تازہ ترین
شہری اموات کیخلاف وادی میں ہمہ گیر ہڑتال ،مکمل رپورٹ
خبراردو: پٹن ، پلوامہ ، شوپیان اور بھدرواہ میں مختلف واقعات کے دوران 4 عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر جمعہ کو وادی بھر میں مکمل ہڑتال رہی ۔ شہر و قصبہ جات میں تمام چھوٹے بڑے بازاروں میں سناٹا چھایا رہا جبکہ سری نگر کو شمال وجنوب مختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں اور سڑکوں سے مسافر ٹرانسپورٹ عملاً غائب رہا ۔
حالیہ دنوں میں ہوئی شہری ہلاکتوں کیخلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کے باعث جمعہ کے روزپوری وادی میں معمول کی عوامی ،کاروباری اورتعلیمی سرگرمیاں مفلوج ہوکررہ گئیں ۔ وادی کے سبھی10اضلاع بشمول سری نگر،بڈگام،گاندربل ،بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ ،کولگام ،پلوامہ ،شوپیان اوراننت ناگ میںدکانات ،کاروباری مراکزاورنجی دفاتربندرہے جسکے نتیجے میں بازاروں میں کوئی گہماگہمی نظرنہیں آئی تاہم سری نگرسمیت کچھ علاقوں میں ہڑتال کے باوجودسنڈے مارکیٹ کے تحت چھاپڑی فروش بازاروں میں موجودرہے لیکن اُن کے پاس خریداری کیلئے آنے والے خریداروں کی تعدادبرائے نام رہی ۔اس دوران بیشترشاہراہوں اورسڑکوں سے مسافربسیں اوردیگرگاڑیاں غائب رہیں تاہم کچھ علاقوں سے کم قلیل تعدادمیں سومواوردیگرایسی چھوٹی مسافربردارگاڑیوں کوسری نگرآتے اوریہاں سے مختلف اضلاع کی جانب جاتے دیکھاگیا۔
سری نگرشہر میں سیول لائنزکے علاوہ شہرخاص اوردیگرنواحی علاقوں میں بیشتربازاربندرہے جبکہ شہرمیں مسافرٹرانسپورٹ سروس بھی بندرہی ۔اس دوران شہرخاص کے5 پولیس تھانوں نوہٹہ ،خانیار ،مہاراج گنج ،رعناواری اور صفاکدل کے تحت آنے والے حساس علاقوں میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر کہیں سخت ترین اور کہیں نرمی کے ساتھ لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندیاں وبندشیں عائد کی گئی ہیں۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے مقصد کے تحت ان علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی دستے تعینات کئے گئے جسکی وجہ سے شہرخاص کرفیو جیسا سماں دیکھنے کو ملا۔سرینگر کی تاریخی مرکزی جامع مسجد سرینگر کے گرد ونواح میں پولیس اور فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی اور اس مرکزی جامع مسجدمیں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔سیول لائنز کے2پولیس تھانوں مائسمہ اور کرالہ کھڈ کے تحت آنے والے علاقوں میں بھی احتیاطی اقدامات کے تحت بندشیں عائد رکھی گئیں۔شہر خاص اور سیول لائنز کوملانے والی سڑکوں کوپولیس وفورسزاہلکاروں نے کئی مقامات پر خاردار تاریں بچھاکراوردیگررکاوٹیں ڈالکر سے سیل کردیا تھا،جسکے باعث ایسے علاقوں میں کوئی بھی نجی یامسافرگاڑی نہیں چل سکی جبکہ لوگوں بالخصوص خواتین کوان خاردارتاروں والے مقامات کوعبورکرنے میں سخت دشواریوں کاسامناکرناپڑا ۔
دفعہ144کے تحت عائدکردہ بندشوں پرلوگوں نے سخت ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے بتایاکہ کرفیونہیں تھالیکن کرفیوجیسی بندشیں اورسختیاں لگاکرہمیں گھروں سے باہرآنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔شہرخاص بالخصوص نوہٹہ ،گوجوارہ ،ملارٹہ،صراف کدل ،بہوری کدل ،راجوری کدل اوردیگرنزدیکی علاقوں کے لوگوں نے مرکزی جامع مسجدکوسیل رکھنے پرناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ ماہ مبارک میں نمازجمعہ باجماعت اداکرنے کی اجازت نہ دیناقابل مذمت ہے ۔
اُدھرشمالی ،وسطی اورجنوبی کشمیرکے سبھی9اضلاع کے قصبہ جات اوربڑے علاقوں میں بھی ہڑتال کی وجہ سے دکانات ،کاروباری مراکز،نجی دفاتروکارخانے اورتعلیمی ادارے بندرہے جبکہ ان سبھی اضلاع میں بھی عوامی سرگرمیاں مفلوج ہوکررہ گئیں اورسڑکوں سے مسافرٹرانسپورٹ غائب رہا۔شمال وجنوب کئی حساس علاقوں اورمقامات پرممکنہ احتجاجی مظاہروں پرروک لگانے کیلئے نمازجمعہ کے بعدسیکورٹی انتظامات سخت کردئیے گئے اورپولیس وفورسزدستوں کوکسی بھی صورتحال کافوری تدارک کرنے کی غرض سے چوکنارکھاگیا۔
جنوبی کشمیر کے2 اضلاع پلوامہ اور شوپیان کے مرکزی قصبوں کے علاوہ حساس علاقوں میں واقع مرکزی جامع مساجد کو سیل کردیا گیا جبکہ دونوں اضلاع میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اور امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کےلئے اضافی دستوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔ان دونوں اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات مکمل طور پر منقطع کردی گئیں جبکہ جمعہ کو احتیاطی اقدامات اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بارہمولہ،بانہال ریل سروس کو بھی معطل رکھا گیا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر23 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا23 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا23 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان1 day agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
