تجزیہ
گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
پوری دنیا کے مسلمان ہر سال جس روحانی سفر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں وہ حج ہے، مکہ مکرمہ میں ادا کی جانے والی یہ اہم عبادت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، صبر، مساوات اور بندگی کا عظیم مظہر سمجھی جاتی ہے, لاکھوں مسلمان نسل، رنگ، زبان، قومیت اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور ایک ایسی فضا میں عبادت کرتے ہیں جہاں روحانیت کا ایک منفرد احساس جنم لیتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک نئی اور تشویش ناک حقیقت اس مقدس عبادت کے ساتھ جڑتی جا رہی ہے اور وہ ہے بڑھتی ہوئی عالمی گرمی یا گلوبل ہیٹنگ۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس اور موسمیاتی تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ مکہ مکرمہ کے موسم کو خطرناک حد تک تبدیل کر رہا ہے۔ شدید گرمی اب صرف گرمیوں کے چند مہینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سال کے نسبتاً معتدل سمجھے جانے والے اوقات میں بھی حجاج کو جھلسا دینے والے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صدی کے اختتام تک حج تقریباً پورا سال شدید اور جان لیوا گرمی کے ماحول میں ادا کرنا پڑے گا۔
ایک تازہ تجزیے کے مطابق مکہ مکرمہ کی آب و ہوا میں بنیادی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ جہاں ماضی میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت صرف جون، جولائی یا اگست جیسے مہینوں میں دیکھا جاتا تھا، وہاں اب مئی جیسے نسبتاً ٹھنڈے تصور کیے جانے والے مہینے میں بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ فوسل فیول یعنی جیواشم ایندھن کا بے تحاشہ استعمال ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کیا۔
حج چونکہ اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال تقریباً دس دن پہلے آتی ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مثبت پہلو یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج مختلف موسموں میں گردش کرتا رہے گا، کبھی سردیوں میں، کبھی بہار میں اور کبھی گرمیوں میں۔ لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاہے حج موسمِ بہار میں ہو یا خزاں میں، عالمی حدت کے باعث شدید گرمی ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود رہے گی۔
2024 میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس خطرے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ جون میں ادا کیے گئے حج کے دوران شدید گرمی اور نمی کے باعث 1300 سے زائد حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہزاروں افراد کو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
حج بنیادی طور پر جسمانی مشقت پر مشتمل عبادت ہے۔ لاکھوں عازمین حج کو کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے، مختلف مقامات کے درمیان مسلسل نقل و حرکت کرنا ہوتی ہے اور کھلے آسمان تلے عبادات انجام دینی پڑتی ہیں۔ میدانِ عرفات میں قیام، منیٰ میں قیام، جمرات پر رمی اور طواف جیسی عبادات جسمانی برداشت کا تقاضا کرتی ہیں۔ شدید گرمی ان تمام مراحل کو نہایت مشکل اور بعض اوقات خطرناک بنا دیتی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق مئی کے مہینے کا اوسط درجہ حرارت اب ماضی کے مقابلے میں تقریباً 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں چند ڈگری کا فرق انسانی صحت، پانی کی دستیابی، جسمانی برداشت اور موسمی توازن پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی بحران صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، عبادات، معیشت اور عالمی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
اس صورتحال میں سعودی عرب نے کئی عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ حجاج کی سہولت کے لیے سایہ دار راستے تعمیر کیے گئے ہیں، کولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، مسٹنگ سسٹمز لگائے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار کے ذریعے درجہ حرارت کا احساس کم کرتے ہیں، جبکہ طبی خدمات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کی تعداد بڑھائی گئی تاکہ گرمی سے متاثر افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی اور حفاظتی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اگر زمین مسلسل گرم ہوتی رہی تو حفاظتی انتظامات کی افادیت محدود ہو جائے گی۔ بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب درجہ حرارت انسانی برداشت کی حد سے تجاوز کر جائے، اور محض ٹھنڈا پانی یا سایہ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی نہ رہے۔
یہ صورتحال ایک اہم اخلاقی اور سیاسی سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت بڑی حد تک تیل کی صنعت پر منحصر ہے۔ دوسری طرف موسمیاتی سائنسدان مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوسل فیول کے استعمال میں کمی لائی جائے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اور خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حج میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد مختلف ممالک اور موسمی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔
بعض حجاج نسبتاً سرد خطوں سے آتے ہیں جہاں 20 یا 25 ڈگری درجہ حرارت بھی گرمی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے 45 یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بوڑھے افراد، دل کے مریض، شوگر کے مریض اور جسمانی کمزوری کے شکار افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
عالمی حدت صرف حج ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ شدید گرمی پانی کے بحران کو جنم دے رہی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک میں انسانی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار نسبتاً زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جائے، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور تیل و گیس پر انحصار کم کیا جائے تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے حج سمیت بہت سی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں شدید موسمی خطرات سے جڑی رہیں گی۔
اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو دینی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر کیسے دیکھا جائے۔ اسلام میں اسراف، وسائل کے ضیاع اور زمین میں فساد سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تحفظ کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے تو نہ صرف ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے عبادات کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
حج ہمیشہ اتحاد، قربانی اور روحانی پاکیزگی کی علامت رہا ہے، مگر اب اس مقدس عبادت کے سامنے ایک نیا چیلنج موجود ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، مذہبی آزادی اور عالمی ذمہ داری کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وہ دن دور نہیں جب حج کا یہ روحانی سفر لاکھوں لوگوں کے لیے شدید جسمانی آزمائش میں تبدیل ہو جائے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر انسان نے اپنے طرزِ زندگی، صنعتی ترجیحات اور توانائی کے ذرائع پر نظرثانی نہ کی تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے، حتیٰ کہ عبادت گاہیں اور مقدس مقامات بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر22 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
