پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
عمران خان کی پی ٹی آئی خیبر پختونخوا پر وفاقی قبضے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کے لیے تیار
اسلام آباد، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا پر وفاقی حکومت کے کنٹرول کے خلاف قانونی چیلنج دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس صوبے میں اب تک پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے الجزیرہ کو بتایا کہ پارٹی منگل کو عدالت میں صوبے میں ایمرجنسی قوانین کے نفاذ، شہری آزادیوں کی معطلی اور گورنر راج کے خلاف درخواست دائر کرے گی۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی سربراہی میں قانونی کمیٹی نے درخواست تیار کر لی ہے، تاہم اکرم نے یہ نہیں بتایا کہ اسے سپریم کورٹ میں دائر کیا جائے گا یا وفاقی آئینی عدالت میں۔
وفاقی حکومت کے اس اقدام سے پاکستان میں سیاسی کشیدگی کا ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی اس معاملے پر ایک دوسرے سے مختلف موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پی ٹی آئی اپنے قید رہنما عمران خان کی رہائی کے لیے حکام پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے اسلام آباد کی جانب تاخیر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں مصروف تھی۔ عمران خان تین سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے ملحقہ سرحد رکھنے والے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے وفاقی کنٹرول ضروری ہے۔
انہوں نے پیر کو پشاور میں کہا، ”آپ جتنے بھی وسائل لے آئیں اور کچھ بھی کر لیں، جب تک وہاں کی حکومت اس لڑائی کی قیادت نہیں کرے گی، کوئی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔”
اتوار کو صدر آصف علی زرداری نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت معطل کر دی تھی۔ پارٹی 2013 سے خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہی ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پیر کو تصدیق کی کہ معطل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ تاہم، ان مشکلات کے باوجود پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا، ”لانگ مارچ ختم نہیں ہوا ہے، لیکن پارٹی کے خلاف ایک تاریخی کریک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔”
اتوار کو جاری کیے گئے اعلان کے مطابق، صوبائی حکومت ”دہشت گردی کے خطرے سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے مطلوبہ ذمہ داری، عزم اور ارادے کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔”
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کی جوائنٹ ڈائریکٹر آسیہ ریاض نے الجزیرہ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کا موقف واضح ہے۔ ان کے مطابق، کابینہ کے اجلاس کے بعد صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف لڑائی سے ”جان بوجھ کر الگ ہونے” کا الزام لگایا گیا، جسے ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے اعزازی فیکلٹی رکن اور وکیل حسن عبداللہ نیازی نے اس دلیل سے اختلاف کیا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے سابق فوجیوں کے مبینہ بیان میں فرعون کا حوالہ، 1971 کی تاریخ دہرانے سے خبردار
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات پر تنقید، فوجی وردی کو اقتدار نہیں بلکہ امانت قرار دیا؛ بیان کی صداقت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی
اسلام آباد: پاکستان کے سابق فوجیوں کی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ پریس ریلیز میں قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ کارروائیوں اور اختیارات کے استعمال پر تنقید کی گئی ہے۔ بیان میں فرعون کی مثال پیش کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کو 1971 جیسے تاریخی بحران کی جانب دھکیلنے والے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔
11 اکتوبر 2026 کی تاریخ درج اس پریس ریلیز میں تنظیم ویٹرنز آف پاکستان (VOP) کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کی مذمت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق، تنظیم کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک ہنگامی اجلاس میں ان اقدامات کو آئین، وفاق اور عوام کی خواہشات کے منافی قرار دیا۔ اس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ منتخب حکومت کو برطرف کرنے اور اس کے رہنماؤں کو حراست میں لینے جیسے اقدامات سے لاکھوں پشتونوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پریس ریلیز میں قرآن مجید کی سورۃ القصص کی آیت 4 کا حوالہ دیتے ہوئے فرعون کے طرزِ حکمرانی کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں اس کے زمین میں سرکشی کرنے اور لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کرکے ایک طبقے پر ظلم ڈھانے کا بیان ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی ایسے حالات کا سامنا کرچکا ہے۔ اس ضمن میں 1971 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ سیاسی اختلافات کا جواب طاقت کے بجائے مکالمے سے دیا جانا چاہیے۔
مبینہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ملک نے 1971 میں سیاسی بحران اور طاقت کے استعمال کی بھاری قیمت ادا کی تھی، جب مشرقی پاکستان الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ بیان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے ملک کے اتحاد اور استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بیان میں فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ آئینی حدود اور جمہوری اصولوں کو مقدم رکھیں۔ اس میں فوجی وردی کے حوالے سے کہا گیا ہے:
’’وردی ایک امانت ہے، تخت نہیں۔‘‘
تنظیم سے منسوب بیان میں سیاسی بحران کے حل کے لیے آئینی طریقہ کار، قومی اتحاد اور پُرامن جدوجہد پر زور دیا گیا ہے۔
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
دنیا1 week agoہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
-
جموں و کشمیر1 week agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
-
ہندوستان1 week agoجنتر منتر پر احتجاج سے پہلے کیجریوال ، سنجے سنگھ سمیت کئی ‘عآپ’ رہنما حراست میں
-
ہندوستان1 week agoاتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
-
جموں و کشمیر1 week agoدہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
-
دنیا6 days agoایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
-
دنیا6 days ago‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
-
ہندوستان1 week agoمودی نے جمہوریت کو آمریت میں بدل دیا ہے: پرینکا
-
ہندوستان6 days agoہریانہ، دہلی اور پنجاب میں طوفان کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں بارش کے آثار
