دنیا
امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس لگانے کی تیاری، ٹرمپ کو غصہ آ گیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک کو 100 فی صد ٹیرف کی دھمکی دے دی ہے۔
روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز دھمکی دی ہے کہ جو بھی ملک امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس نافذ کرے گا، اس کی امریکہ بھیجی جانے والی تمام اشیا پر 100 فی صد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا ’’متعدد یورپی ممالک امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس کے جلد نفاذ پر غور کر رہے ہیں اور ان میں سے بعض اس پر عمل درآمد کے بہت قریب ہیں۔‘‘
انھوں نے مزید کہا ’’اس بیان کو باضابطہ اطلاع سمجھا جائے کہ جو بھی ملک ایسا ٹیکس نافذ کرے گا، اس کی امریکہ بھیجی جانے والی ہر قسم کی اشیا پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ نیا ٹیرف امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی تجارتی معاہدے پر فوقیت رکھے گا، چاہے وہ نافذ ہوچکا ہو، اس پر دستخط ہو چکے ہوں یا نہ ہوئے ہوں۔
اس میں امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان گزشتہ سال ہونے والا معاہدہ بھی شامل ہوگا، جس کے تحت یورپی اشیا پر امریکی ٹیرف کی زیادہ سے زیادہ شرح 15 فی صد مقرر کی گئی تھی، جب کہ اس کے بدلے یورپی یونین نے امریکی صنعتی مصنوعات پر اپنے ٹیرف صفر کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، یورپی یونین کی قانون سازی کے طویل عمل کے باعث معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی، جس پر ٹرمپ نے یورپ سے درآمدات، بشمول گاڑیوں، پر دوبارہ 25 فی صد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔
اس کے بعد یورپی قانون سازوں نے ٹرمپ کی مقرر کردہ 4 جولائی کی ڈیڈ لائن تک مطلوبہ تبدیلیاں نافذ کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے گزشتہ ہفتے، جی-7 سربراہی اجلاس میں ٹرمپ سے ملاقات سے قبل کہا تھا کہ فرانس ٹرمپ کے دباؤ میں آ کر امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد اپنا ڈیجیٹل ٹیکس ختم نہیں کرے گا۔
اس ٹیکس کا اطلاق آن لائن مارکیٹ پلیسز اور ڈیجیٹل اشتہارات جیسی خدمات پر ہوتا ہے۔ جب کہ فرانس روانہ ہونے سے قبل ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر پیرس نے اپنا ڈیجیٹل ٹیکس ختم نہ کیا تو امریکہ کے پاس فرانسیسی شراب پر 100 فی صد ٹیرف عائد کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔
فرانس 2019 سے ان کمپنیوں کی فرانس میں حاصل ہونے والی ڈیجیٹل سروسز کی آمدنی پر 3 فی صد ٹیکس وصول کر رہا ہے، جن کی فرانس میں سالانہ آمدنی 2 کروڑ 50 لاکھ یورو سے زیادہ اور عالمی آمدنی 75 کروڑ یورو (تقریباً 85 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) سے زائد ہو۔ گزشتہ سال فرانسیسی قانون سازوں نے اس ٹیکس کو بڑھا کر 6 فیصد کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے طویل عرصے سے فرانس، برطانیہ، آسٹریا، اسپین اور دیگر یورپی ممالک کو خبردار کر رکھا ہے کہ اگر انھوں نے ڈیجیٹل سروسز ٹیکس نافذ کیا تو امریکا جوابی ٹیرف عائد کرے گا، کیوں کہ واشنگٹن کے مطابق یہ ٹیکس امریکی کمپنیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے، جو عالمی سطح پر اس شعبے پر غلبہ رکھتی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر4 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا8 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا8 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان6 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا1 day agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
