تازہ ترین
خلیج کے سبزہ زار اب سرسبز نہیں
سمیرہ بی ریشی

2008 میں جب خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آگئی تو دنیا بھر میں بنک بحران کا شکار ہوئے اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں محنت کش طبقہ بھی اس اثر سے نہ بچ سکا۔ تجارت کے تنزل سے پانی کی سطح پر پیدا ہونے والی ننھی ننھی لہروں کی مانند اس کا اثر پورے خلیج میں پڑگیا اور روزگار کا مارکیٹ متاثر ہونے سے قیمتیں آسمان کو چھو گئیں۔ بہت سارے لوگ جو نمکین سمندر پار کرکے خلیج پہنچ گئے اور وہاں موجود بہتات میںوسائل سے فائدہ اٹھانا چاہا لیکن پھنس گئے اور اب یہ مواقع اور جوکھم سے بھری سرزمین ان کے رہنے کیلئے باعث کشش نہیں رہی۔ گھر وہاں ہے جہاں دل ہو اور دل وہاں ہے جہاں آپ کی بنیادی ضرورتیں مطمئن کرتی ہوں۔ موجودہ منظرنامہ میں کام کرنے والے افراد گھر اور بیرون ملک کے درمیان سینڈ وچ کی مانند محسوس کرتے ہیں۔ کام کرنے والے افراد کیلئے ملک نے ٹیکس سے مستشنیٰ تنخواہ، روزگار کے وسیع مواقع اور زندگی بسرکرنے کیلئے اعلیٰ معیار مہیا رکھا تھا لیکن ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) متعارف کرنے سے محنت کشوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور VAT سے جائیداد سیکٹر میں غیر یقینی کا ماحول پیدا ہوگیا اور بروکر جے جے ایل مینا کے مطابق 2018میں اس میں کمی آنے کی امید ہے۔ عربین بزنس ڈاٹ کام کی گہرائی سے کی گئی تحقیق کے مطابق خلیج میں زیادہ آزاد خیال اور اعلیٰ معیار کی زندگی بسر کرنے والے متحدہ عرب امارات میں محنت کش طبقہ یا تو اپنی مرضی سے یا پھر دیگر وجوہات یا معیشت میں غیر یقینی کے سبب ملک چھوڑ رہے ہیں۔ زندگی گزارنے کیلئے آسمان کو چھوتی قیمتیں، افرادی قوت کو قومیانے اور لگاتار تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کام کرنے والے افراد وہاں سے نکل رہے ہیں۔
دراصل پورا خطہ گھبراہٹ میں غوطہ زن ہے اور محنت کش طبقہ متحدہ عرب امارات اس وجہ سے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہاں قیام پذیر رہنا کافی مہنگا ہوگیا ہے اور ملازمت کا عدم تحفظ ہے۔ حالات اس قدر ہیں کہ کام دینے والی کمپنیاں کم تنخواہوں پر ملازمین کو بھرتی کررہی ہیں اور وہ دن کب کے گزر گئے جب بھاری تنخواہیں دی جاتی تھیں جبکہ زیادہ تر کمپنیاں سمٹ رہی ہیں۔
بزنس عرب ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے ملک کی شرح کی ترقی کی گراوٹ 2015 میں 3.9سے 2016میں 2.4 ہونے کی بات کہی ۔ حالانکہ یو اے ای کی ترقی کی شرح دیگر خلیجی ممالک سے زیادہ ہے جس کاانحصارتیل پر ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کا جی ڈی پی 2016میں 0.8فیصد کی امید تھی۔خطہ میں اقتصادی مندی کا اثر پورے خلیج میں دیکھا جاسکتا ہے اور یو اے ای اس سے کیسے مستشنیٰ رہتا۔ ہنر مند محنت کش طبقہ نےتیل اورگیس، بینکنگ یا مالیاتی سیکٹر میںکام کیا ہے، اب روزگار کے بازار کی حالت ڈھانوا ڈھول ہے، ایک دفعہ جب نوکری چلی گئی تو چشم زدن میں نئی نوکری ملنا بہت ہی مشکل ہے۔ قریب 40لاکھ بیرون ملک کے لوگ 260,000 نجی کمپنیوںمیں کام کررہے ہیں۔
غیر ملکی کام کرنے والوں کی بھاری تعداد کی آمد سے اقتصادی ترقی میں اضافہ 70کے اوائل کی دہائی میں تیل کی آمدن کے ساتھ منسوب کی جاسکتی ہے۔ تیل کی دریافت کے بعد مقامی مزدوروں سے ضرورت پوری نہیں ہوسکتی تھی اس لئے غیر ملکی مزدوروں کی ضرورت پڑ گئی۔ برسوں سے اقتصادی ترقی کا دارومدار بغیر تیل کے سیکٹر اورکم اجرتوں کے غیر ملکی مزدوروں پر ہے جن کی کم تنخواہیں ہیں جو ایشیائی ممالک سے تعلق رکھتے ہیںجہاں مزدوروں کی بہتات ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے متحدہ عرب امارات اعلیٰ معیار حیات اور نوکریاں ڈھونڈنے کیلئے عارضی مزدوروں کی پسندیدہ جگہ بن گئی ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق 2013میں یو اے ای میں دنیا کا پانچواں بین الاقوامی مہاجر محنت کش طبقہ جوکُل آبادی 9.2ملین میں 7.8ملین تھا اور اس اعداد و شمار کے مطابق امارتیوں کی تعداد11فیصدتھی۔ اکثر ان مہاجر مزدوروں کا تعلق بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، فلپائن، سری لنکا اور نیپال سے ہے اور یہ تعداد یو اے ای کے نجی افرادی قوت کا90فیصد ہے۔ سیاسی استحکام، جدید بنیاڈی ڈھانچہ اوور اقتصادی ترقی کے سبب متحدہ عرب امارات اب اعلیٰ اور ادنی ہنرمندمہاجر محنت کشوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کیلئے پوری طرح سے غیر ملکی محنت کشوں پر منحصر ہے اور کام کرنے والے افراد ماضی میں اونچی تنخواہوں اور اعلیٰ معیار زندگی کی خاطر کھیچے چلے آتے تھے۔ 70کی دہائی کے اوائل میں جب پیٹرولیم کا بازار پھل پھول رہا تھا اور پیٹرو ڈالر کی بازاروں پر حکمرانی تھی، یو اے ای حکومت نے عارضی کام کرنے کا پروگرام متعارف کرایا جسے ’کفالہ سپانسرشپ نظام‘ کہا گیا اوراس نظام کے تحت نجی کمپنیاں غیر ملکی محنت کشوں کی خدمات حاصل کرتے تھے۔ کفالہ ’سپانسرشپ‘ نظام کے تحت بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عربیہ اور متحدہ عرب امارات (متحدہ طور پر ’دی گلف کوآپریشن کونسل یا (GCC)کام کرنے والے افراد مالکوں کے ساتھ بندھے ہوئے تھے، وہ نوکریوں کو چھوڑ نہیں سکتے یا کچھ معاملات میں وہ مالکوں کی اجازت کے بغیر ملک بھی نہیں چھوڑ سکتے جبکہ کئی محنت کشوں کے پاسپورٹ بھی وہ اپنے قبضے میں رکھتے ، حالانکہ یہ غیر قانونی ہے۔
روزگار کا بازار ا لڑکھڑانے کے باوجود بھی متعدد لوگ یو اے ای میں اپنی قسمت آزمانے کیلئے جاتے ہیں،کثیر عوام کیلئے من پسند منزل ۔ ۔۔ خلیج فارس اب چمک دھمک کھو بیٹھا ہے۔ وقت اب بدل چکا ہے، کمپنیاں اب ان لوگوں کی خدمات حاصل کررہی ہیں جو کم تنخواہ مانگے اور زیادہ کام کریں، اگر آپ نہیں تو اور لوگوں کو اونے پونے داموں کے عوض نوکریاں دی جائینگی۔محنت کشوں (ہنرمند یا غیر ہنرمند) کیلئے خوابوں کی منزل یو اے ای اب آنے والوں کیلئے دعوت دینے والا نہیں رہا جبکہ اس کی اب اتنی چمک دھمک نہیں رہی۔ اپنے گھروں کوچھوڑ کربہتر زندگی کی تلاش میں دور خلیج فارس میں وہ مکمل طور پر ناامید محسوس کررہے ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے سبب محنت کش طبقہ اپنی ضروریات پوری نہیں کرپاتا ہے اور وہ خوابوں کی منزل کو چھوڑ رہے ہیں۔ محنت کشوں کے آنے اور جانے کے سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں تاہم ایک امیگریشن سروس فرم ’فریگامون‘ کے مطابق 2015اور 2016کے درمیان ریذڈنسی ویزا منسوخ کرنے میں اضافہ ہوا ہے۔ فرم کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2015میں 31فیصدجبکہ 2016میں48فیصد ویزا منسوخ کئے گئے۔
فرم کے مطالعہ کے مطابق کچھ صنعتوں میں لوگوں کے چلے جانے سے یو اے ای بازار اب سست اور تعطل کا شکار ہوگیا ہے جبکہ نئے آنے والے ان کی جگہ لیتے ہیں۔2016کے پہلے اوائل میں بھرتی عمل 2فیصد پر اَٹک گئی اور اگر تیل کی قیمتیں فی بیرل55ڈالر تک پہنچ جاتیں تو 2017میں یہ 2سے 3فیصد بڑھنے کی امید تھی ، گیس اور تیل سیکٹروں کا خاتمہ پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔
گذشتہ2برسوں کے دوران تیل سے جڑے افرادی قوت میں50سے60فیصد کمی آئی ہے لیکن اس سے منسلک خدمات میں گزشتہ برس بہتری ہوئی ہے۔ اتناہی نہیں بلکہ بنکنگ میں بھی 2016میں افرادی قوت 10سے 15فیصد تک سکڑ گئی ہے اور مینوفیکچرنگ، تیل اور گیس خدمات میں بھی کام کرنے والوں کی تعداد میں2سے3فیصد کم ہوئی ہے۔ یو اے ای میں اشتہاری ایجنسی ’مرفی ایڈس‘ کے مطابق اشیائے خوردنی، کاشتکاری ، ایروناٹیکل اینڈ ٹیکنالوجی سیکٹر بہتر کام کررہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے آئیل اینڈ گیس، تعمیرات اور اس سے منسلک صنعتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ابو دہبی کی نیشنل آئیل کمپنی (ADNOC) کو 2016کے آخر میں55ہزار عملے میں سے 5ہزار کی کمی کرنا پڑی۔ قطر میں’ قطر پیٹرولیم ‘ نے امسال 1ہزار غیر ملکی کام کرنے والوں کو نکال دیا جبکہ ٹی وی چینل الجزیرہ نے اپریل میں امریکہ میں نشر ہونے والی چنل کے500عملے کو نکال دیا جن میں سے اکثریت دوحہ میں تھی۔
یو اے ای میں بازار سکڑ اور سمٹ رہا ہے لیکن کمپنیاں بیرون ملک کے کام کرنے والوں کی خدمات حاصل کررہی ہیں اور یہ رجحان متواتر جاری ہے۔ بھرتی کرنے والی ویب سائٹ Bayt.com نے کہا ہے کہ یو اے ای میں26فیصد نے کنزیومر کانفڈنس انڈکس سروے کاردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ2016میں ملک کی معیشت بہتر ہوئی ہے جبکہ 48فیصد کو امید ہے کہ اس میںمزید بہتری آئے گی۔ بازار کے چند ماہرین کو امید ہے کہ دوبئی ایکسپو2020وہ کنجی ہے جس میں روزگار میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔یو اے ای میں منعقد ہونے والی اس زبان زد عام تقریب سے تعمیری پروجیکٹوں کو بڑھاوا ملنے سے 277,000 نئی نوکریاں بننے میںمدد مل جائیگی۔
تاہم ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں بڑے پیمانے پر محنت کشوں کے چلے جانے کا یقین نہیں ہے، ان میں دبئی میں ایک بانی گروپ ’رادھا سٹرلنگ ‘ ہے۔ سٹرلنگ کے مطابق ، ان کے گروپ کو ابھی تک یہ اطلاع نہیں ملی ہے کہ Expats یو اے ای چھوڑنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ لوگ متحدہ عرب امارات کو چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ گھر جاکر وہاں کی حالت اس سے بھی بدتر ہے اور کچھ حد تک سٹرلنگ کاکہنا بھی ٹھیک ہے۔ گھرجاکر وہاں نوکریاں ملنا آسان نہیں ہے لیکن کشمکش جاری رہتی ہے اور وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جن میں صلاحیت ہوتی ہے، یہ ڈارون کا اصول ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یو اے ای میں رہنے والے لوگوں کیلئے ماحول اچھا اور محفوظ ہے لیکن لوگوں اور خاص کر محنت کش طبقہ میں روزگار کی ضمانت پر موجود خدشات ان کے ذہنوں میں گھوم رہے ہیں۔ آج کا دن گزر گیا لیکن آنے والے کل کے بارے میں بے چینی ہوتی ہے۔ یو اے ای کی کمپنی میں ایک کام کرنے والے نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں یہاں بہت خوش ہوں، مجھے کمپنی کی طرف سے رہائش میسر ہے اور اچھی بچت بھی ہوتی ہے لیکن کل کے بارے میں کوئی نہیں جانتا، وہ کسی بھی وقت مجھے نکال کر دوسرے شخص کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں‘۔
سارا خان ہر روز گھر سے رسمی لباس ، کھلے بال اور اچھا میک اپ کرکے نکلتی ہے، جونوکری کیلئے ضروری ہے اور وہ اچھا خاصا کماتی ہے اور یو اے ای میں وہ خوش ہے۔ تاہم اسے آنے والے دنوں کے بارے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ سارا خان کی آنکھوں میں عجیب خوف ہے اور ہر ایک دن اس کیلئے نیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ساڑھے 3بجے مجھے اطمینان ہوتا ہے کہ میری نوکری محفوظ ہے لیکن اگلے دن برطرفی کے ڈراونے خواب جیسے سایہ کی طرح موجود ہے، گھر کی واپسی پر وہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں۔
تمام غیر یقینیت اورکمزور معیشت کے باوجود بھی طبی شعبہ ترقی کررہا ہے۔ دبئی میں ڈاکٹروں کی بھرتی کرنے والی باڈی کے سی ای او کنیز نباجی کے مطابق 2014اور 2016کے درمیان اس کے کام میں50فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس اضافہ کی وجہ حکومت کا شعبہ صحت کی صنعت میں بھاری سرمایہ کاری ہے اور نئے ہسپتال اور کلنک تعمیر ہو رہے ہیں۔ انگلینڈ، امریکہ اور بھارت سے ڈاکٹروں کیلئے یو اے ای دل لبھانے والی تنخواہیں اور مراعات فراہم کرتا ہے۔ بھارت کے زیادہ سے زیادہ لوگ متحدہ عرب امارات میں تجارت کرنے کے خواہاں ہیں۔ انڈین بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل (IBPC)کے صدر کلونت سنگھ کے مطابق متحدہ عرب امارات کچھ بھارتی تاجروں کیلئے آخری نقطہ ہے اور 2016میں ممبر شپ 10سے12فیصد بڑھ گئی ہے۔ عربین بزنس ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’میں جانتا ہوں کہ معیشت لڑکھڑا رہی ہے لیکن یہ دنیا بھر کا معاملہ ہے، اگر آپ کسی ملک سے نکل جائینگے تو دوسری جگہ پر آپ کی حالت اس سے بدتر ہوگی‘۔
تمام مشکلات اور پُرخطر روزگار کے بازار ، ہنرمند اور غیر ہنر مند افراد ،مواقع کی اس سرزمین یہاں پھر بھی آتے ہیں اُسی طرح جس طرح ایک پیاسا کوا پیاس بجھانے کیلئے باغ میں گیا۔ اس وقت خلیج میں حالات مختلف ہیں، تیل کی قیمتوںمیں غیر یقینی اور امارات نے روزگار میں عدم تحفظ بنایا ہے، اس سے ان کے خواب تباہ کئے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ جہاں سے وہ آئے ہیں، وہ وہی چلے جائیں۔
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
