ہندوستان
جنگ کے سائے میں ہندوستان کے لیے برکس کا مشکل امتحان، ‘اعلیٰ سفارت کاری اثرات کو کم کرے گی’: انل تریگونایت
نئی دہلی، مئی میں برکس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت کے لیے ہندوستان کی تیاریوں کے دوران، مغربی ایشیا میں بڑھتا ہوا تنازعہ ایک مشکل سفارتی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ رکن ممالک کے درمیان تقسیم اور بلاک کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں حائل رکاوٹیں اس امتحان کو مزید کٹھن بنا رہی ہیں۔
سفارت کار اور مغربی ایشیا کے ماہر انل تریگونایت کا کہنا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں ہموار نتائج کی توقع رکھنا مشکل ہے، خاص طور پر ایران اور خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے ‘اعتماد کے فقدان’ کے پیش نظر۔
انہوں نے کہا، “خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو گیا ہے، کیونکہ امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے بہانے ان ممالک پر بار بار حملے کیے گئے۔ ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ایک کلیدی مسئلہ ہے۔”
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے ممالک کو اس بحران میں مزید دھکیل دیا ہے، کیونکہ تہران خطے میں جوابی حملے کر رہا ہے۔ اگرچہ خلیجی ریاستوں کو براہِ راست سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، لیکن وہ اپنی دیرینہ سکیورٹی وابستگیوں کی وجہ سے واشنگٹن کی حمایت پر مجبور ہیں۔
اس کشمکش نے امریکی پالیسی کے ساتھ وابستگی کی قیمت کو واضح کر دیا ہے، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘غزہ امن منصوبے’ کے تناظر میں، جسے خطے کے کئی ملکوں نے اسٹریٹجک طور پر ناقص قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ جو استحکام کے راستے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اس نے الٹا خلیجی ممالک کو ایک پرخطر پوزیشن میں چھوڑ دیا ہے جہاں وہ امریکی اقدامات کی حمایت بھی کر رہے ہیں اور علاقائی کشیدگی کا خمیازہ بھی بھگت رہے ہیں۔
تریگونایت نے واضح کیا کہ اگر دشمنی فوری طور پر ختم بھی ہو جائے، تب بھی اعتماد کی بحالی میں کافی وقت لگے گا۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ برکس کی تاریخ رہی ہے کہ اس میں باہمی اختلافات رکھنے والے ممالک شامل رہے ہیں، اس لیے یہ اب بھی رابطے کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکی سکیورٹی ضمانتوں سے بڑھتی ہوئی مایوسی نے خلیجی ممالک کو اپنی اسٹریٹجک اور معاشی شراکت داریوں میں تنوع لانے پر مجبور کیا ہے، جس کی وجہ سے برکس جیسے گروپوں میں ان کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان، جو کہ اس وقت صدارت کر رہا ہے، پہلے ہی تمام رکن ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ہوشیار اور ماہرانہ سفارت کاری کے ذریعے ہندوستانی قیادت اس کے اثرات کو کم کرنے میں کامیاب رہے گی۔”
وسیع تر جغرافیائی سیاسی ڈائنمکس کا جائزہ لیتے ہوئے تریگونایت نے کہا کہ امریکہ بغیر کسی واضح حکمت عملی کے اس تنازعے میں داخل ہوا اور اپنے مقاصد مسلسل بدل رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “میرے خیال میں امریکہ، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک آنے والے خطرے کا ڈردلا کر اس جنگ میں شامل کیا۔ واشنگٹن بغیر کسی حکمت عملی کے اس میں اترا اور مسلسل جنگ کے نئے مقاصد ایجاد کرتا رہا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے مالی اخراجات، جن کا تخمینہ 30 بلین ڈالر سے زائد ہے، بڑھ رہے ہیں اور واشنگٹن اب خلیجی ممالک کی طرف دیکھ رہا ہے کہ وہ اس کا بوجھ بانٹیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے اسٹریٹجک مقامات پر قبضے یا زمینی فوج اتار کر جنگ کو وسعت دی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔
عالمی اثرات پر تریگونایت نے کہا کہ اگرچہ روس کو اپنی تیل کی برآمدات پر دباؤ کم ہونے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن وہ اپنے جاری تنازعہ کی وجہ سے محدود ہے، جبکہ چین ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اپنے مفادات کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ طویل عدم استحکام کسی کے حق میں نہیں ہوگا۔
بحران کے دوران، ہندوستان نے ایران اور خلیجی ممالک دونوں کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نازک سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تریگونایت نے کہا، “ہندوستان ایک قابلِ اعتماد ثالث رہا ہے اور تمام فریقین اس کا احترام کرتے ہیں۔”
دریں اثنا، روسی نائب وزیر خارجہ آندرے رودینکوف کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 14-15 مئی کو برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ ملاقات ہندوستانی صدارت کے تحت برکس سربراہ اجلاس کے فریم ورک اور کلیدی نتائج کو شکل دینے میں مدد دے گی۔ لاوروف کی ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور دیگر حکام سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ہندوستان، جس نے یکم جنوری کو برکس کی صدارت سنبھالی تھی، اس نے “انسانیت مقدم” کے نقطہ نظر کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ گروپ دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا24 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا20 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا22 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر21 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر1 hour agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا5 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
