ہندوستان
رنگ، عقیدت اور روایت: ہندوستان ہولی کا استقبال کیسے کرتا ہے
: موسمی چوہان
نئی دہلی، 4 مارچ (یو این آئی) جیسے ہی رنگوں کے تہوار ہولی کی آمد ہوتی ہے، شمالی ہند کے قصبے اور گاوں موسیقی، رقص اور رنگین گلال کی دلکش چمک سے جگمگا اٹھتے ہیں اتر پردیش کے متھرا اور وِرنداون سے لے کر راجستھان، بہار اور جھارکھنڈ کے علاقوں تک لوگ صدیوں پرانی روایات کے ساتھ اس تہوار کو مناتے ہیں، جو اس خطے کی متمول ثقافتی وراثت کی مظہر ہیں متھرا اور وِرندا ون، جو بھگوان کرشن کی جائے پیدائش اور کھیل کی سرزمین سمجھے جاتے ہیں، ہولی یہاں نہایت ہی عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ یہاں تقریبات کئی دن پہلے ہی لٹھ مار ہولی سے شروع ہو جاتی ہیں جو ایک منفرد روایت ہے جس میں خواتین مزاحیہ انداز میں مردوں کو لاٹھیوں سے ہلکے وار کرتی ہیں اور مرد خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران لوک گیت اور رقص جاری رہتے ہیں۔
گلیوں میں گلال، پچکاریوں اور روایتی مٹھائیوں جیسے گجیا اور مال پوا کے اسٹال سجے ہوتے ہیں۔ مندروں میں بھجن گائے جاتے ہیں اور کرشن کی مدح میں عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان شہروں میں عقیدت اور تفریح ایک ساتھ نظر آتی ہیں جہاں عقیدت مند کرشن اور رادھا کی محبت کے احترام میں گاتے اور رقص کرتے ہیں۔
راجستھان میں ہولی شاہانہ انداز میں منائی جاتی ہے خاص طور پر جے پور، ادے پور اور پشکر جیسے شہروں میں۔ گھومر اور کالبیلیا جیسے لوک رقص رنگوں کے تبادلے کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں جب کہ مقامی بینڈ ڈھولک اور منجیرا جیسے روایتی ساز بجاتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں ہولیکا دہن کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے جس میں الاؤ جلایا جاتا ہے جو نیکی کی بدی پر فتح کی علامت ہے۔ لوگ آگ کے گرد جمع ہو کر لوک گیت گاتے ہیں اور اناج، ناریل اور دیگر نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اگلے دن لوگ سڑکوں پر نکل کر ایک دوسرے کو رنگ لگاتے ہیں، یوں میل جول اور خوشی کی قدیم روایت کو برقرار رکھتے ہیں۔
بہار اور جھارکھنڈ میں ہولی روحانی اور سماجی جوش کے امتزاج کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ پھاگوا جیسے روایتی گیت اور علاقائی لوک رقص اس موقع کی پہچان ہیں جبکہ کھُرما، گجیا اور ٹھنڈائی جیسی مقامی مٹھائیاں پڑوسیوں اور اہلِ خانہ میں تقسیم کی جاتی ہیں۔
دیہاتوں میں لوگ ہفتوں پہلے تیاری شروع کر دیتے ہیں، پھولوں، ہلدی اور جڑی بوٹیوں سے قدرتی رنگ تیار کرتے ہیں تاکہ تہوار ماحول دوست اور محفوظ رہے۔ جھارکھنڈ میں قبائلی اثرات بھی نمایاں ہوتے ہیں جہاں مقامی برادریاں ڈھول، بانسری اور اپنے مخصوص ردھم کو تقریبات کا حصہ بناتی ہیں۔
اتر پردیش میں متھرا اور وِرنداون کے علاوہ ہولی سماجی انداز میں منائی جاتی ہے۔ خاندان اور دوست ایک دوسرے کے گھروں کو جاتے ہیں، گلال اور پانی میں رنگ گھول کر رنگین پانی سے ہولی کھیلتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ آگرہ اور کانپور جیسے شہروں میں مقامی فنکاروں کے ثقافتی پروگرام، قصہ گوئی اور لوک موسیقی بھی تقریبات کو چار چاند لگاتے ہیں۔
ان تمام ریاستوں میں ہولی کی ایک مشترکہ روحانیت نظر آتی ہے۔ یہ تہوار عمر، جنس اور سماجی حدود سے بالاتر ہو کر لوگوں کو جوڑتا ہے۔ ہولیکا دہن، بھجن اور رنگوں کے خوشگوار تبادلے جیسی روایتی رسومات جدید رجحانات جیسے میوزک فیسٹیول، ماحول دوست رنگ اور تخلیقی پیشکشوں کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔
جب ہندوستان ہولی کے رنگوں میں رنگ جاتا ہے تو یہ ملک نہ صرف اپنی ثقافتی وراثت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ دنیا کو خوشی، اتحاد اور رنگوں کے اس پیغام کی یاد دلاتے ہیں جو یہ تہوار لے کر آتا ہے۔ وِرندا ون کی روحانی عقیدت سے لے کر راجستھان کی لوک رونق اور بہار، جھارکھنڈ اور اتر پردیش کی سماجی ہم آہنگی تک، ہولی ایک ایسا جشن ہے، جو لازوال، پاکیزہ اور گہری معنویت سے بھرپور ہندوستانی تہوار ہے۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
