ہندوستان
اسرائیلی عوام اب ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتے: اسرائیلی سروے
رمیش بھان
نئی دہلی، ایک تازہ اسرائیلی سروے کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور اسے پہنچنے والے نقصان کے تخمینے کے حوالے سے اسرائیلی عوام کی حمایت میں “مسلسل کمی” آرہی ہے اسرائیل کے ‘انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز’ (آئی این ایس ایس ) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے تک مہم جاری رکھنے کے لیے اسرائیلی عوامی حمایت میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ آئی این ایس ایس تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ ایک آزاد تھنک ٹینک ہے جو فوجی و اسٹریٹجک امور اور قومی سلامتی کے معاملات پر تحقیق کرتا ہے۔
سروے کے مطابق، مہم کے ابتدائی دنوں میں جہاں 69 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ ایرانی حکومت کو نمایاں نقصان پہنچے گا، وہیں آج صرف 43.5 فیصد ایسا سوچتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے: “ایران میں مہم کے نتائج اور اسے ختم کرنے کے ترجیحی مقصد کے حوالے سے عوامی رویوں میں اعتدال پسندی کا رجحان جاری ہے۔ عوام اب ایران کے ایٹمی منصوبے، میزائل ہتھیاروں اور آیت اللہ حکومت کو پہنچنے والے متوقع نقصان کے تخمینے میں زیادہ محتاط ہیں۔ ساتھ ہی، جیسے جیسے مہم طویل ہو رہی ہے، زیادہ تر جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ ہوم فرنٹ ایک ماہ سے زیادہ کی جنگ برداشت کر سکتا ہے۔”
ایران کے ایٹمی منصوبے کو پہنچنے والے متوقع نقصان کے بارے میں بھی ایسی ہی کمی دیکھی گئی ہے۔ مہم کے آغاز میں 62.5 فیصد کا خیال تھا کہ اسے نمایاں نقصان پہنچے گا، جبکہ آج یہ شرح 48 فیصد رہ گئی ہے۔ یہی حال بیلسٹک میزائلوں کے نظام کا ہے، جہاں نمایاں نقصان کی توقع رکھنے والوں کی شرح 73 فیصد سے گر کر 58.5 فیصد پر آگئی ہے۔
اسی طرح، حکومت کا تختہ الٹنے تک مہم جاری رکھنے کی حمایت جنگ کے ابتدائی دنوں میں 63 فیصد تھی، جو دو ہفتوں بعد 54 فیصد اور اب مزید کم ہو کر 45.5 فیصد رہ گئی ہے۔ شمالی محاذ پر، عوام اس سوال پر منقسم ہیں کہ آیا حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) پر عوامی اعتماد 77 فیصد کے ساتھ بدستور بلند ہے، جبکہ حکومت پر اعتماد 30 فیصد پر برقرار ہے، جس میں شدید سیاسی تقسیم نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ، 63 فیصد یہودی آبادی کا ماننا ہے کہ چیف آف اسٹاف کی یہ وارننگ درست تھی کہ بھرتیوں کے دائرہ کار میں اضافہ نہ ہونے اور مختلف محاذوں پر آئی ڈی ایف پر مشنز کے بوجھ کی وجہ سے فوج “اندرونی طور پر بیٹھ” سکتی ہے۔
سیاسی قیادت پر اعتماد بدستور کم ہے اور اس میں شدید سیاسی پولرائزیشن پائی جاتی ہے۔ حکومت اور وزیر اعظم دونوں پر اعتماد میں معمولی کمی آئی ہے۔ اسرائیلی عوام کے تقریباً 36 فیصد کو وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو پر زیادہ اعتماد ہے، جبکہ 62 فیصد ان پر کم اعتماد رکھتے ہیں۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
