ہندوستان
بھارت کے دو مزید جہازوں نے آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے عبور کر لیا
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے بحران کے باعث خطے سے توانائی کی مختلف مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے کے درمیان ایک راحت بخش خبر آئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات سے لدے ہندوستان کے دو مزید تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے عبور کر لیا ہے۔ اس سے قبل بھی ہندوستان کے ایل پی جی سے لدے چار ٹینکر آبنائے ہرمز کے راستے سے وطن واپس آ چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات سے لدے ہندوستانی پرچم والے دو تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے پار کر لیا ہے۔ ہندوستانی بحریہ کے اس خطے میں تعینات جنگی جہاز ضرورت پڑنے پر ان جہازوں کی حفاظت کے لیے تیار رکھے گئے ہیں۔ تاہم، ان جہازوں کے نام، ان میں لدی مصنوعات اور ان پر سوار افراد کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ ایران کئی بار یہ بات کہہ چکا ہے کہ وہ ہندوستان سمیت کچھ دوست ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے دے گا۔
ہندوستان مغربی ایشیا کے بحران کے بعد سے خطے میں پھنسے اپنے تجارتی جہازوں کے محفوظ انخلاء کے لیے مختلف سطحوں پر متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ بھارتی جہاز آہستہ آہستہ اس خطے سے نکلنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس دوران، وزارت بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے خصوصی سکریٹری راجیش کمار سنہا نے جمعہ کو ایک بریفنگ کے دوران تصدیق کی تھی کہ خلیجی خطے میں تمام ہندوستانی ملاح (کرو ممبرز) محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، “گزشتہ 24 گھنٹوں میں خلیجی خطے میں ہندوستانی پرچم والے جہازوں یا ملاحوں سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ 20 جہازوں پر سوار تمام 540 ملاح محفوظ ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل شپنگ کے کمیونیکیشن سینٹر نے، جو 24 گھنٹے فعال رہتا ہے، 98 کالز اور 335 ای میلز کا تصفیہ کیا اور 25 ہندوستانی ملاحوں کی بحفاظت وطن واپسی میں مدد کی۔”
ہندوستان کے ایل پی جی سے لدے چار ٹینکر ‘شوالک’، ‘نندا دیوی’، ‘پائن گیس’ اور ‘جگ وسنت’ پہلے ہی ہرمز کو پار کر کے ملک پہنچ چکے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سے ایران نے مغربی ایشیائی ممالک سے پیٹرولیم مصنوعات لے کر آنے والے جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کے مصروف ترین راستے کو بند کر رکھا ہے۔
ایران نے جمعہ کو بھی تین جہازوں کو ہرمز عبور کرنے سے روک دیا تھا اور انہیں واپس بھیج دیا تھا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
