تازہ ترین
وادی کشمیر میں ٹھٹھرتی سردی کا راج برقرار
سری نگر میں 10برسوں میں سرد رات ریکارڈ
آبی ذخائر منجمد،پانی کی سپلائی متاثر،معمو لات زندگی متاثر،صحت ایڈ وائزری جاری
سرینگر: ہڈیوں کوپگھلانے والی ٹھنڈ اورصبح و شام بنانے والی دْھندکی وجہ سے شہرسرینگرسمیت پوری وادی میں معمول کی زندگی بْری طرح سے اثراندازہورہی ہے جبکہ مطلع ابر آلود رہنے اور گہری دھندرہنے کی وجہ سے وادی میں اوقات کاربھی کم ہوئے ہیں۔
ادھر دارالحکومت سرینگر میں 10برسوں میں سرد رات ریکارڈ کی گئی جبکہ ڈل جھیل سمیت دیگر آبی ذخائر منجمد ہونے سے پانی کی سپلائی متاثر ہورہی ہے جسکی وجہ سے لوگوں کو مشکلات ومسائل کا سامنا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی میں شدید سردی کی لہر اور صبح کے وقت گہری دھند کی صورتحال جاری ہے۔اس دوران مسافر بردار اور نجی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو لائٹس جلا کر سفر کرنا پڑا۔
صبح کے وقت گاڑیاں لیکر نکلنے والے عام لوگوں اور ڈرائیوروں نے بتایا کہ گہری دھند ہونے کی وجہ سے انہیں سفر کرنے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑااور اس دوران انہیں گاڑیوں کی وہ لائٹس چلانا پڑیں جو عمومی طور شام یا رات کے وقت استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ حالیہ کئی روزکی طرح ہی سنیچر کی صبح سرینگر شہر میں 10بجے تک اتنی گہری دھند تھی کہ سیول لائنز، شہر خاص اور دیگر علاقوں میں بہت ہی کم لوگ پیدل یا گاڑیاں لیکر اپنے گھروں سے نکلیں۔
شدید سردی اور گہری دھند ہونے کی وجہ سے سرینگر شہر میں پہلے ہی دن بھر کے اوقات کار میں کئی گھنٹوں کی کمی آچکی ہے اور لالچوک سمیت جو مصروف ترین بازار صبح8بجے کھلا کرتے تھے، اب10بجے تک بھی بیشتر دکانیں بند رہتی ہیں۔ وادی کشمیر میں جاری ریکارڈ ساز سردیوں سے جہاں ایک طرف معمولات زندگی متاثر ہونے لگے ہیں وہیں آبی ذخائر منجمد ہونے سے پانی کی سپلائی بھی متاثر ہورہی ہے۔گرمائی دارلحکومت سری نگر میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب رواں موسم کی سرد ترین شب رہی۔
سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.6 ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا۔سرینگر گزشتہ ایک دہائی میں یہ کم سے کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔سرد ترین خطہ لداخ کے قصبہ دارس میں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 29.0 ڈگری سیلسیش گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔سائبریا کے بعد دراس دنیا کا سرد ترین خطہ کہلا یا جاتا ہے،یہاں منفی60ڈگری سیلسیش درجہ حرارت گر تا ہے۔محکمہ موسمیات کے بعد سال2010کے بعد یہاں اتنا کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔27دسمبر2010میں برابر کم سے کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا،27دسمبر2018میں منفی7.7کم سے کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔7دسمبر1990میں کم سے کم در جہ حرارت منفی8.8ریکارڈ جبکہ 1984میں یہں کا کم سے کم درجہ حرارت منفی12.8ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ مو سمیات کے مطابق دسمبر میں یہ درجہ حرارت معمو ل کے درجہحرارت سے 5ڈگری کم ہے۔سکی ریزاٹ گلمرگ میں رات کا درجہ حرارت منفی9.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔پہلگام میں رات کا درجہ حرارت منفی9.5ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا۔گیٹ وے آف کشمیر میں رات کا درجہ حرارت منفی 5.9ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا۔سرحدی ضلع کپوارہ میں منفی6.0ڈگری سیلسیش درج کیا گیا۔کوکر ناگ میں منفی6.0ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا۔
ادھر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں 20 دسمبر کو موسم کروٹ بدل سکتا ہے جس کے پیش نظر کہیں کہیں ہلکے درجے کا برف و باراں متوقع ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مطلع ابر آلود رہنے کی صورت میں کم سے کم درجہ حرارت میں قدرے بہتری واقع ہونے کی توقع ہے۔وادی کشمیر میں جاری شدید سردی کے پیش نظر ڈاکٹروں نے لوگوں بالخصوص عمر رسیدہ افراد کو حد درجہ احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
انہوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ صبح اور شام کے وقت گھروں سے باہر نکلنے میں احیتاط کریں اور اگر مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر نکلنا پڑے تو اپنے آپ کو پوری طرح سے گرم لباس میں ڈھانپ کر ہی نکلیں۔اس دوران پانی کی سپلائی متاثر ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا جبکہ بجلی ٹرانسفارمر خراب ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔(کے این ایس)
جموں و کشمیر
صرف بی جے پی ہی نہیں، یو پی اے نے بھی ریاستوں کے حقوق کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا: عمر عبداللہ
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ریاستوں کے اختیارات کو کمزور کرنے کی ذمہ دار صرف بی جے پی نہیں ہے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ مرکز میں یو پی اے سمیت سابقہ حکومتوں نے بھی اختیارات کی تدریجی مرکزیت میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
عمر عبداللہ جھارکھنڈ میں طالب علموں کے جاری احتجاج اور حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے فیصلے سے متعلق ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر طالب علموں کے مطالبات جائز پائے جائیں تو بات چیت جاری رہنی چاہیے۔
انہوں نے سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر طالب علموں کے مطالبات درست ہیں تو ان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے۔ اگر وہ جائز نہیں ہیں تو یہ بات واضح طور پر کہہ دینی چاہیے۔ لیکن اگر مذاکرات کا ایک دور پہلے ہی ہو چکا ہے اور دوسرے دور کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے مطالبات میں کچھ سچائی ضرور ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف جھارکھنڈ تک محدود نہیں ہے اور انہوں نے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے متعلق اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرنے کے لیے اس موقع کا استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال وہ موضوعات ہیں جو ریاستوں کے زمرے میں آتے ہیں اور انہوں نے ریاستوں کے اختیارات کو تدریجی طور پر کم کرنے پر مسلسل مرکزی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف بی جے پی کا قصور نہیں ہے۔ سابقہ کانگریس اور یو پی اے حکومتوں نے بھی ریاستوں کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
نیٹ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے دلیل دی کہ اداروں اور امتحانات کی بڑھتی ہوئی مرکزیت نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم کو دھندلا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امتحانات ریاستوں کے دائرہ اختیار میں رہتے تو جواب دہی مرکزی حکومت کے بجائے متعلقہ ریاستی حکومتوں کی ہوتی۔
اختیارات کی واضح تقسیم کا مطالبہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستوں کو ریاستی موضوعات کا انتظام سنبھالنے کی اجازت ہونی چاہیے، جب کہ مرکز کو اپنے دائرہ اختیار کے معاملا ت پر توجہ دینی چاہیے۔
سرینگر میں اپنے یوم آزادی کے خطاب میں عمر عبداللہ نے نیٹ اور جے ای ای جیسے اہم امتحانات کا کنٹرول ریاستوں کو واپس دینے کا مطالبہ کیا تھا-
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ اور طارق قرہ نے بی جے پی کے ’وندے ماترم‘ احتجاج کو مسترد کر دیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق قرہ نے ’وندے ماترم‘ کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف بی جے پی کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس اس معاملے پر پہلے ہی اپنی پوزیشن واضح کر چکی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یومِ آزادی کی تقریب کی ویڈیوز سے واضح ہے کہ ’وندے ماترم‘ کے تینوں بند گائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے تقریب کی ترتیب میں تبدیلی کی وجہ سے کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہو۔ دوسری جانب طارق قرہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی ’وندے ماترم‘ کے معاملے کو ملک کو درپیش اہم مسائل، جن میں نیٹ امتحان کے پرچے کے افشا ہونے کا معاملہ اور دیگر تنازعات شامل ہیں، سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
بی جے پی نے نئی دہلی میں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران قومی گیت ’وندے ماترم‘ کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف کانگریس کے سینئر رہنماؤں، بشمول سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کانگریس کی تقریب کی ویڈیوز سے واضح ہوتا ہے کہ ’وندے ماترم‘ کے تینوں بند گائے گئے تھے۔
بی جے پی کے احتجاج کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہا، کانگریس نے خود بھی اس کی وضاحت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو دیکھیں، وہاں وندے ماترم کے تینوں بند گائے گئے تھے۔ تو پھر یہ تنازع کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کچھ غلط فہمی اس لیے پیدا ہوئی ہو کیونکہ یومِ آزادی کی تقریب میں پہلی مرتبہ ’وندے ماترم‘ کو شامل کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ 15 اگست کو یہ میری آٹھویں پریڈ تھی، لیکن پہلی بار وندے ماترم کو اس میں شامل کیا گیا۔ اسے سمجھنے میں مجھے بھی کچھ وقت لگا…”
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ کانگریس کے رہنماؤں کو بھی شاید پروگرام کی نئی ترتیب کے مطابق خود کو ڈھالنے میں کچھ وقت لگا ہو۔
انہوں نے کہا، “شاید کانگریس کو بھی خود کو اس کے مطابق ڈھالنے میں کچھ وقت لگا۔ ایسا ہوتا ہے۔”
جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق قرہ نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ ’وندے ماترم‘ کے تنازع کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرکے ملک کے اہم مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
قرہ نے کہا کہ بی جے پی ’چندہ چوری‘ اور نیٹ امتحان کے پرچے کے افشا ہونے جیسے معاملات سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔
قرہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہا،”اس احتجاج کے پیچھے دو یا تین وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ملک میں بی جے پی کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضی ہے۔ چاہے یہ ’چندہ چوری‘ کا معاملہ ہو یا نیٹ کے پرچے افشا ہونے کا، ملک بھر کے نوجوانوں اور طلبہ میں غصہ پایا جاتا ہے۔”
کانگریس رہنماؤں کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کی بے حرمتی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “بے حرمتی کی کوئی بات ہی نہیں ہے” اور الزام لگایا کہ ویڈیو کا ایک غلط ورژن گردش کرایا جا رہا ہے۔ مسٹر قرہ نے کہا کہ کانگریس اس معاملے پر پہلے ہی اپنی پوزیشن واضح کر چکی ہے اور بی جے پی جس ویڈیو کو بنیاد بنا رہی ہے، وہ “توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا” ورژن ہے، جسے پارٹی تسلیم نہیں کرتی۔
قرہ نے مزید کہا، “اس وقت یہ توجہ ہٹانے کی حکمت عملی صرف بی جے پی کی مایوسی کو ظاہر کرتی ہے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
میر واعظ کا نظر بندی کا الزام، اقدام کو ’بدقسمتی اور شرمناک‘ قرار دیا
سری نگر، کشمیر کے مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق کو پیر کے روز مبینہ طور پر ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا، جس کے باعث وہ سری نگر کے قدیم شہر میں واقع تاریخی حضرت خواجہ نقشبند صاحب کی درگاہ پر منعقد ہونے والی سالانہ ’خواجہ دگر‘ اجتماع سے خطاب نہیں کر سکے۔
میر واعظ نے کہا کہ ایک بار پھر انہیں وہاں روحانی طور پر پُرسکون کرنے والے مذہبی اجتماع میں شرکت کے لیے بے صبری سے انتظار کر رہے دسیوں ہزار لوگوں سے خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اس الزام پر لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ جموں و کشمیر میں امن و قانون کی ذمہ داری لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔
میر واعظ نے کہا کہ پابندیوں کے باعث وہ صدیوں پرانے مذہبی اجتماع میں روایتی خطبہ دینے اور نماز ادا کرنے سے محروم رہے۔
میر واعظ نے ایکس پر کہا، “میر واعظ کی حیثیت سے مجھے مذہبی اجتماعات سے خطاب کرنے سے روکنا، میرے سیاسی نظریات اور عوام کے سماجی و مذہبی مسائل اٹھانے کی سزا دینا، حکمرانوں کی اب معروف جابرانہ ذہنیت کی عکاسی تو کرتا ہی ہے، لیکن کم از کم اتنا ضرور ہے کہ یہ بدقسمتی اور شرمناک ہے۔”
انہوں نے مزید کہا،”اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکام مسلمانوں کے مذہبی حقوق اور مذہبی رسومات کے تئیں مسلسل بے حسی اور بے احترامی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہیں خطبہ سننے اور روحانی تجربے میں شرکت کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر مسلسل خاموشی مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو دبانے کے عمل کو معمول بنانے کا باعث بنے گی۔”
میر واعظ نے منتخب حکومت سے اپیل کی کہ وہ کشمیر اور جموں میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ کرے اور اس معاملے میں حکام سے مداخلت کرے۔
میر واعظ نے کہا،”سب کی، بالخصوص منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وادی کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ کرے اور بااثر قوتوں کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرے۔”
گزشتہ چند دنوں میں یہ دوسری مرتبہ ہے جب میر واعظ کو مبینہ طور پر گھر میں نظر بند کیا گیا ہے۔ 14 اگست کو میر واعظ نے کہا تھا کہ انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کر سکے تھے۔ دریں اثنا، سینکڑوں عقیدت مند نقشبند صاحب کی درگاہ پر جمع ہوئے اور نماز ادا کی۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 week agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا7 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 week agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
ہندوستان4 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا7 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
