تازہ ترین
پیر پنچال کے آر پار قہر انگیز مو سلا دھار بارشیں،ندی نالوں میں طغیانی
جموں،خطہ پیر پنچال میں سیلابی صورتحال پیدا،پانی وبجلی سپلائی متاثر
ایک شہری جاں بحق، درجنوں مویشی ہلاک،کئی ڈھانچوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان،کئی پل ڈھہ گئے،درجنوں زمینی رابطے منقطع
خبراردو:-
سرینگر:محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین کے مطابق پیر پنچال کے آر پار موسلا دھار روزہ بارشوں کا سلسلہ 25اور26اگست کی درمیانی رات سے شروع ہوا،جو بدھ کو وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا جسکے نتیجے میں طویل ترین خشک سالی کا موسم ختم ہوگیا۔تاہم موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں جموں اور خطہ پیر پنچال کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
اس دوران ندی نالوں میں طغیانی آنے، زمین دھنسنے،مٹی کے تودے گرآنے،چٹانیں کھسکنے،پسیاں گرآنے اور فلش فلڈ کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق ہوگیا جبکہ درجنوں مویشی بھی ہلاک ہوئے۔اس کے علاوہ کئی ڈھانچوں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔کئی پل ڈھہ جانے سے200دیہات کا زمینی را بطہ منقطع ہوگیا۔
کئی حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔دریں اثناء وادی کشمیر میں بھی بارشوں کے نتیجے میں سڑکیں پانی سے لبا لب ہوگئیں جبکہ دریاؤں اور ندی نالوں میں سطح آب میں تیزی سے اضافہ بھی ہورہا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر میں مغربی ہوائیں داخل ہونے کیساتھ ہی منگلوار اور بدھ کی درمیانی رات سے گرج چمک کیساتھ ساتھ تیز بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
بارشوں کے نتیجے میں جموں اور خطہ پیر پنچال بری طرح سے متاثر ہوا۔جموں:بارشوں کے نتیجے میں جموں میں جہاں درجنوں علاقہ زیر آب آگئے اور لوگوں کو عبور ومرور میں شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے۔جموں نامہ نگار کے مطابق شدید بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں آئی طغیانی کے سبب دراپ نالہ جموں پر تعمیر کئے گئے بابیاں پل صبح9بجکر30منٹ تیز پانی کے ریلے نے اپنے ساتھ بہا لیا۔
پل ڈھہ جانے کے نتیجے میں 200دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔مقامی لوگوں نے پل کی تعمیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’کس طرح کی انجینئر نگ کی گئی؟،چار۔پانچ برس قبل ہی اس پل کی تعمیر کی گئی تھی‘۔ادھر جموں کے کئی نچلے علاقے زیر آب آگئے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی۔نانا نگر،جیون نگر،چینانی راما،پمپوش کالونی،اور دیگر کئی علاقے زیر آب گئے جبکہ ان علاقوں میں کئی رہائشی مکانات اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا یا۔معلوم ہوا ہے کہ جموں کے کئی علاقوں میں پانی اور بر قی رو کی سپلائی متاثر ہوئی۔
کٹھوعہ میں پولیس نے15خانہ بدوش افراد کو اجھ دریامیں فلش فلڈ آنے کے بعد ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔پولیس نے بدھ کو کہا کہ کٹھوعہ ضلع میں سیلابی ریلوں کے بیچ پھنسے15افراد کو بحفاظت نکالا گیا ہے۔مختلف گھرانوں سے وابستہ یہ افراد ریائے اْجھ میں آئے سیلابی ریلوں میں پھنس کر رہ گئے تھے۔پولیس کو جونہی اطلاع ملی کہ کٹھوعہ کے راج باغ علاقے میں کچھ خانہ بدوش افراد، جو وہاں عارضی طور قیام پذیر تھے، سیلانی ریلوں میں پھنس گئے ہیں تو پولیس نے فوری بچاؤکارروائی ہاتھ میں لیکر پھنسے افراد کو، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں،محفوظ مقام تک پہنچایا۔جموں خطے کے کئی علاقوں میں زور دار بارشوں کے نتیجے میں سیلابی ریلے آئے ہیں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔
خطہ پیر پنچال:ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں ایک جواں سال شہری زمینی تودے کے نیچے آکر دفن ہوگیا جبکہ ایک علیحدہ واقعہ میں کئی مویشی ایک شیڈ کے نیچے آگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 35سالہ محمد شوکت ولد محمد حسین ساکن کالر مورا(مینڈھر) ایک زمینی تودے کے نیچے آکر دفن ہوگیا۔یہ تودہ کوٹلی کے گولر نارا ڈھوک علاقے میں شدید بارش ک وجہ سے گر آیا۔شوکت کی لاش مقامی لوگوں کے ہاتھوں بر آمد کی گئی ہے۔
مینڈھر کے ہی سانگیوٹ گاوں میں ایک علیحدہ واقعہ میں بدھ کی صبح مویشیوں کا ایک شیڈ ڈھ گیا جس کے نیچے کئی مویشی آگئے۔مقامی ذرائع کے مطابق کم و بیش چھ بھینسیں شیڈ کے ملبے کے نیچے دبی ہیں اور اْنہیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ادھر راجوری ضلع کے سکتوہ اور درہال علاقوں میں بدھ کی صبح شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی ریلے آنے سے کئی سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔
حکام کے مطابق راجوری میں شدید بارشوں کے نتیجے میں وہاں بہنے والے دو دریاوں کے پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی ہے۔حکام کے مطابق بد ھ کی صبح سالانی کے مقام پر، جہاں سکتوہ اور درہالی دریا ملتے ہیں،پانی سطح سیلاب کی حد تک بڑھ گئی۔حکام نے مزید کہا کہ ایسا گذشتہ چالیس برس میں وہاں پہلی بار ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی سطح میں اب بتدریج کمی ہورہی ہے تاہم اچانک آئے سیلابی ریلوں کی وجہ سے کئی پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔کئی سومو گاڑیاں نالے پار کے دوران سیلابی ریلوں میں پھنس گئیں،جو کے بعد یہاں ریسکیو آپریشنز بھی عمل میں لائے گئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز(منگلوار کے روز)ریاسی ضلعے میں ایک ہی کنبے کے تین افراد سمیت4افراد کی موت ہوئی تھی۔معلوم ہوا ہے کہ خطہ پیر پنچال کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بیچ پانی اور بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی۔اس دوران وادی کشمیر میں بھی بدھ کے روز وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔شہر میں کئی نشیبی علاقہ حسب سابقہ زیر آب آگئے جبکہ سڑکیں اور بازار پانی سے لبا لب ہو نے لوگوں کو عبور ومرور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا۔اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول کے مطابق دریائے جہلم میں بدھ کی دوپہر ایک بجے تک سنگم کے مقام پر3.76فٹ سطح آب تھی جبکہ سطح آب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
اس دوران محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گزشتہ4گھنٹوں کے دوران سرینگر میں صبح ساڑھے8بجے تک 0.4ملی میٹر بارش ہوئی تھی جبکہ قاضی گنڈ میں 1.8ایم ایم، پہلگام میں 11.0ایم ایم،جموں میں 18.0ایم ایم، بانہال میں 33.4ایم ایم بارشیں ہوئیں۔سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 220-.6ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جبکہ قاضی گنڈ میں 20.9، پہلگام میں 20.6، کپوارہ میں 21.0، کوکرناگ میں 22.5، گلمرگ میں 15.4ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ترجمان کے مطابق اسی طرح جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29.8، بانہال میں 21.4، بٹوت میں 20.8اور کٹرا میں 26.3ریکارڈ کیا گیا جبکہ بھدرواہ میں یہ درجہ حرارت21.2ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا24 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر24 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا24 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان1 day agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
