دنیا
آبنائے ہرمز تنازع: امریکہ و ایران ایک بار پھر آمنے سامنے
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور اس سے گزرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں کے حوالے سے اختلافات ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے دوران ایران نے صرف میزائل اور ڈرون حملوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا، جبکہ امریکہ کا مؤقف تھا کہ یہ آبی گزرگاہ پہلے کی طرح بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آزاد ہونی چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسی بنیادی اختلاف نے دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر عسکری کشیدگی کو جنم دیا۔
رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی جانب سے مقررہ راستے سے ہٹ کر سفر کرنے والے کم از کم 3 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد اہداف پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں سے جوابی کارروائی کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اب مؤثر نہیں رہی، جس کے بعد جمعرات کو بھی دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ماہرین کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق واضح طریقہ کار موجود نہیں۔
ایران کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، امریکی حکام معاہدے کے تحت ایران کو بارودی سرنگیں صاف کرنے اور محفوظ بحری آمد و رفت یقینی بنانے کی ذمے داری دی گئی، جبکہ ابتدائی 60 دن تک تجارتی جہازوں سے کوئی فیس وصول نہ کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
دوسری جانب معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایران، عمان اور خلیجی ممالک مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور بحری خدمات کے طریقہ کار پر مشاورت کریں گے، جس کی دونوں فریق مختلف تشریح کر رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اس کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کرنا ہو گی، جبکہ امریکہ اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی آبی گزرگاہ قرار دیتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے مؤقف امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا اور امریکی افواج نے مئی سے اب تک سیکڑوں تجارتی جہازوں اور لاکھوں بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حرکت میں مدد فراہم کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نگرانی ناصرف ممکنہ محصولات کی وجہ سے اہم ہے بلکہ مستقبل میں امریکہ یا اسرائیل کی کسی بھی کارروائی کے خلاف ایک مؤثر دفاعی دباؤ بھی فراہم کرتی ہے۔ معاشی اور سیاسی اثرات آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر بڑھ گئیں، جس سے مہنگائی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔
جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے پر عالمی منڈیوں میں استحکام آیا، تیل کی قیمتیں کم ہوئیں اور اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھی گئی، تاہم چند ہی روز بعد کشیدگی دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق موجودہ مفاہمتی یادداشت صرف جنگ روکنے کا ایک فریم ورک تھی، مستقل امن کا معاہدہ نہیں، امریکہ اور ایران اس معاہدے کی اپنی اپنی تشریح نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز اس اختلاف کا پہلا بڑا امتحان بن چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر چکی ہیں، تاہم ایران کی معاشی مشکلات، امریکا میں بڑھتی توانائی کی قیمتیں اور آئندہ امریکی وسط مدتی انتخابات جیسے عوامل دونوں فریقوں کو مکمل جنگ سے گریز پر مجبور کر سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان12 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
