دنیا
امریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
اسلام آباد، حکومت پاکستان کے ذرائع نے اناطولیہ ایجنسی کو بتایا کہ پاکستان اور قطر نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک مشترکہ تجویز پیش کی ہے۔
دونوں ممالک نے مہینوں سے جاری جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے مقصد سے شروع ہونے والے لیکن تعطل کا شکار ہونے والے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے “پہلے قدم کے طور پر” امریکہ اور ایران سے 9 جولائی سے پہلے کی پوزیشنوں پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ اسلام آباد اور دوحہ کی جانب سے “علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے بعد” مشترکہ طور پر تیار کردہ اس تجویز میں دونوں فریقین سے پہلے کی پوزیشنوں پر واپس آنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایران نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ اسے کشیدگی کم کرنے کے خواہشمند ثالثوں کی طرف سے تجاویز موصول ہوئی ہیں اور وہ ان کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری جوابی حملوں کے ماحول میں سفارت کاری کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ثالث کشیدگی کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور انہوں نے تہران کو تجاویز پہنچائی ہیں لیکن ہم اس مرحلے پر ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔
گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں دستخط کیے جانے والے مفاہمت نامے کے باوجود، جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا اور ایک مستقل امن معاہدے تک پہنچنا تھا، ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی جھڑپیں جاری ہیں۔تاہم، گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی۔
جاری ثالثی کوششوں سے واقف ایک پاکستانی ذریعہ نے بتایا، “9 جولائی سے پہلے کی صورتحال پر واپس جانا شدید دشمنیوں کو روکنے اور اسلام آباد یا دوحہ میں مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی راہ ہموار کرنے کا پہلا قدم ہوگا۔”
ذرائع کے مطابق تجویز میں کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کر دے گا اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں ہٹا دے گا۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس فارمولے میں جوابی فوجی حملوں کو روکنے کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز دی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے 9 جولائی کو آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے بعد محاصرے اور تیل سے متعلق پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ذرائع نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن اور تہران اتفاق کرتے ہیں، تو معطل شدہ مذاکرات “فوری طور پر” دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے اور جنوبی لبنان میں جنگ بندی کا نفاذ ایجنڈے میں سب سے اوپر ہوگا۔
اسرائیلی افواج کی جانب سے جنوبی لبنان اور غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، 17 جون کو دستخط کیے گئے اس مفاہمت نامے کے نفاذ میں بنیادی رکاوٹ بنیں جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی تصادم کو ختم کر کے مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ مفاہمت نامہ “ختم” ہو چکا ہے جس نے نئے فوجی تصادم کو ہوا دی۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالث دونوں فریقوں سے “مثبت” جواب کی توقع کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ مذاکرات “بہت جلد” دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر3 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا7 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا7 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان5 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان5 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
