تازہ ترین
حضرت شمس فقیرؒ کی سماجی و شاعرانہ زندگی پرایک مختصر جائزہ
مشتاق شمیم ،خانصاحب بڈگام

24۔ماہ جون کو شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ کا عرس آپ کے آستان عالیہ بمقام باغ شمس کلشی پورہ خانصاحب میں نہایت ہی عقیدت اور تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا ۔ عرس کے موقع پر حسب روایت ذائرین کی طرف سے درود و اذکار اور نعت و مناجات کی مجلسیں آراستہ کی گئیں۔ ساز و سماع کی محفلیں سجائی گئیں۔سجادہ نشین و متولی خاص پیر محمد الطاف اور آستان عالیہ سے وابستہ منتظمین کی طرف سے عقیدت مندوں کیلئے قیام و طعام کا اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا۔اس بار ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند شمس فقیرؒ کے آستان پراس روحانی و صوفی بزرگ کو عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کیلئے حاضر ہوگئے جن میں خواتین و حضرات کے ساتھ ساتھ ایک اچھی خاصی تعداد میں نوجوان پیڑی کے لوگ بھی شامل تھے۔ آج کے کالم میں راقم نے اسی صوفی شاعر کی سماجی و شاعرانہ زندگی کا ایک مختصر جائزہ عوام الناس کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔امید ہے کہ سامعین کرام کو میری یہ کوشش پسند آجائیگی انشااللہ۔
شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ صوفیانہ شعر و ادب کے اُفق پر ایک ایسے درخشندہ ستارے کی مانند جلوہ افروز ہیں جو تا قیام قیامت اپنے نور سے وادی کشمیر کے چپہ چپہ اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے خواتین و حضرات کے دلوںکو روشن اور منور کرتے رہیں گے۔انہوں نے جوعارفانہ کلام فرمایا ہے اُس کلام میں اللہ پاک کی تعریف و تمحید اور رسول پاک ﷺ کے عشق و محبت کا عکس اس طرح سے آشکارہ کیا جاچکا ہے کہ اصحاب ایمان کے قلوب و اذہان کو یہ پُر مغزکلام سکون اور راحت بخش احساس فراہم کرتا رہتا ہے ۔عبادت گزاری دین داری خدا پرستی اورعشق نبوی ﷺ سے اُن کا کلام اس قدر مالا مال ہے کہ اس کا مطالعہ و سماعت کرنے والے حضرات کسی بھی صورت میں متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر شریعت حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒ کے بعد جس کشمیری صوفی شاعر نے اپنے الہامی کلام سے سب سے زیادہ دین اسلام کا باغ رحمت سینچا سنوارا ہے آپ ہیں حضرت شمس فقیر ؒ ۔
شمس فقیرؒ کا تعلق صوفی سلسلہ قادریہ کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔آپؒ میںبچپن سے ہی شعر و ادب کے ساتھ زبردست عقیدت اور دلی وابستگی پائی جاتی تھی۔دوران حیات برگزیدہ صوفی شاعروں کا کلام سماعت فرمانا حضرت شمس فقیر ؒکے اہم ترین مشاغل میں شامل رہا کرتاتھا۔سب سے زیادہ آپ ؒ انیس ویں صدی کے معروف صوفی شاعرحضرت نعمہ صابؒ کے کلام سے فیض حاصل کیا کرتے تھے۔ نعمہ صابؒ کو شمس فقیرؒ اپنا رہبر مانا کرتے تھے ۔اُن کا کلام سماعت کرنے کیلئے شمس فقیرؒ میلوں کا سفر پیدل طے کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا کرتے تھے۔ مانا جاتا ہے کہ نعمہ صابؒ کی شخصیت اور اُن کے عارفانہ کلام نے ہی شمس فقیر کو شعرو سخن کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔شعر و شاعری کے میدان میں قدم رکھنے سے قبل شمس فقیرؒ نے وقت کے بعض کئی اہم صوفی بزرگوں کی صحبت اختیار کررکھی ہوئی تھی جن میں سوچھ ملیاری عبدالرحمان صاحب برزلہ عطیق اللہ صاحب گلاب باغ محمد جمال صاحب و غلام رسول صاحب سرینگر شامل ہیں۔ان بزرگان دین کو شمس فقیر ؒاپنا رہبرمانا کرتے تھے۔ان ہی بزرگوں کی پاک صحبت میں رہ کر شمس فقیر ؒ شعر و شاعری کے میدان میں ایک منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
شمس فقیر ؒ کا اسم شریف اصل میںمحمد صدیق بٹ صاحب تھا اور آپ کی ولادت باسعادت شہر سرینگر کے چینکرال محلہ علاقے میں رہائش پزیر ایک غریب اور ناخواندہ خانوادے میں 1843 ءمیں ہو چکی تھی ۔گھر کی ابترتعلیمی و مالی حالات کے پیش نظر آپ ؒ کوکبھی ژاٹہ ہال یا درسگاہ جانے کا موقع نصیب نہیں ہو پایا اسلئے آپؒ کو ظاہری صورت میں تعلیم و تربیت کی دولت سے بہرہ ور ہونے کا موقع نہیں مل سکا ۔ اپنے گھرپریوار کی مالی حالت سدھارنے اور رزق حلال کا انتظام کرنے کی غرض سے آپؒ کو محنت و مشقت کا راستہ اختیار کرنا پڑا ۔ مزدوری کا پیشہ اختیار کرنے کے سوااُن کے پاس کوئی دوسرا چارہ باقی نہیں تھا۔ مزدوری کے سلسلے میں آپ کو لگ بھگ 25 سال کی عمر میں ہی اپنا گھر بار اور وطن عزیز چھوڑ کرمتحدہ ہندوستان کے شمالی علاقہ جات کا رُخ کرنا پڑا کیونکہ کشمیر میں اُس زمانے میں ڈوگرہ راجا مہاراجاﺅں کی متعلق العنان حکومت کا دور دورہ تھااوریہ حکمران یہاں کے نوجوانوں یہاں تک کہ بزرگوں اور مستورات کو بھی بے گار پر لے جانے میں کوئی شرم یا حیامحسوس نہیں کیا کرتے تھے۔وہ ظالم حکمران کشمیری نوجوانوں سے جانوروں کی طرح مشقت کروانے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے ۔وہ جابر حاکم یہاں کے بد نصیب لوگوں سے بے حد و حساب کام تو کرواتے تھے لیکن بدلے میں پیٹ کی آگ مٹانے کیلئے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی ان بیچاروں کو فراہم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کیا کرتے تھے۔اسی وجہ سے یہاں کے نوجوان پڑوسی ملک ہندوستان کے مختلف شہروں خاص طور سے پنجاب کے امرتسرچندی گڑھ اور لاہور نامی زرعی طور آباد و خوشحال بستیوں کی طرف چار پیسہ کمانے اور پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر جوق در جوق جانے کیلئے بےتاب رہا کرتے تھے۔شمالی ہندوستان کے بعض شہروں میں ہمارے جدو اجداد کو بہ آسانی کام بھی ملا کرتا تھا اور مزدوری بھی اچھی خاصی ملاکرتی تھی۔
جانکار حلقوں اور تاریخ دانوںکے مطابق محمد صدیق بٹ(شمس فقیرؒ) کی حرکتیں تو بچپن سے ہی باقی بچوں کی حرکات سے بہت حد تک مختلف ہوا کرتی تھیں۔آپ ؒ کے خیالات احساسات اور جذبات باقی بچوں سے بلکل الگ تھلگ اور جُداگانہ نظر آتے تھے۔آپ تو زیادہ ترگُم سُم اور کھوئے کھوئے سے رہا کرتے تھے۔آپ کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کرنے کے دوران ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کا من خوابوں اور خیالوں کے ایک ایسے سمندر میں غوطہ زن ہوتا تھا جس سمندر کی سرحدیں آسمان کی گود میں سرَ رکھ کر کسی خاص دوست کی کھوج میں بے قرار سی رہا کرتی ہیں۔چونکہ جوانی کی د ہلیز پر قدم رکھتے ہی آپؒ کو معاش کی تلاش میںامرتسر کی راہ لینی پڑی لیکن وہاں پر بھی آپؒ نے بعض بزرگان دین کو اپنا دوست اور رہبربنا کے رکھ دیااور اُن کی نیک صحبت میں رہ کر گھیان دھیان حاصل کرتا رہا۔
امرتسر سے واپس لوٹ آنے کے بعد شمس فقیرؒ نے جنوبی کشمیر کے انت ناگ ضلع میں عارضی سکونت اختیار کی۔وہیں پر آپ ؒ نے اپنے آپ کو شادی کے پاک بندھن میں باندھ لیا ۔لیکن نہ جانے کیوں انت ناگ کا آب و ہواشمس فقیر ؒ کو زیادہ دیر تک راس نہیں آیا ۔آپ ؒ اپنی رفیق حیات کو ساتھ لیکر اپنے آبائی گھر واقع چینکرال محلہ حبہ کدل واپس تشریف لے کے آئے۔اس دوران ان کے پشت سے دو فرزندان ارجمند اور ایک دختر نیک اختر نے تولت ہونے کا شرف بھی حاصل کرلیا تھا۔اپنے آبائی گھر میں تشریف اشرف رکھنے کے دوران حضرت شمس فقیر ؒ فقیری اوردرویشی کے اعلیٰ مقام پر براجمان ہو گئے۔ آپ ؒ کے وجود میں تو اب دنیا اور دنیاداری کی کوئی رغبت باقی نہیں رہی۔آپ نے گھر گرہستی کی پریشانیوں اور مادی دنیا کی لذتوں سے ناطہ توڑ کر اپنے معبود برحق کی تلاش اوررضا حاصل کرنے کا مسمم اور مکمل ارادہ باندھ لیا۔اس اعلیٰ مقصد کی حصول یابی کیلئے آپ ؒ نے بڈگام ضلع کے قاضی باغ نامی گاﺅں میں موجود ایک قدیم ترین گھپا میں تشریف رکھ کرمکمل تنہا ئی اختیار کرلی۔مسلسل چھ ماہ تک اس تنگ وتاریک غار میں تن تنہارہتے ہوئے حضرت شمس فقیر ؒ کو اپنے خالق حقیقی کو قریب سے جاننے اور پہنچاننے کا موقع نصیب ہوااور آپ ؒ کوروحانیت کا اعلیٰ منصب حاصل ہوگیا۔روحانیت کے عالم میںآپ ؒ شاعری کی صورت میں علم و عرفان کے ایسے میٹھے دریا بہانے لگے جن دریاﺅں کے شیریں آب رواں نے آج تک نہ جانے کتنے مردہ دلوں کو حیات جاودانی سے سرفراز اور سرشار کرکے رکھ دیا ہے۔گھپا سے نکل کر آپؒ خانصاحب علاقے کے کلشی پورہ نامی ایک چھوٹے سے گاﺅں میں تشریف لے کے گئے اور وہیں پر اپنی زندگی کے آخری لمحات گزارنے کا فیصلہ کیا۔۱۰۹۱ءمیں ۸۵ برس کی عمر شریف میں آپؒ کلشی پورہ گاﺅں میں اللہ کو پیارے ہوگئے اور اسی گاﺅں میں ان کی آخری آرام گاہ فی الوقت موجود ہے۔ شمس فقیرؒ کے مرید اور عقیدت مندسال بھر کلشی پورہ میں واقع ان کے مزار پر حاضری دیتے رہتے ہیں اور وہاں پر اپنے پیر و مرشد کے ایصال ِثواب کیلئے قرآن خوانی ونعت خوانی کی محفلیں آراستہ کرتے رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شمس صاحب ؒکے دونوں فرزند لا ولد گزر چکے ہیں البتہ اُن کا نسب ان کی دختر نیک اخترکے راستے ہی آگے بڑتا چلا جارہا ہے۔مرحوم پیر محی الدین صاحب شمس فقیر ؒ کے گھر داماد تھے جبکہ مرحوم پیر مبارک صاحب مرحوم پیر محی الدین صاحب کے گھر داماد رہے۔ پیر محمد الطاف پیر محی الدین صاحب کے دوسرے فرزند ہیں جو فی الوقت شمس فقیرؒ کے آستان عالیہ پر سجادہ نشین کی حثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
حضرت شمس فقیر ؒ کا لگ بھگ دو تہائی کلام کلیات شمس فقیر میں موجود ہے۔اگر چہ ادارہ جموں و کشمیر کلچرل اکادمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز ابھی تک کلیات شمس فقیر ترتیب دینے اور شائع کرنے میں کامیاب نہیں ہوپایاتاہم یہ نیک کام وادی کے مایہ ناز ادباءڈاکٹر عزیز آفاق صاحب اور ڈاکٹر محفوظہ جان صاحبہ نے سر انجام دیکرعوامی و ادبی حلقوں سے داد تحسین حاصل کی ہے۔نند ریشی کلچرل سوسائٹی کو کلیات شمس فقیر شائع کرنے کا اعزازحاصل ہے۔
بہر حال شمس فقیر ؒ کا کلام وادی کے مشہور و معروف گلکار اپنی مدر لئے میں گانے میں فخر محسوس کر رہے ہیں۔آپ کا کافی کلام ریڈیو کشمیر اور دور درشن کیندر سرینگر کی میوزک لائبرریوں میں معروف گلو کاروں کی مُدر آوازوں میں موجود ہے جس کو یہ دونوں ادارے عوام کی دلچسپی کو ملحوظ نظر رکھ کر روزانہ اپنی نشریاتی سروسز سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہتے ہیں۔عصر حاضرکے نئے گلو کار حضرات بھی شمس فقیر کا کلام موسیقی کے نئے اور جدید سانچوں میں ڈالکر گانے میں خاص دلچسپی دکھا رہے ہیں۔بالی وُڑ کی مایہ ناز گلو کارہ آشا بھونسلے جی نے 60 کی دہائی میں شمس فقیر کا ایک مشہور کلام” ہا عشقہ ژھورو رشکہ کر?تھس دیوانہ تے ۔۔۔۔۔ پنُن ا<سِتھ چھوکھ ژ? لاگان بیگانہ تے “ریڈیو کشمیر کے سٹیڈیوز میں ریکارڑ کروا کے اس عالمی شہرت یافتہ شاعر کے تئیںاپنے خراج عقیدت کا اظہار کیا۔ بہر حال ہر برس 24۔ جون کو حضرت شمس فقیر کا عرس(یوم وصال) اُ ن کی آرام گاہ پر مذہبی عقیدے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جموں کشمیر کلچرل اکادمی محکمہ انفارمیشن سانگ اینڈ ڈرامہ ڈیویژن ریڈیو کشمیر سرینگر دور درشن کیندر سرینگراور دیگر ادبی و ثقافتی تنظیمیں باہمی اشتراک سے اس روز شمس فقیرؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے محفل سماع و محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ وادی کی معروف موسیقی پارٹیاں اس موقع پرشمس فقیرؒ کا کلام اُن کے عقیدت مندوں کے سامنے پیش کرکے اس برگزیدہ شاعر کواپنا والہانہ خراج پیش کرنے میں اظہار مسرت کرتے ہیں۔ امسال کی تقریب پر ثقافتی مرکز بڈگام کی طرف سے تین شاعری مجموعوں کی رسم رونمائی انجام دی گئی اور شعر و ادب سے وابسطہ بعض قلم کار حضرات کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ مکہ مدینس بر چھ وتھئے نیری لتئے روف کران دُورِ چھی ہران نورہ پھتئے نیری لتئے روف کران
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا12 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا8 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا15 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان12 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا7 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر6 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر6 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
