دنیا
آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
تہران، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس اکتوبر کے دوران درجنوں بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
برطانوی ادارے ‘یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز’ (یو کے ایم ٹی او) نے جمعہ کی رات بتایا کہ 16 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران کم از کم 12 بحری جہازوں پر حملے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم ادارے نے وضاحت کی کہ حملوں کی اصل تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، کیونکہ نشانہ بننے والے بیشتر جہازوں نے اس کے پاس رپورٹ درج نہیں کرائی۔
ادارے کے مطابق، اسے دیگر ذرائع سے بھی کئی واقعات کی اطلاعات ملی ہیں، لیکن معلومات کی کمی کے باعث ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اکتوبر کے پہلے نصف میں بھی یہی صورت حال رہی۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے رواں ماہ بحری جہازوں پر حملوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق، حملوں کا نشانہ بننے والے 12 مصدقہ جہازوں میں سے چھ اپنی منزل کی جانب روانہ رہے یا بندرگاہ پہنچ گئے، ایک ڈوب گیا، دو ناکارہ ہو گئے، جبکہ تین کو نقصان پہنچا یا ان کی صورت حال کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادارے نے ہفتہ کو ایک نئے نوعیت کے حملے کی اطلاع بھی دی۔ ایک آئل ٹینکر کے کپتان نے بتایا کہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں جبیل شہر سے تقریباً 144 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک چھوٹی کشتی سے داغے گئے راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ نے جہاز کو نشانہ بنایا، جس سے اس کے پچھلے بائیں حصے کو نقصان پہنچا۔
حالیہ مہینوں میں امریکہ نے عرب ممالک کے ساتھ مربوط نظام کے ذریعے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف سے توانائی کی ترسیل بڑھانے کی کوشش کی ہے، تاہم ایران کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث تیل کی ترسیل میں ہفتہ وار اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی ‘کپلر’ کے مطابق، 13 اکتوبر کو ختم ہونے والے سات روز کے دوران آبنائے ہرمز سے روزانہ 1 کروڑ 16 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی، جو جنگ سے پہلے کی روزانہ 1 کروڑ 71 لاکھ بیرل کی سطح کا تقریباً 68 فیصد ہے۔
حملوں میں اضافے کے درمیان جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت مئی کے بعد پہلی مرتبہ 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں اور باب المندب پر ان کے قبضے کی اطلاعات کے ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں شدت کے خدشات نے بھی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کے بارے میں ایران کے برعکس مؤقف اختیار کیا ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا میں تیل اور قدرتی گیس کی مجموعی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ بریڈ کوپر نے جمعہ کی رات ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایرانی حملوں کے باوجود گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے 400 بحری جہاز اور 10 کروڑ بیرل تیل گزرا۔ انہوں نے کہا، ”میں واضح کر دوں کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت داروں کا کنٹرول ہے، ایران کا نہیں۔” کوپر نے بحری جہازوں پر حملوں میں اضافے کو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی مایوسی سے تعبیر کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روبِیو کا دورۂ ازبکستان، وسطی ایشیا کی متنوع شراکت داروں کی تلاش کا عکاس
سمرقند، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ہفتہ کو ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ خطے کے اہم وزرا کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
ہفتہ سے منگل تک ہونے والا ‘سی 5 1’ سربراہ اجلاس، جس میں وسطی ایشیا کے پانچ ممالک اور امریکہ شامل ہیں، سابق سوویت خطے کے تئیں واشنگٹن کی نئی حکمت عملی کا اشارہ ہے۔ اس حکمت عملی میں جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق سے متعلق تقاریر کے بجائے عملی تعاون اور خالصتاً مفادات پر مبنی تعلقات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
وسطی ایشیا کی آزادی کے ابتدائی دور میں امریکہ اور یورپ کے سفارت کار اور کاروباری شخصیات اس مسلم اکثریتی خطے میں تحائف لے کر آتے اور اصلاحات کے بارے میں نصیحتیں بھی کرتے تھے۔ یہ خطہ روس، چین اور ایران کے درمیان جغرافیائی طور پر اہم مقام رکھتا ہے۔
1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد خطے کو معاشی زوال، بے روزگاری اور غربت کا سامنا تھا۔ ایسے میں امریکی اور یورپی سفارت کاروں اور کاروباری شخصیات کو سرمایہ دارانہ خوش حالی کی نئی دنیا کے نمائندوں کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
مغربی ممالک صرف معاشی اصلاحات ہی نہیں چاہتے تھے، بلکہ ان کا اصرار تھا کہ سابق کمیونسٹ رہنما سوویت دور کے آمرانہ طرز حکمرانی کو ترک کریں۔ مغربی ممالک نے انسانی حقوق، جمہوریت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے موضوعات پر اجلاس اور ورکشاپس منعقد کیں اور ہزاروں طلبہ و سرکاری عہدیداروں کو مغربی اداروں میں تعلیم و تربیت کے لیے بھیجا۔
جب خطے کے رہنماؤں نے صدارتی مدت بڑھانے، اپنے رشتہ داروں اور قریبی ساتھیوں کو اہم سرکاری عہدوں پر تعینات کرنے اور کاروباری سلطنتیں قائم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی کوشش کی تو مغرب نے ان پر تنقید کی اور پابندیوں کی دھمکیاں بھی دیں۔
ازبکستان میں پیدا ہونے والی اور مالدووا میں مقیم علاقائی امور کی ماہر گالیا ابراگیمووا نے الجزیرہ سے کہا کہ جب مغربی ممالک نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں نصیحتیں شروع کیں تو خطے کے رہنماؤں نے فوراً چین یا روس کا رخ کر لیا۔
37 ملین آبادی والا خطے کا سب سے بڑا ملک ازبکستان اس کی نمایاں مثال ہے۔ ملک کے سابق صدر اسلام کریموف نے 2001 میں امریکہ کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن چار سال بعد انہوں نے واشنگٹن کی تنقید کے بعد یہ اڈہ بند کر دیا۔ امریکہ نے مشرقی شہر اندیجان میں عوامی بغاوت کو بے رحمی سے کچلنے پر کریموف کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس میں سیکڑوں غیر مسلح شہری ہلاک ہوئے تھے۔
2005 میں افشا ہونے والی امریکی سفارتی کیبل میں کریموف کی بیٹی گلنارا کو ایک ایسی بااثر کاروباری شخصیت قرار دیا گیا تھا جس نے مبینہ طور پر زبردستی منافع بخش کاروباروں پر قبضہ کیا اور انہیں اپنے والد کی ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا۔
مبصرین کے مطابق، 2022 میں یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد صورت حال بدل گئی ہے اور اب روس بھی وسطی ایشیا کو اپنے قریب رکھنے کے لیے نظریاتی دباؤ اور نصیحتوں کا سہارا لے رہا ہے۔
وسطی ایشیا میں روس کا ثقافتی اثر و رسوخ اب بھی مضبوط ہے۔ فلموں، پاپ موسیقی اور تھیٹر فیسٹیولز کے علاوہ روسی ٹیلی ویژن کے ایسے پروگرام بھی خطے میں دیکھے جاتے ہیں جو یوکرین جنگ کے بارے میں مسلسل پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
انقرہ، صدر رجب طیب ایردوان نے زونگل دک کی فلیوس بندرگاہ میں منعقدہ “عثمان غازی فلوٹنگ پروڈکشن پلیٹ فارم کی روانگی تقریب” کو بھیجے گئے ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ سرخ پرچم کے رنگوں سے سجا ہوا عثمان غازی فلوٹنگ پلیٹ فارم ملک اور قوم کے لیے خیر و برکت والی خدمات انجام دینے کے دعا گو ہیں۔
انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ ہم نے جولائی 2024 میں اعلان کیا تھا کہ ہم فلوٹنگ پروڈکشن پلیٹ فارم ترکیہ لے کر آئیں گے اور گزشتہ سال مئی میں اس کا نام “عثمان غازی” رکھا گیا اور اسے دولما باغچے محل سے فلیوس کی طرف روانہ کیا گیا تھا۔
ایردوان نے کہا: “آج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نئے باب کو شروع کر رہے ہیں۔ درحقیقت ہم ایک تیرتی صنعتی تنصیب کے حامل عثمان غازی کو اس کے تعیناتی مقام، بحیرۂ اسود کی طرف روانہ کر رہے ہیں۔
عثمان غازی، ‘ترکیہ صدی’ کے ہمارے وژن کا سمندروں میں مظہر یعنی ‘نیلے وطن’ کا پہلا کارخانہ ہے۔
ایردوان نے بتایا کہ یہ پلیٹ فارم 140 عملے کے ارکان کے ساتھ تیرتا ہوا ایک توانائی قلعہ ہے ، یہ اس پر نصب 21 مختلف یونٹس کے ذریعے سکاریہ گیس فیلڈ کے کنوؤں سے حاصل شدہ گیس کو پروسیس کرے گا اور سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی پائپوں کے ذریعے فلیوس کو بھیجے گا۔
اس طرح بحیرۂ اسود میں ہماری قدرتی گیس کی پیداواریومیہ 20 ملین مکعب میٹر تک پہنچ کر دوگنی ہو جائے گی اور 2027 کے آغاز سے ہر تین گھروں میں سے ایک ہماری ملکی قدرتی گیس استعمال کرے گا۔ میں اس کے لیے خیر و برکت کی دعا کرتا ہوں۔ اس اہم منصوبے پرکام کرنے والے تمام ہم وطنوں کا شکر گزار ہوں اور پلیٹ فارم پر کام کرنے والے تمام عملے کے لیے کامیابی کی تمنا کرتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
تہران، ایران نے یمن کے حوثیوں کے حملوں سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے، یہ اعلان سعودی عرب کے بیان کہ ایران نے ملیشیا کو ملک کے خلاف حالیہ کشیدگی بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی تھی، کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ ایران نے یمن میں حوثی کارروائیوں میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔
بقائی نے کہا کہ حوثی ملیشیا اپنے مفادات اور اندازوں کے مطابق عمل کرتے ہیں اور ایرانی مداخلت کے بارے میں دعوے قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران کشیدگی میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔
جب سے جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ بھڑک اٹھی ہے، ایران کے حامی مسلح گروپ نے بارہا سعودی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں بحیرہ احمر کے ٹینکر، تیل کے ادارے اور ریاض کابین الاقوامی ہوائی اڈہ شامل ہیں، جہاں پچھلے ہفتے ایک حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ریاض کا کہنا ہے کہ اس کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں کل 19 افراد ہلاک اور 360 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی قیادت کی حامل عسکری اتحادی فورس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی ہے، اور جمعہ کو بتایا کہ انہوں نے مزید میزائل اور ڈرون سرنگوں کیے ہیں کیونکہ مملکت حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں کی زد میں ہے
ایک روز قبل، سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ ایران نے کشیدگی کی «حوصلہ افزائی» کی، جبکہ تہران نے اس کی تردید کی۔
سعودی عہدیدار، ڈپٹی منسٹر برائے عوامی سفارتکاری رائد کریملی نے کہا تھا کہ حالیہ فائرنگ کی نئی لہر کے آغاز پر حوثیوں نے عمان میں ملاقات کی پیشکش کو رد کر دیا تھا۔
بقائی نے دونوں فریقوں کے درمیان مصالحت کی پیشکش کو دہرایا اور کہا کہ تہران “ہمیشہ سے اپنے اچھے روابط استعمال کرنے کے لیے تیار رہا ہے تاکہ تنازعات کے خاتمے میں مدد کی جا سکے”۔
جمعہ کو سعودی قیادت کی حامل عسکری اتحادی فورس کے ایک ترجمان نے کہا کہ انہوں نے”جنوبی علاقے اور ریاض میں تین ڈرون اور بحیرہ احمر پر دو کروز میزائل ناکارہ بنائے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ “گزشتہ چند گھنٹوں میں ہم نے ینبع کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل تباہ کیا”، ینبع بحری احمر کے ساحل پر واقع ایک شہر ہے جہاں ایک بڑی تیل پائپ لائن کا اختتامی حصہ ہے۔
حوثی ملیشیا کے حملے اسوقت بڑھ گئے ہیں جب گروپ نے ستمبر میں یمن میں تیز رفتار جارحانہ کارروائی شروع کی، اور بحیرہ احمر کے ساحل پر ایسے اسٹریٹجک حکومتی علاقے قبضے میں لے لیے جو عالمی شپنگ کے لیے ایک اہم تنگ گزرگاہ کے کنارے واقع ہیں۔
سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، اس دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جبکہ عالمی توانائی منڈی پہلے ہی فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کے وسیع تنازعے کے آغاز پر ایران کی جانب سے تنگِ ہرمز کو بند کرنے سے پریشان تھی۔
سعودی وزارت خارجہ کے رائد کریملی نے جمعرات کو ایران پر الزام لگایا کہ وہ “حوثی ملیشیا کو ہتھیار، تربیت اور حمایت فراہم کرتا رہتا ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے”۔
یمنی سرکاری افواج نے سعودی فضائی تعاون کے ساتھ حوثی ملیشیا سے چھینے گئے علاقوں کو واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی ہے، مگر اب تک وہ حوثیوں کی حاصل کردہ پیش رفت کو واپس نہیں پلٹا سکے۔
جمعہ کو عدن، جو حکومت کا عبوری دارالحکومت ہے، کے مقامی سکیورٹی دفتر نے کہا کہ دو میزائل شہر کے ہوائی اڈے کے احاطے میں گرے، تاہم اس حملے میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔
ایک روز قبل، ملیشیائی گروپ نے عدن میں صدارتی محل پر ایک مہلک میزائل حملہ کیا تھا، جس میں صحت کے وزیر کے مطابق پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے تھے۔
یمنی وزیرِ اعظم شایع الزندانی نے ایکس پر اس فعل کو «بزدلانہ» قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور کہا کہ یہ «(حوثیوں کے) مجرمانہ پیٹرن کا تسلسل» ہے۔
ایک سرکاری وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ حوثیوں نے محل کے کمپلیکس میں قائم یمنی اور سعودی اتحاد کی کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا۔
حوثیوں سے منسلک میڈیا نے کہا کہ حملے کا ہدف “عدن کے محل المعاشِق میں سعودی افسران کی قیادت میں فوجی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر” تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
دنیا1 week agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
دنیا1 week agoہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
ہندوستان1 week agoجنتر منتر پر احتجاج سے پہلے کیجریوال ، سنجے سنگھ سمیت کئی ‘عآپ’ رہنما حراست میں
-
جموں و کشمیر1 week agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
-
ہندوستان1 week agoانڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
-
ہندوستان1 week agoاتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
-
جموں و کشمیر1 week agoدہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
