اس کے اپنے مفادات اور فیصلوں پر مبنی ہونی چاہیے۔
انہوں نے چین کی طرف سے ہندستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف کیے جانے کے سوال پر کہا کہ ہندستان کو اپنی خارجہ پالیسی کی منظوری کے لیے دوسرے ملکوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو کی کارروائی سے شوپیاں میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے 13 کھاتہ داروں کو 4.50 کروڑ روپے واپس ملے
سری نگر، شوپیاں میں مبینہ بینک فراڈ کے متاثرین کو بڑی راحت ملتے ہوئے اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر کی کارروائی کے نتیجے میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے 13 کھاتہ داروں کو تقریباً 4.50 کروڑ روپے واپس دلانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ رقم بینک کی ایک شاخ میں مالی بے ضابطگیوں کی شکایت پر مقررہ مدت میں کی گئی تحقیقات کے بعد واپس دلائی گئی۔
یہ معاملہ 2025 میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ ایف آئی آر شوپیاں میں ایچ ڈی ایف سی بینک کی شاخ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے موصولہ شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی تھی۔ بعد میں پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو)، جموں و کشمیر کی ہدایت پر تفصیلی تحقیقات کے لیے یہ معاملہ کرائم برانچ جموں و کشمیر کو منتقل کردیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران ای او ڈبلیو کشمیر نے پانچ اہم ملزمان کی شناخت کی، جن میں شوپیاں اور پلوامہ میں تعینات ایچ ڈی ایف سی بینک کے سابق برانچ منیجرز اور ملازمین بھی شامل تھے۔ پانچوں ملزمان کو 18 فروری 2026 کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ای او ڈبلیو کشمیر نے مئی 2026 میں شوپیاں کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں 11 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔
مبینہ فراڈ سے متاثر ہونے والے 13 کھاتہ داروں کو ایچ ڈی ایف سی بینک نے تقریباً 4.50 کروڑ روپے واپس کردیئے، جس سے متاثرین کو بڑی راحت ملی ہے۔
ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی مجاز عدالت میں جاری ہے۔ ای او ڈبلیو کشمیر نے کہا ہے کہ وہ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے اور تمام ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یواین آئی ظ ا
جموں و کشمیر
’’شرمندگی سے سر جھک گیا‘‘: سونم وانگچک نے لداخ احتجاج کے متاثرین کے معاوضے پر تنقید کی
سری نگر، لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) کے رکن اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے گزشتہ سال لیہ میں پولیس فائرنگ کے متاثرین کے لیے لداخ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کردہ معاوضے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے لیے اعلان کردہ رقم دیکھ کر ’’شرمندگی سے میرا سر جھک گیا‘‘۔
لداخ انتظامیہ نے اتوار کو 24 ستمبر 2025 کو پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے چار افراد کے اہل خانہ کو فی خاندان 15 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ انتظامیہ نے لداخ کے لیے ریاستی حیثیت اور دیگر آئینی تحفظات کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج کے دوران شدید زخمی ہونے والے افراد کو تین لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کو ایک لاکھ روپے فی کس دینے کا بھی اعلان کیا۔
اعلان کے بعد لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کہا تھا کہ کوئی بھی معاوضہ ضائع ہونے والی جان کا نعم البدل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی برداشت کیے گئے درد کو ختم کرسکتا ہے، تاہم انتظامیہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور انہیں اپنے غم سے نکلنے اور زندگی دوبارہ سنوارنے کی کوششوں میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
معاوضے کے پیکیج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وانگچک نے کہا کہ یہ معاوضہ ناکافی ہے، خصوصاً ان حالات کے پیش نظر جن میں مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس معاوضے کو دیکھ کر مجھے خوشی محسوس نہیں ہوتی بلکہ شرمندگی سے میرا سر جھک جاتا ہے۔‘‘
ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں وانگچک نے الزام عائد کیا کہ ہلاک ہونے والے متعدد افراد غیر مسلح تھے، سڑکوں پر چل رہے تھے اور ان میں مسافر بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہاکہ ’’انہیں سر، سینے اور ٹانگوں میں گولیاں ماری گئیں۔ وہ بھی بغیر کسی حکم کے۔ فائرنگ کا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔ انہیں اے کے 47 سے گولیاں ماری گئیں۔ ٹانگوں میں نہیں بلکہ سر اور سینے میں۔ یہ قتل تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر لائی جاتی تو حقیقت سامنے آجاتی۔
انہوں نے الزام لگایاکہ ’’لیکن اس رپورٹ کو بھی دبایا جا رہا ہے۔ ایک سال گزر چکا ہے اور حقیقت سامنے نہیں لائی جا رہی ہے۔‘‘
وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے لیہ میں 24 ستمبر 2025 کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات کی عدالتی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس بی ایس چوہان کو مقرر کیا تھا۔ ان واقعات میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تشدد لداخ کے لیے ریاستی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کے مطالبے کے دوران ہونے والے احتجاج کے دوران پھوٹ پڑا تھا۔ کمیشن نے 27 اکتوبر 2025 سے اپنا کام شروع کیا تھا۔
ایل اے بی کے رکن وانگچک نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ فائرنگ میں ملوث افسران کو بعد میں لداخ سے منتقل کردیا گیا اور انہیں ترقیاں بھی دی گئیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے سرحدی علاقے میں رہنے والے لوگوں کو کیا پیغام جائے گا۔
وانگچک نے دہلی میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں حکومت کے ردعمل اور لداخ کے لوگوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کا موازنہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جنتر منتر پر مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا اور وزیر داخلہ کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا، وہیں لداخ میں ضائع ہونے والی جانوں کی قدر بہت کم دکھائی دیتی ہے۔
وانگچک نے کہا کہ ملک کو ’’لداخ کے لیے آواز اٹھانی چاہیے‘‘ کیونکہ ہلاک ہونے والوں میں کچھ سابق فوجی بھی تھے، جنہوں نے کارگل جنگ میں حصہ لیا تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیاکہ ’’کارگل جنگ کے دوران ان میں سے کچھ زخمی ہوئے تھے اور انہیں پہاڑوں سے اسپتال پہنچایا گیا تھا۔ صحت یاب ہونے کے بعد وہ گھر واپس جا سکتے تھے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے دوبارہ واپس جاکر دشمن سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ایسے لوگوں کو پیچھے سے گولیاں ماری گئیں اور گھسیٹا گیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’’اگر مناسب معاوضہ اور انصاف فراہم نہیں کیا گیا تو میں ان کہانیوں اور حقائق کو ایک ایک کرکے عوام کے سامنے لاتا رہوں گا۔ ملک کے مفاد میں میں اب تک خاموش رہا ہوں۔ لیکن اگر ایسا سلوک جاری رہا تو حقیقت ملک کے سامنے رکھنا ضروری ہوگا، خواہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کبھی جاری کی جائے یا نہ کی جائے۔‘‘
یواین آئی۔ ظا
-
دنیا1 week agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
دنیا1 week agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا1 week agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
دنیا1 week agoتہران اقتصادی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں ہے، یہ امریکی حملوں کا “دردناک” جواب دے گا:قالیباف
-
جموں و کشمیر3 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
-
دنیا1 week agoمیامی میں کارگو طیارے کے رنوے سے اترنے سے پانچ افراد ہلاک
-
دنیا1 week agoبرطانوی حکام نے انگلش چینل میں 140 تارکینِ وطن کو لے جانے والی کشتی کو روک لیا
-
ہندوستان1 week agoگونڈہ میں سڑک حادثہ میں دو طلبہ کی موت
-
جموں و کشمیر3 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
دنیا3 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
