جموں و کشمیر
کشتواڑ میں دہشت گردوں کی تلاش جاری، ’آپریشن تراشی-ون‘ کے 21 روز مکمل، سرچ آپریشن مزید سخت
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دہشت گردوں کے خلاف جاری ’آپریشن تراشی-ون‘ نے سوموار کو12 روز مکمل کر لیے، جس دوران سیکورٹی فورسز نے گھنے جنگلات، دشوار گزار پہاڑی راستوں اور برف پوش علاقوں میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ یہ آپریشن 7 آسام رائفلز، سی آئی ایف ڈیلٹا وائٹ نائٹ کور، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ کوشش ہے، جس کا مقصد کشتواڑ کے جنگلات میں روپوش دہشت گردوں کا صفایا کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق فورسز مسلسل چھاترو، دچار اور سنگپورہ کے پورے بیلٹ میں گہرے جنگلات کے اندر تک سرچ آپریشن میں مصروف ہیں، جہاں اطلاعات کے مطابق تین سے زیادہ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ فورسز جدید آلات، ڈرون سرویلانس اور پٹرولنگ کے ذریعے علاقے کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔
فورسز نے بتایا کہ 4 فروری کی شام تقریباً 5:45 بجے ڈچر کے جنرل ایریا میں دہشت گردوں سے دوبارہ رابطہ قائم ہوا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
وائٹ نائٹ کور نے ایک بیان میں کہا:’چیلنجنگ جنگلاتی علاقے میں دہشت گردوں کی تلاش جاری تھی، اسی دوران دوبارہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر رابطہ قائم ہوا اور ایک دہشت گرد کو مار گرایا گیا۔ آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔‘
مرنے والے دہشت گرد کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی، تاہم سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ گروپ ضلع کے پہاڑی علاقے میں سرگرم ایک اہم جیشِ محمد سے وابستہ سیل کا حصہ ہے۔
اس آپریشن کے دوران 18 اور 19 جنوری کی درمیانی شب اسپیشل فورسز کے جوان حوالدار گجندر سنگھ دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔ وہ سنگھ پورہ کے علاقے میں دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف تھے کہ جھڑپ کے دوران شدید زخمی ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس آپریشن کے دوران فورسز کو پہلے بھی کئی مقامات پر دہشت گردوں کے ساتھ مختصر آمنا سامنا ہوا تھا، لیکن دشوار گزار جنگلاتی علاقے اور برف باری نے کارروائی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ موسمی رکاوٹوں، کھڑی چٹانوں اور گھنے جنگلات کے باوجود فورسز نے علاقے میں مضبوط گھیرا بندی قائم کی ہوئی ہے تاکہ کسی بھی دہشت گرد کو فرار نہ ہونے دیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن تراشی-ون کو ہائی رسک کاؤنٹر ٹیررزم مشن سمجھا جا رہا ہے، جس میں فورسز قدم بہ قدم پیش رفت کر رہی ہیں۔
انتظامیہ نے مقامی آبادی سے بھی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے لوگوں کو مشکوک نقل و حرکت کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت دی ہے۔ متعدد دیہات میں رات کے وقت نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے جبکہ حساس پوائنٹس پر ناکے اور پٹرولنگ بڑھا دی گئی ہے۔
فورسز کا کہنا ہے کہ چونکہ علاقے میں ابھی بھی چند دہشت گردوں کی موجودگی کے پختہ شواہد ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں مزید رابطوں اور جھڑپوں کا امکان ہے۔
کشتواڑ میں جاری یہ بڑا انسدادِ دہشت گردی آپریشن اس وقت جنوبی اور وسطی کشمیر کے بعد خطے میں دہشت گردی کے خلاف سب سے اہم آپریشن سمجھا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کی، پیپلز کانفرنس کی قیادت پر سیاسی مخالفین کو دھمکانے کا الزام
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے جمعرات کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس (پی سی) کی اعلیٰ قیادت مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام لے کر اس کے رہنماؤں کو دھمکا رہی ہے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی رہنماؤں التجا مفتی، وحید پارہ اور سابق رکن قانون ساز کونسل یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے نام لے کر سیاسی مخالفین کو دھمکایا اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت رکن اسمبلی سجاد لون کر رہے ہیں۔
التجا مفتی نے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت کشمیر کی سیاسی فضا میں “خوف کا ماحول” پیدا کر رہی ہے اور پی ڈی پی رہنماؤں کو ڈرانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ واضح کریں آیا یہ سب کچھ مرکز کی معلومات میں ہو رہا ہے یا نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو متعلقہ ایجنسیوں کے نام کے مبینہ غلط استعمال کو روکا جائے۔
انہوں نے کہا، “ہمارا مقابلہ بیلٹ کے ذریعے کریں، ای ڈی، این آئی اے یا سی بی آئی کے ذریعے نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ مکالمے اور انتخابات کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ دھونس، دھمکی یا تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال سے۔مسٹر التجا نے مزید الزام لگایا کہ پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور تحقیقاتی ایجنسیاں کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔
دریں اثنا یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انہیں حال ہی میں مرکزی ایجنسیوں کے بعض اہلکاروں کی ایک مبینہ میٹنگ کے بارے میں اطلاع ملی، جس میں ان کے خلاف کارروائی پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عسکریت پسندی یا علیحدگی پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کرے۔
مسٹر یاسر نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایجنسیاں ان پر جھوٹے الزامات لگانے والوں سے براہ راست پوچھ گچھ کریں یا ان کے خلاف کارروائی کریں۔
رکن اسمبلی وحید پارہ نے کہا کہ مبینہ سیاسی دباؤ دراصل جموں و کشمیر کے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مباحث کا مرکز دفعہ 370، سیاسی قیدیوں، جماعت اسلامی پر پابندی، ملازمین کی برطرفیوں اور خطے کے عوام کو درپیش دیگر اہم مسائل ہونے چاہئیں۔وحید پارہ نے کہا، “دو کشمیریوں کے درمیان لڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں عوامی مباحث کو جان بوجھ کر کیوں آلودہ اور تقسیم کیا جا رہا ہے”
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 کے بعد پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں، جن میں ارکان اسمبلی، سابق ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں، کو دباؤ ڈال کر پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جس سے پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو منظم انداز میں کمزور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات نمٹانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطی یا کسی بھی دوسرے دباؤ کے طریقے استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔
آخر میں وحید پارہ نے کہا، “اگر ہم کشمیر کو کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم اسے نقصان نہ پہنچائیں۔” انہوں نے میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی الزامات سے گریز کرتے ہوئے عوامی مسائل پر مرکوز، صاف ستھرے اور تعمیری سیاسی مباحث کو فروغ دیں۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
ایک احتجاج سے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کو ریاست کا درجہ بحال کرانے کے لیے ایک احتجاج کافی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے دانستہ طور پر یہ مطالبہ نئی دہلی میں اٹھایا تاکہ مرکز کے سامنے اسے باضابطہ طور پر درج کرایا جا سکے۔
گاندربل میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ اس نوعیت کے اہم سیاسی مطالبات کسی ایک احتجاج سے پورے نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا، “ایک احتجاج کافی نہیں ہوتا۔ اگر ایک احتجاج سے ہی سب کچھ حل ہو جاتا تو ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے ایک روزہ احتجاج سے تمام مسائل حل ہو گئے ہوتے، لیکن انہیں بار بار احتجاج کرنا پڑا۔” وہ نیشنل کانفرنس کے دہلی میں کیے گئے احتجاج کے نتائج سے متعلق سوال کا جواب دے رہے تھے۔
انہوں نے کہا، “ہم یہ جانتے ہوئے دہلی گئے تھے کہ پہلے احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، لیکن کم از کم اپنا مطالبہ تو مرکز کے سامنے باضابطہ طور پر درج کرائیں۔”
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ملک کا قومی میڈیا یہ بھول گیا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو اب تک پورا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا، “آپ (مقامی میڈیا) مجھ سے ریاستی درجے کے بارے میں سوال کرتے رہتے ہیں، لیکن ملک کا میڈیا یہ بھول جاتا ہے کہ جموں و کشمیر سے ایک وعدہ کیا گیا تھا، جو آج تک پورا نہیں ہوا۔”
قابل ذکر ہے کہ برسراقتدار نیشنل کانفرنس نے 20 جولائی کو نئی دہلی میں جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا تھا۔ یہ مظاہرہ سابق ریاست کی حیثیت کی بحالی کے لیے پارٹی کی جاری مہم کا حصہ تھا۔
مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس مطالبے کے لیے دفعہ 370 کی منسوخی کی برسی، 5 اگست، کا انتظار نہیں کیا۔انہوں نے کہا، “ہم نے 5 اگست کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے ہی دہلی چلے گئے۔ اگر ہمیں محض ڈرامہ کرنا ہوتا تو ہم 5 اگست کو دہلی جاتے، لیکن ہم نے اس تاریخ کا انتظار نہیں کیا۔”
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی پہلے ہی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت کو بھیج چکی ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم نے اسمبلی میں قرارداد منظور کی۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کی بحالی سے متعلق قرارداد اسمبلی نے منظور کرکے مرکزی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے موصول ہونے والی اطلاعات باعثِ فکر ہیں اور امید ظاہر کی کہ علاقے میں امن برقرار رہے گا۔
انہوں نے کہا، “جہاں تک پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا تعلق ہے، ہم سب تشویش میں مبتلا ہیں۔ وہاں سے جو اطلاعات آ رہی ہیں اور جس طرح طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہم صرف یہی امید کر سکتے ہیں کہ وہاں امن قائم رہے۔”
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
کشمیر اے این ٹی ایف نے پنجاب کے منشیات فروش کو گرفتار کر کے 100 گرام ہیروئن برآمد کر لی
سری نگر، انسدادِ منشیات ٹاسک فورس (اے این ٹی ایف) کشمیر نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ منشیات فروش کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے سری نگر کے نوگام علاقے کے لسان جن فلائی اوور کے قریب 100 گرام ہیروئن برآمد کی ہے۔
پولیس کے مطابق منشیات لے جانے والے ایک اسمگلر کی نقل و حرکت سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر اے این ٹی ایف کشمیر کی ایک ٹیم نے لسان جن فلائی اوور کے نزدیک خصوصی کارروائی کی۔
اس دوران پنجاب کے ضلع امرتسر کے بٹالہ علاقے کے سندر نگر مصطفیٰ آباد کے لو پریت سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے ہیروئن جیسا 100 گرام نشہ آور مادہ برآمد ہوا۔ برآمد شدہ مادے کی موقع پر ڈرگ ڈیٹیکشن کٹ سے جانچ کی گئی، جس میں اس کے ہیروئن ہونے کی تصدیق ہوئی۔
اس سلسلے میں اے این ٹی ایف کشمیر تھانے میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 8/21 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی، اس کی ترسیل کہاں ہونی تھی اور اس کی اسمگلنگ و تقسیم میں ملوث وسیع تر نیٹ ورک کون سا ہے۔
یو این آئی۔ م س
