تازہ ترین
معصوم تابندہ غنی کی 13ویں برسی پر خراج عقیدت
اگردہلی کی نربھیا اور تابندہ غنی کا خون ایک جیسا پھر دُہرا معیار کیوں ؟
خبراردو:-
سرینگر:شمالی قصبہ ہندوارہ کے بٹہ پورہ لنگیٹ میں معصوم تابندہ غنی کی 13ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور لواحقین نے ملوث سزایافتہ ملزموں کو فوری طور پھانسی دینے کی مانگ کی ہے ۔ کے این ایس نمائندے کے مطابق13سال قبل وادی کو جھنجوڑنے والے تابندہ غنی عصمت دری وقتل معاملے کی متاثرہ بچی کے والد عبدالغنی نے کہاکہ میری معصوم بچی کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر تھوڑا سا اطمینان ملا کہ نربھیا کے بھی قاتلوں کو پھانسی دی گئی ہے اور اب میری بیٹی کے قاتلوں کو بھی پھانسی دےکر انصاف کے تقاضے پورے کئے جانے چاہئے ۔
نامہ نگار کے مطابق بٹہ پورہ لنگیٹ میں معصوم تابندہ غنی کی 13ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور محصوم کے آبائی مقبرہ میں فاتحہ خوانی اور دعائے مجلس کی تقریب کا انعقاد کیا گیا اور محصوم کے قبر پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے گئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق تقریبا برس قبل20جولائی2007کوآٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تابندہ غنی دختر عبدالغنی ساکنہ بٹہ پورہ لنگیٹ کی میت ایک باغ سے پُراسرار حالت میں برآمد کیا گیا تھا جبکہ مذکورہ کمسن طالبہ کو اس سے پہلے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا ۔
مذکورہ طالبہ دیگر 2بچیوں کے ساتھ دن کے ڈیڑھ بجے اسکول میں چھٹی ہونے کے بعد اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی لیکن راستے میں کچھ نامعلوم افراد نے اس کمسن طالبہ کو اغوا کیا اور یہ منظر دیکھ کر اس کے ساتھ آرہی دیگر2طالبات سخت خوفزدہ ہوکر وہاں سے چلی گئیں ۔
تابندہ غنی کے گھر والوں نے جب اپنی بیٹی کے بارے میں ان 2بچیوں سے جانکاری لینے کی کوشش کی توانہوں نے راستے میں پیش آئے واقعہ کی پوری کہانی سنائی ہے اس کے بعد تابندہ کے گھر والے اور دیگر لوگ اس کو ڈھونڈنے کے لئے چلے گئے لیکن کہیں اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل سکا تھا ۔
تاہم اسی دوران ایک شخص نے تابندہ تلاش کرنے کی کاروائی کی گئی ۔ اس دوران اےک درخت کے نزدیک تابندہ کی لاش گھاس بھوس کے نیچے پائی گئی جس کے اوپر مٹی ڈالی گئی تھی ۔ تاہم قاتلوں نے لاش بعض حصوں کو نہیں چھایا تھا جسکے نتیجے میں تابندہ کی لاش ڈھونڈنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی ۔
معاملہ پولیس کی نوٹس میں لایا گیا اور پولیس نے اس سلسلے میں کیس زیر نمبر152\2007زیر دفعہ302,376,34آر پی سی کے تحت درج کرکے تحقیقات شروع کردی جبکہ14سالہ تابندہ غنی کی نعش کا باضابطہ پوسٹ مارٹم کیا گیا ۔ اس دوران پوسٹ مارٹم رپورٹ اور طبی معائنے سے یہ منکشف ہوئی کہ دوران اغوا مذکورہ طالبہ کی عزت کو تار تار کیا گیا تھا ۔ ادھر جسٹس فار تابندہ فورم کے ترجمان عبدالمجےد شاہ کا کہنا ہے کہ13سال سے وہ انصاف کے طلب گا ر ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ 24اپرےل2015کوپرنسپل اےنڈ سےشنز جج کپوارہ نے چا ر ملزموں محمد صادق میر عرف سعدہ ژور،اظہار احمد مےر عرف بلا ساکنان لنگےٹ اور2غےر رےاستی مزدورجہانگےر انصاری ساکنہ مغربی بنگال اور سرےش کمار موچی ساکنہ مہاراشٹر شامل ہیں کو موت کی سزا سنائی جو حق و انصاف کی جےت ہے لےکن ابھی تک اس فےصلہ پر عملدرآمد نہےں ہوا ۔
انہوں نے کہا کہ اگر دہلی کی نربھےا کےس مےں ملوث مجرموں کو پھانسی دی گئی تو تابندہ غنی عصمت دری وقتل معاملہ کےس مےں ملوث مجرموں کو سزائے موت دےنے مےں تاخےر کےوں ہورہی ہے ۔ انہوں نے تابندہ غنی کی13وےں برسی پر مطالبہ کےا کہ مجرموں کے خلاف کپوارہ عدالت کے تارےخی فےصلہ کو عملاےاجائے تاکہ ہماری لاٖلی بےٹی واپس تو نہےں آئے گی بلکہ ہمیں یقین ہے کہ ایسے لاکھوں کی تعداد میں تابندہ جےسی بیٹیوں کو راحت واطمینان میسر ہوگا ۔
انہوں نے کہا ہماری خواہش ہے کہ تابندہ جےسی معصوم بیٹیاں بلا لحاظ مذہب وملت رنگ و نسل کرہ ارکے کسی بھی گوشے میں اطمینان سے رہ سکیں اورکوئی درندہ اُنکی میلی آنکھ سے دےکھنے کی جراءت بھی نہ کرسکے ۔ جسٹس فارتابندہ فورم نے تابندہ جان کی 13وےں برسی پر عدل وانصاف کے تقاضوں سے درمندانہ اپےل کی کہ مجرموں کے خلاف سیشن کورٹ کپوارہ کا تارےخی فیصلہ فلفور عملاےا جائے ۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر23 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا23 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
