جموں و کشمیر
کپواڑہ میں دراندازی کی کوشش ناکام، فائرنگ کا مختصر تبادلہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں ہفتہ کی علی الصبح سکیورٹی فورسز نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ دراندازی کی ایک مشتبہ کوشش کو ناکام بنا دیا۔ اس دوران فائرنگ کا مختصر تبادلہ بھی ہوا۔ عہدیداروں نے یہ اطلاع دی۔
عہدیداروں کے مطابق، فائرنگ کا مختصر تبادلہ صبح 3 بجے سے 4 بجے کے درمیان جم گنڈ علاقے میں ہوا، جو ترہگام پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، سکیورٹی اہلکاروں نے ایل او سی کے قریب مشتبہ نقل و حرکت کا پتہ لگایا، جس کے بعد دونوں جانب سے مختصر وقت کے لیے فائرنگ ہوئی۔
اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ فوج کی جانب سے تاحال اس کارروائی کے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
ایل او سی کے ساتھ دراندازی کی کوششوں میں عموماً سردیوں سے قبل اضافہ دیکھا جاتا ہے، کیونکہ بھاری برف باری کے باعث پہاڑی درّے بند ہونے اور کئی راستے ناقابلِ رسائی ہونے سے پہلے عسکریت پسند وادی میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس عرصے کے دوران فوج عموماً ایل او سی کے حساس علاقوں میں نگرانی اور علاقے پر کنٹرول مضبوط بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ کرتی ہے، تاکہ دراندازی کی کوششوں کو روکا جا سکے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: غیر قانونی کان کنی اور ای چالان میں ہیرا پھیری پر کان کنی کے عہدیداروں سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ
جموں، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ضلع ادھم پور میں معمولی معدنیات کی غیر قانونی کھدائی اور نقل و حمل، مقررہ نرخوں سے زیادہ وصولی اور الیکٹرانک چالان میں ہیرا پھیری کے الزامات کے تحت کان کنی کے عہدیداروں اور بعض نجی افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
اے سی بی کے ترجمان کے مطابق، ادھم پور کے اے سی بی پولیس اسٹیشن میں راجیو جموں، اسسٹنٹ مائننگ انجینئر اور ضلع مائننگ آفیسر ادھم پور، رمیشور سنگرا، ضلع مائننگ آفیسر ریاسی؛ سوارن سنگھ راٹھور اور دیگر نجی افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ملزمین کے خلاف انسدادِ بدعنوانی قانون 1988، ترمیم شدہ دفعات اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ بعض نجی کان کنی آپریٹرز، جن میں اسٹون کرشر چلانے والے افراد بھی شامل ہیں، مقررہ حد سے زیادہ معمولی معدنیات نکالنے میں ملوث تھے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے کان کنی کے لیز کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی کام جاری رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں سے زیادہ قیمتیں وصول کرنے، ای چالان میں ہیرا پھیری اور ان کا غلط استعمال کرنے کے علاوہ ضروری اجازت نامے، یعنی آپریٹ کرنے کی رضامندی (سی ٹی او)، کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اسٹون کرشر یونٹس چلانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق، ابتدائی انکوائری میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ متعلقہ سرکاری ملازمین مبینہ طور پر نجی آپریٹروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے ان سرگرمیوں کو انجام دینے میں سہولت فراہم کر رہے تھے۔
اے سی بی اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ہر ملزم کا مبینہ کردار کیا تھا، غیر قانونی طور پر کتنی معدنیات نکالی اور منتقل کی گئیں، مقررہ نرخوں سے زیادہ کتنی رقم وصول کی گئی اور اس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو کتنا نقصان پہنچا۔
بیورو نے اس معاملے میں ملزمین کے رہائشی اور تجارتی مقامات پر تلاشی کی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔ ترجمان کے مطابق، تلاشی اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
انسدادِ بدعنوانی بیورو نے واضح کیا کہ غیر قانونی کان کنی، سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال، بدعنوانی اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
خاتون افسر کے ساتھ بدسلوکی کے الزام پر آئی اے ایس افسر کے خلاف 15 روزہ انکوائری کا حکم
سرینگر، جموں و کشمیر حکومت نے محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سکریٹری کمار راجیو رنجن کے خلاف ایک خاتون افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں جمعہ کو تفصیلی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ متاثرہ افسر جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایمپلائمنٹ، گاندربل ہیں۔
محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق، حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کی کمشنر و سکریٹری مندیپ کور کو معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں سامنے آیا تھا۔
حکومت نے انکوائری افسر کو ہدایت دی ہے کہ وہ حکم نامہ جاری ہونے کی تاریخ سے 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن میں حکومت کے ایڈیشنل سکریٹری امیت ورمانی، جو جے کے اے ایس افسر ہیں، اس معاملے میں پیش کرنے والے افسر (پریزنٹنگ آفیسر) کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
یہ حکم محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کے آل انڈیا سروسز سیکشن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس پر حکومت کے کمشنر و سکریٹری ایم راجو کے دستخط ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر 2010 بیچ کے آئی اے ایس افسر راجیو رنجن کو مشن یوتھ اپ لفٹمنٹ اینڈ وائبرنٹ ایڈوانسمنٹ (یووا) کے جائزہ اجلاس کے دوران جے کے اے ایس کی خاتون افسر بینش وانی کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ راجیو رنجن اس وقت محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مبینہ ویڈیو میں رنجن کو آن لائن اجلاس کے دوران غصے میں آتے اور وانی کو مبینہ طور پر ”بلڈی شٹ” کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ وہ مبینہ طور پر یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ان سے ”ہمیشہ اسی طرح بات کر سکتے ہیں”۔ ویڈیو میں آئی اے ایس افسر کو اپنے چیمبر میں موجود عہدیداروں کو فوری طور پر خاتون افسر کی معطلی کا حکم تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
تاہم، رنجن کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے محکمہ محنت و روزگار نے وائرل ویڈیو کلپ کی صداقت پر سوال اٹھائے ہیں۔
اس سے قبل جمعہ کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ بادی النظر میں سینئر افسر کا طرزِ عمل ایک سینئر آئی اے ایس افسر سے متوقع معیار کے مطابق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک جونیئر جے کے اے ایس افسر کو دی جانے والی دھمکیوں نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھاکہ ”میں نے یہ معاملہ چیف سکریٹری کے ساتھ انتہائی سختی سے اٹھایا ہے۔ بدقسمتی سے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں آئی اے ایس افسران پر اختیار لوک بھون کا ہے، تاہم وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے میں نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جے کے اے ایس خاتون افسر کو انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”
انہوں نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر ایک مکمل ریاست ہوتا تو نوجوان جے کے اے ایس خاتون افسر کو مبینہ طور پر گالیاں دینے والے آئی اے ایس افسر کو انکوائری مکمل ہونے تک محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن سے منسلک کر دیا جاتا۔
عمر عبداللہ نے مزید کہاکہ ”مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حیثیت سے ہم ان حکام سے توقع کرتے ہیں جن کے پاس آئی اے ایس افسران پر اختیار ہے کہ وہ ایک درست مثال قائم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ گالی گلوچ اور دھمکی آمیز رویے کو نظرانداز نہ کیا جائے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر نے سانکو ضلع کے قیام کا اعلان کیا
سرینگر، لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے جمعہ کو سانکو ضلع کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اسے علاقے کے عوام کی دیرینہ خواہش کی تکمیل قرار دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سکسینہ نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کے وژن کے عین مطابق ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ ”یہ علاقے کے عوام کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہے۔”
سانکو ضلع کے قیام کے ساتھ ہی لداخ میں اضلاع کی تعداد موجودہ سات سے بڑھ کر آٹھ ہو جائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس مطالبے کو حقیقت کا روپ دینے میں انجمن صاحب زمان کے تعمیری کردار اور اس کے سرپرست اعلیٰ سید محمد رضوی، جو عام طور پر آغا میگی اوتھ کے نام سے مشہور ہیں اور چیئرمین شیخ صادق بلاغی کی کوششوں کو سراہا۔
سکسینہ نے ضلع کے قیام میں کرگل کے چیف ایگزیکٹیو کونسلر ڈاکٹر جعفر اخون، لداخ کی رکن پارلیمنٹ حنیفہ جان اور لیہ کے سابق چیف ایگزیکٹیو کونسلر تاشی گیلسن کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔
انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے کام کرنے والے تمام افراد کو مبارک باد دی۔
یہ اعلان لداخ کے ضلعی انتظامی ڈھانچے میں توسیع کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ سال 2024 میں مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں پانچ نئے اضلاع کے قیام کو منظوری دی تھی۔ ان پانچ اضلاع کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن 27 اپریل کو جاری کیا گیا تھا۔
یواین آئی۔ ط ا
-
ہندوستان7 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
جموں و کشمیر7 days agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
دنیا1 week agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoجنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
-
دنیا1 week agoہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
-
جموں و کشمیر1 week agoدہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
-
جموں و کشمیر7 days agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
-
ہندوستان1 week agoانڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن سڑک حادثے میں دو افراد ہلاک، سات زخمی
