دنیا
خامنہ ای کے بعد: خلیجی ہلچل، عالمی خطرات اور بھارت کے مفادات
امریکا–اسرائیل کے ایک مشترکہ فوجی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت نے پورے خلیج فارس کو ایک بڑے بحران میں دھکیل دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے بھڑک اٹھنے اور وسیع پیمانے پر عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں 86 سالہ شیعہ سپریم لیڈر کی ہلاکت نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاسی صورتحال بلکہ وسیع تر مسلم دنیا کے لیے بھی سنگین مضمرات پیدا کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے سیاسی اور معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ گہرے مذہبی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای گزشتہ 35 برس سے زائد عرصے تک ایران کی فوج، عدلیہ اور خارجہ پالیسی پر حتمی اختیار رکھتے تھے۔ ان کی وفات سے ایک بڑا اقتدار کا خلا پیدا ہو گیا ہے کیونکہ تاحال کسی باضابطہ جانشین کا اعلان نہیں کیا گیا۔ عبوری طور پر ایک گورننگ کونسل — جس میں صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کا ایک رکن شامل ہے — نے نئی قیادت کے انتخاب تک انتظام سنبھال لیا ہے۔
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے جمہوریہ کی تاریخ کی “سب سے تباہ کن جوابی کارروائی” کا اعلان کیا ہے۔ ایران پہلے ہی قطر، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں اور دیگر اہداف پر میزائل حملے کر چکا ہے۔
یہ بحران عالمی توانائی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز — جہاں سے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے عالمی تیل کا تقریباً ایک تہائی گزرتا ہے — میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ حملے کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے۔
رمضان کے دوران اس واقعے نے ایک اہم مذہبی پہلو بھی اختیار کر لیا ہے۔ مقدس مہینے میں آیت اللہ کی ہلاکت “روحِ بدر” کی یاد تازہ کرتی ہے، جو تاریخِ اسلام کی ایک اہم فتح کا حوالہ ہے۔ اس سے مسلم دنیا میں یکجہتی اور مزاحمت کے جذبات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
یہ واقعہ حضرت امام علیؓ کی شہادت کے ایام کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے، جو رمضان کے دوران نماز کی امامت کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔
دنیا بھر میں شیعہ مسلمانوں کی تعداد تقریباً 20 سے 26 کروڑ کے درمیان ہے، جو عالمی مسلم آبادی کا 10 سے 15 فیصد بنتے ہیں۔ بھارت میں شیعہ آبادی کا تخمینہ 3 سے 5 کروڑ کے درمیان ہے، جو ملک کی مسلم آبادی کا تقریباً 15 سے 20 فیصد ہیں، اور لکھنؤ، حیدرآباد، ممبئی اور کشمیر میں نمایاں طور پر آباد ہیں۔
کربلا (عراق) اور جموں و کشمیر میں شیعہ برادری کی جانب سے سوگ اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سری نگر اور بدگام اضلاع میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور مجالسِ عزا منعقد ہوئیں۔ تاہم دنیا کے بعض حصوں میں ایران مخالف حلقوں نے اسے “مذہبی حکومت سے نجات” قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار بھی کیا۔
اگرچہ خامنہ ای کی ہلاکت پر وسیع پیمانے پر مذمت سامنے آئی ہے، مسلم دنیا اس معاملے پر منقسم نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ انہیں رمضان میں شہید ہونے والا رہنما قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے ایرانی عوام کے لیے ایک نئے دور کے آغاز کا موقع سمجھتے ہیں۔
ایران نے 40 روزہ سوگ اور سات سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا ہے، جبکہ عالمی برادری ایک بڑے علاقائی تصادم کے خدشات سے دوچار ہے۔
چند ماہ قبل عوامی احتجاج کا سامنا کرنے والی ایرانی قیادت کو اس واقعے کے بعد عوامی ہمدردی کی نئی لہر مل سکتی ہے۔
ایران کی انقلابی گارڈز نے خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج کی تاریخ کی “سب سے بھاری جوابی کارروائیاں” جلد شروع کی جائیں گی۔ ایرانی حکومت نے اس قتل کو “عظیم جرم” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ہرگز جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا اور یہ اسلامی دنیا کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا۔
سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) نے کہا ہے کہ آیت اللہ کی ہلاکت “عالمی ظالم قوتوں کے خلاف ایک عظیم بغاوت کا آغاز” ثابت ہوگی اور ایران اور اس کے اتحادی پہلے سے زیادہ مضبوط اور پُرعزم ہو کر ابھریں گے۔
عالمی اثرات کے علاوہ اس واقعے کے بھارت کے لیے بھی اہم معاشی، تزویراتی اور داخلی مضمرات ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل کے چند دن بعد ایران پر حملوں نے داخلی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
معاشی اور توانائی کے نقطۂ نظر سے، آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے بھارت کا درآمدی بل بڑھے گا، روپیہ کمزور ہوگا اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مالی سال 2024–25 میں تقریباً 1.68 ارب امریکی ڈالر کی دوطرفہ تجارت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ چاول، چائے اور ادویات برآمد کرنے والے تاجروں کو خدشہ ہے کہ جہازرانی کے راستے کیپ آف گڈ ہوپ کے ذریعے تبدیل کرنے کی صورت میں 15 سے 20 دن کا اضافی وقت اور اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
چابہار بندرگاہ اور انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو گیا ہے۔ یہ منصوبے وسطی ایشیا اور افغانستان تک بھارت کی تزویراتی رسائی کے لیے نہایت اہم ہیں، جو پاکستان کو بائی پاس کرتے ہیں۔
بھارت نے باضابطہ طور پر “زیادہ سے زیادہ تحمل” اور مذاکرات کی بحالی کی اپیل کی ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر خلیجی ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں۔
یہ مضمون یو این آئی سے وابستہ رمیش بھان نے تحریر کیا ہے اور اس میں پیش کیے گئے خیالات مصنف کے ذاتی ہیں۔
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا5 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
