دنیا
ایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اس ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد پہلی بار سینیٹ کی ایک اہم کمیٹی کے سامنے گواہی دی۔
پیٹ ہیگسیتھ نے سینیٹ کی تخصیصی کمیٹی کو بتایا کہ ایران جنگ پر امریکہ کے 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، تاہم سی این این سے پہلے بات کرنے والے ماہرین کے مطابق اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
آبنائے ہرمز کی حکمتِ عملی سے متعلق انھوں نے گواہی میں کہا کہ ہرمز سے بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے امریکی فوجی کارروائی مئی میں اس کے اعلان کے بعد بھی خفیہ طور پر جاری رہی۔ ان کے مطابق، اس کارروائی کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ سے 50 کروڑ (500 ملین) بیرل تک تیل کی محفوظ ترسیل میں مدد دی گئی، جب کہ ایرانی حملوں کے باوجود امریکہ نے وہاں اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔
روس اور چین کے کردار کے حوالے سے ہیگسیتھ نے کہا کہ چین اور روس مختلف سطحوں پر ایران کی بعض سرگرمیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’اس کی روک تھام کے ہمارے پاس کئی طریقے ہیں… لیکن اس تعاون کی نوعیت اور حد ایسی معلومات ہیں جنھیں خفیہ ہی رہنا چاہیے۔‘‘
ایران کے جوہری اہداف سے متعلق جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی فوج پک ایکس ماؤنٹین کے نیچے واقع مبینہ ایرانی جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، تو ہیگسیتھ نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری بہت سی صلاحیتیں خفیہ ہیں۔‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کہا کہ امریکا اس ہدف کو ’’بہت جلد‘‘ نشانہ بنائے گا۔
امریکی وزیر جنگ نے اعتراف کیا کہ ہر ایرانی کشتی اور میزائل کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، تاہم ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے، ناکہ بندی جاری رکھ سکتے ہیں، ایران کے جہازوں اور بندرگاہوں پر دباؤ برقرار ہے۔ انھوں نے کہا میں تسلیم کرتا ہوں ایران کے پاس اب بھی صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم ہم نے ایران کو تاریخ کی بدترین صورت حال میں پہنچا دیا ہے۔
اجلاس میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، ایک سخت نوک جھونک کے دوران مشیگن سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر گیری پیٹرز نے ہیگسیتھ کی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے انھیں ناکام قرار دیا اور انتظامیہ کی جنگی حکمتِ عملی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹک سینیٹر کرسٹن گِلِبرینڈ نے ہیگسیتھ سے جنگ کے جواز پر سخت سوالات کیے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ہیگسیتھ نے ایران کی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت تباہ کرنے کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر جنگ ایران کے ساتھ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید دسیوں ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
ماسکو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نجی طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جوہری معاہدے کے بغیر بھی ختم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ کئی ہفتوں سے اس بات کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو ایران کے ساتھ جنگ میں فتح کا اعلان کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے سامنے نجی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بغیر بھی کسی سمجھوتے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔
امریکی ایوانِ صدر کے ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کی اب توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگر ایران بحری جہازوں پر حملے جاری رکھتا ہے تو صدر کے پاس فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔
امریکی حکام نے مزید بتایا کہ صدر نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے نجی گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران کے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ امریکہ 2025 تک ایران کی 3 اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکا تھا۔ حالیہ ملاقاتوں میں ٹرمپ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران پر امریکی حملوں کا خطرہ ایک قابلِ اعتماد بازدار قوت کے طور پر کام کرے گا۔
حکام کے مطابق اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر زیادہ آمادہ ہوں گے۔ توقع ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو امریکی صدر ایرانی بندرگاہوں پر عائد فوجی ناکہ بندی بھی ختم کر دیں گے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے اس لیے روک دیے ہیں کیونکہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سمجھوتے شامل ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مقررہ بحری راستے کی جغرافیائی تفصیلات پر اتفاق کر لیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
تہران، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت میں واقع احمد الجابر امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے حالیہ امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں واقع احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حملے کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ تاہم اس دعوے پر امریکہ یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ م س
