تازہ ترین
بانڈی پورہ کا استاد گھر سے نکلنے کے بعد پر اسرار طور لاپتہ
خبراردو:بانڈی پورہ میں ایک سرکاری اسکول کا استادگھر سے ڈیوٹی نکلنے کے بعد پر اسرار طور لاپتہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں لاپتہ استاد کے اہل خانہ اور رشتہ دار موصوف کی سلامتی سے متعلق طرح طرح کے خدشات میں مبتلا ہوئے ہیں۔
شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والا ایک سرکاری سکول ٹیچر29سالہ مشتاق احمدلون 13مئی کے صبح گھر سے ڈیوٹی گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول چونٹ مولہ سکول کے لئے نکلااور ڈیوٹی کے بعد شام کو اسی روز گھر واپس نہیں آیاجس کے نتیجے میں مقامی لوگوں افراد خانہ کے ساتھ ساتھ سکول عملہ زبردست پریشانیوں میں مبتلا ہوئے ۔
اس دوران لاپتہ استاد کے بھائی منظور احمد نے میڈیا کو بتایاان کا بھائی ہر روز ڈیوٹی کے بعد شام کو گھر آتا تھا تاہم جب وہ شام کو واپس نہیں لوٹا تو انہوں نے ان کے فون نمبر پر فون کیا تاہم وہ بند آرہا تھا جس کے بعد انہوں نے تمام رشتہ داروں کو مطلع کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں سبھی ممکنہ جگہوں پر تلاش کیا تاہم کوئی سراغ نہیں ملا۔
استاد کے بھائی نے مذید بتایاکہ سکول کے ہیڈ ماسٹر نے بتایا کہ منظور دن بھر سکول تھا اور شام کے وقت ہم دونوں بانڈی پورہ چوک تک ایک ساتھ آئے ہیں تاہم جب انہیں شام کو فون کیا تو ان کو نمبر آف آ رہا تھا ۔اس دوران افراد خانہ کو جب بیٹے کے متعلق کوئی سراغ نہیں ملا تو انہوں نے پولیس اسٹیشن پیٹھ کوٹ میں گمشد گی کے حوالے سے ایک رپوٹ دج کیا ہے ۔
مقامی لوگوں اور لاپتہ استاد کے رشتہ داروں نے پولیس سے استاد کا پتہ لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی
سری نگر، جموں و کشمیر میں مالی سال 2025-26 کے دوران غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی میں 9417 گاڑیاں اور مشینیں ضبط کی گئی ہیں۔ اس مدت کے دوران 20.009 کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا گیا اور 285 ایف آئی آر درج کی گئیں۔
ان اعداد و شمار نے نفاذ کی کارروائی اور فوجداری مقدمات کے درمیان واضح فرق پر تشویش پیدا کردی ہے، کیونکہ کئی اضلاع میں ضبطی کے سیکڑوں واقعات کے باوجود ایف آئی آر بہت کم درج کی گئیں۔
کٹھوعہ ضلع میں سب سے زیادہ 1019 ضبطی کے واقعات درج کیے گئے، لیکن ضلع میں صرف ایک ایف آئی آر درج ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کپواڑہ میں 972 ضبطیاں اور 48 ایف آئی آر درج ہوئیں، جبکہ بارہمولہ میں 845 ضبطیاں اور 41 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ سانبہ میں ضبطی کے 800 واقعات ہوئے، لیکن کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
اعداد و شمار سے اضلاع کے درمیان نفاذ کے طریقوں میں کافی فرق کا پتہ چلا۔ فوجداری مقدمات کے معاملے میں جموں و کشمیر میں بڈگام سب سے آگے رہا، جہاں غیر قانونی کان کنی کرنے والوں کے خلاف 671 ضبطیوں کے باوجود 62 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس کے بعد کپواڑہ (48 ایف آئی آر)، بارہمولہ (41)، گاندربل (30) اور سری نگر (29) کا مقام رہا۔
جرمانہ وصولی کے معاملے میں بھی کٹھوعہ فہرست میں سب سے اوپر رہا، جہاں انتظامیہ نے 3.308 کروڑ روپے وصول کیے۔ اس کے بعد جموں (2.248 کروڑ روپے)، پلوامہ (2.008 کروڑ روپے)، بارہمولہ (1.618 کروڑ روپے) اور کپواڑہ (1.499 کروڑ روپے) کا مقام رہا۔ دیگر اضلاع میں اننت ناگ میں ضبطی کے 530 واقعات ہوئے، جس سے 1.01 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی، جبکہ کولگام میں 391 ضبطیاں اور 0.949 کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔
جموں ڈویژن میں جموں ضلع میں 679 ضبطیاں اور 15 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 2.248 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔
ریاسی میں ضبطی کے 356 معاملات درج کیے گئے، جبکہ راجوری اور ادھم پور میں بالترتیب 317 اور 277 معاملات سامنے آئے۔
مسٹرایم وائی تاریگامی کی صدارت میں ماحولیات کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں غیر قانونی کان کنی سے متعلق ضبطگیوں اور ایف آئی آر کے اعداد و شمار میں فرق کا جائزہ لیا گیا۔ اس فرق پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کمیٹی کے ارکان نے کان کنی محکمے سے تفصیلی وضاحت طلب کی۔
مسٹر تاریگامی نے میٹنگ کے دوران محکمے کو ہدایت دی کہ وہ گاڑیوں، مشینری یا معدنیات کی ضبطی سے پہلے خلاف ورزی کرنے والوں پر عائد پہلے اور دوسرے جرمانے کی مکمل تفصیلات فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نفاذ کے نظام کی مؤثریت کا جائزہ لینے کے لیے یہ معلومات ضروری ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
رجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے خود کو ’دماغی نکسل‘ قرار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ تبصرہ انہوں نے پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو کے اس بیان کے بعد کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آرٹیکل 370 کی حمایت کرنے والے لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے یوم آزادی کی تقریر میں استعمال کیے گئے لفظ کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
محترمہ محبوبہ کا یہ تبصرہ کرن رجیجو کی اس وضاحت کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن رہنماؤں کو ’دماغی نکسل‘ نہیں کہا تھا۔ مسٹر رجیجو نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جو آئین ہند کو مسترد کرتے ہوئے ماؤ نوازوں کی حمایت کرتے ہیں، علیحدگی پسندوں اور آرٹیکل 370 کی حمایت کرتے ہیں یا شمال مشرقی خطے کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔
مسٹر رجیجو نے لکھا کہ “پی ایم نریندر مودی جی نے اپوزیشن رہنماؤں کو دماغی نکسل نہیں کہا۔” وزیر کے تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محترمہ محبوبہ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ “میں آرٹیکل 370 کی حمایت کرتی ہوں۔ میں ایک دماغی نکسل ہوں۔”
واضح رہے کہ آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کی ریاست کو خصوصی درجہ دیتا تھا۔ جسے بی جے پی حکومت نے 5 اگست 2019 کو ختم کردیا تھا۔ اس اقدام سے خطے کی خصوصی آئینی دفعات ختم ہوگئیں اور ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا۔
وزیر اعظم مودی نے لال قلعے سے اپنے یوم آزادی کے خطاب میں ’دماغی نکسل‘ سے پیدا ہونے والے نئے خطرے کے بارے میں خبردار کیا تھا، جس سے سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
محض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
نئی دہلی، ’دماغی نکسل‘ کے مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ پی چدمبرم کونشانہ بنایا اور کہا ہے کہ محض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو تریویدی نے پیر کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر ’دماغی نکسل‘ کا اہم موضوع اٹھایا تھا، جو آج کے تناظر میں انتہائی اہم اور بروقت ہے۔
انہوں نے مسٹر چدمبرم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، “ہمیں حیرانی اس بات پر ہوئی کہ صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہی، جس شخص کے ذہن میں نکسلی خیالات تھے، وہ خود سامنے آ گیا۔ مسٹر چدمبرم خود سامنے آئے اور کہا کہ انہیں ’دماغی ماؤنواز‘ ہونے پر فخر ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ وزیر اعظم نے بات کی اور اتنی تیزی سے ردِعمل آیا نیز پورے ملک کے سامنے یہ بات آ گئی کہ کس کے ذہن میں ماؤسٹ خیالات پل رہے ہیں، اور وہ خود اس پر فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔
بی جے پی ترجمان نے کہا، “میں کانگریس اور مسٹر چدمبرم کو بتانا چاہتا ہوں کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 13 اپریل 2006 کو کہا تھا کہ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ نکسلی خطرہ ہندوستان کی اندرونی سلامتی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جس نکسل واد کو کانگریس حکومتیں ختم کرنے میں ناکام رہیں، اسے مسٹر مودی کی قیادت میں فیصلہ کن طور پر قابو میں کیا گیا۔
مسٹر تریویدی نے کہا کہ یو پی اے کی حکومت کے دوران پشوپتی سے تروپتی تک ریڈ کوریڈور بن گیا تھا، 180 سے زیادہ اضلاع نکسلی انتہاپسندی سے متاثر تھے، 2010 میں دنتے واڑہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 75-76 جوان شہید ہوئے تھے، اور اس کے بعد دارالحکومت کی ایک نامور یونیورسٹی میں جشن منایا گیا تھا۔ دماغی طور پر دیوالیہ ہو چکے نکسلیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ مسٹر چدمبرم کے دورِ حکومت میں سی آر پی ایف کے جوان شہید ہوئے اور وہاں جشن منایا گیا۔ اسی کو ’دماغی نکسل‘ کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یو پی اے کے دورِ حکومت میں نکسل مخالف مہمات میں 1,913 جوان شہید ہوئے۔ 180 اضلاع نکسل متاثرہ ہو گئے تھے۔ مسٹر چدمبرم کے دور میں 5,000 سے زیادہ بے گناہ شہری مارے گئے۔ نکسلیوں کے پاس 92 فیصد سے زیادہ ہتھیار ایسے تھے جو پولیس سے لوٹے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ وقت میں اس علاقے میں 1,800 سے زیادہ بینک شاخیں کھلی ہیں، 1,200 سے زیادہ اے ٹی ایم لگائے گئے ہیں اور چھ ہزار سے زیادہ موبائل فون ٹاور لگائے گئے ہیں، تاکہ وہ لوگ ملک کے مرکزی دھارے کے ساتھ ترقی کر سکیں۔
بی جے پی ترجمان نے بتایا کہ 22 لاکھ لوگوں کو آیوشمان بھارت کارڈ دیے گئے ہیں۔ جسے یہ منظر قابلِ اعتراض لگتا ہے، وہ ذہنی نکسلی ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 week agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
ہندوستان4 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
