دنیا
امریکی فوج نے جنوبی ایران پر فضائی حملہ کر دیا، سینٹکام کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی فوج نے جنوبی ایران پر فضائی حملہ کر دیا ہے اس کی تصدیق ترجمان سینٹ کام نے کردی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدہ جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کے دوران پیر کی شب خلیجِ فارس کے قریب ایرانی شہر بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے اطراف بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے خطے میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ترجمان سینٹکام نے بتایا کہ انھوں نے ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور مائنز بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملے سیلف ڈیفنس میں کیے گئے، جو امریکی فوجیوں کو ایرانی خطرات سے بچانے کے لیے تھے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ جنگ بندی کے دوران تحمل کے ساتھ دفاع کر رہی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے بھی بندر عباس پر 3 حملوں کی تصدیق کر دی ہے، میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد صوبہ ہرمزگان کا فضائی دفاعی سسٹم فعال کر دیا گیا ہے اور خلیج عمان میں امریکی جنگی بحری جہازوں پر میزائل داغے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ بندر عباس میں صورت حال قابو میں ہے اور شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے باوجود تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ ایجنسی کے مطابق سرکاری ذرائع نے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق بندر عباس میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسی نوعیت کی آوازیں اہم آبی گزرگاہ کے قریب واقع سیرک اور جاسک کے علاقوں میں بھی سنائی دیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا ’’امریکی افواج نے آج جنوبی ایران میں اپنے فوجیوں کو ایرانی افواج کی جانب سے لاحق خطرات سے بچانے کے لیے دفاعی حملے کیے۔ اہداف میں میزائل لانچ کرنے کی تنصیبات اور ایرانی کشتیاں شامل تھیں جو بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ جاری جنگ بندی کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی افواج کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے یا ایران کے کتنے میزائل لانچر تباہ کیے گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ نہیں بتایا کہ حملوں کی وجہ بننے والے خطرات کیا تھے یا یہ حملے طیاروں کے ذریعے کیے گئے یا بحری جہازوں کے ذریعے۔ امریکہ اور ایران دونوں آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان اس دوران کئی بار کشیدگی اور آمنا سامنا ہو چکا ہے۔
امریکہ آبنائے کے اطراف ایرانی ڈرون مار گرا چکا ہے اور درجنوں جہازوں کو روک چکا ہے، جن میں بعض کو طاقت کے ذریعے قبضے میں بھی لیا گیا۔ پیر کے حملے کئی ہفتوں بعد ایران پر ہونے والے پہلے براہِ راست حملے ہیں، جو اپریل میں شروع ہونے والی کشیدہ جنگ بندی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں انٹیلیجنس کلیکشن امریکہ کے سابق سفارت کار اور پینٹاگون کے سابق عہدے دار ایڈم کلیمنٹس نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے بندرگاہی شہر بندرِ عباس پر امریکی حملے امن معاہدے کو ’’سبوتاژ‘‘ نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ممکن ہے امریکہ آبنائے ہرمز کے اطراف ایران کی بحری صلاحیتوں اور عسکری سرگرمیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہا ہو اور صورت حال کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
انھوں نے کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے اِن ہی معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی ہے۔‘‘ سینٹکام کے اس الزام پر کہ ایران آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھا رہا تھا، کلیمنٹس نے کہا کہ ایرانی افواج کی جانب سے ایسا اقدام ’’مہلک ردِعمل کو دعوت دینے‘‘ کے مترادف ہوتا۔ انھوں نے مزید کہا ’’ایرانیوں کے لیے یہ بات حیران کن نہیں ہونی چاہیے کہ امریکہ اس طرح کی کارروائی کرے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پزشکیان کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے پر آمادگی کا اعلان
نیویارک، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق یہ تجویز امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ اگر واشنگٹن تہران کی آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تازہ تجویز قبول کرتا ہے تو ایران ’’اپنے ہر وعدے کی پابندی کرے گا‘‘۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس ہفتے تجویز پیش کی تھی کہ آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور وسیع تر جوہری معاہدے کی جانب ابتدائی قدم کے طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی بحال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تجویز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پیش کی گئی تھی، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست ملاقات مشکل ہوگی، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے ہی ’’بداعتمادی کی فضا‘‘ موجود ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جب تک وہ ہمارے خلاف روزانہ عائد کیے جانے والے اقدامات بند نہیں کرتے، ان پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ وہ ہر روز ہم پر پابندیاں بڑھاتے ہیں، ہر روز ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں، ہر روز ہم پر حملے کرتے ہیں اور تحریری معاہدوں کی پاسداری بھی نہیں کرتے۔ تو اگر وہ مذاکرات میں شامل ہوتے ہیں تو کیا وہ واقعی اپنے وعدے پورے کریں گے؟‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک کے دورے کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس کے بجائے ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ رابطے ہوئے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران جون میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آنا چاہتا ہے۔ اس سے چند روز قبل ہی انہوں نے کہا تھا کہ ایران واشنگٹن کے سامنے نہیں جھکے گا۔انہوں نے چین کی جانب سے اس معاہدے کو بحال کرنے کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’’ایران بھی اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور اس مفاہمت کی طرف واپس جانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘‘
اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، تاہم بدھ کو عالمی ادارے سے خطاب میں پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ایران امریکہ کے سامنے ’’گھٹنے نہیں ٹیکے گا‘‘۔
ایک روز بعد انہوں نے فاکس نیوز سے کہا کہ ایران جنگ جاری رکھنا ’’نہیں چاہتا‘‘، تاہم اسے ختم کرنا واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔
ادھر عباس عراقچی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی ملاقات کی، تاہم ان مذاکرات سے فوری طور پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اسے ’’تباہ‘‘ کرنے کے حوالے سے انہیں ’’ایک بڑا فیصلہ‘‘ کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی تجویز پر واشنگٹن کے جواب کے متوقع وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تجویز قبول کیے جانے کے فوراً بعد مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر یہ پیغام امریکی صدر، ان کے انٹرویو لینے والوں یا مذاکرات میں شامل افراد تک پہنچتا ہے تو جیسے ہی وہ اسے قبول کریں گے، اسی دن سے عمل شروع ہو جائے گا۔‘‘
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہسپانوی شہر لیئیدا میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی عائد کردی گئی
میڈرڈ، اسپین کے مشرق میں کاتالونیا علاقے کے شہر لیئیدا کے عوامی مقامات پر خواتین کے چہرے ڈھانپنے والی نقاب اور برقع پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
لیئیڈا میونسپل کونسل نے “شہری طرزِ عمل اور باہمی زندگی” کے ضوابط کو منظور کیا، جو چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے والے لباس، جیسے برقع یا نقاب کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔
کتالونیا سوشلسٹ پارٹی (پی ایس سی) اور ‘کتالونیا کے لیے اتحاد’ (Junts) کی مقامی حکومت کے حامل لیئیڈا میں منظورہ ضابطے کے تحت برقع اور نقاب پہننے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 400 سے 750 یورو تک جرمانہ کیا جائے گا۔
عبادت گاہیں یا ایسی دوسری جگہیں جہاں اس قسم کے لباس کی اجازت ہو، اس پابندی سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔
میئر فیلیکس لاروسا نے کہا کہ یہ فیصلہ لیئیدا میں رہنے والی مسلم برادری کے رہنماؤں سے مشاورت کر کے کیا گیا، جہاں آبادی کا تقریباً 9 فیصد مسلمان ہے۔
برقع اور نقاب پر پابندی کا معاملہ یورپ میں ایک بار پھر اس وقت موضوعِ بحث بنا جب اٹلی کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی نے اس بارے میں بیانات دیے۔
اٹلی کی حکومت نے بھی آج اسکولوں میں برقع اور نقاب جیسے چہرہ ڈھانپنے والے ملبوسات کے استعمال پر پابندی لگانے والا ضابطہ منظور کر لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
