دنیا
حوثیوں کا موخا کے قریب سعودی عرب کا ونگ لونگ ٹو ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
صنعا، یمن کے حوثی باغیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے تعز گورنری کے موخا کے علاقے میں سعودی عرب کی جانب سے مبینہ طور پر چلائے جانے والے چینی ساختہ ’ونگ لونگ ٹو‘ مسلح جاسوسی ڈرون کو مار گرایا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ بغیر پائلٹ طیارے کو ’’موزوں ہتھیار‘‘ استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بار بار ہونے والی فوجی جھڑپوں کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سریع نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا، ’’یمنی مسلح افواج نے سعودی دشمن سے تعلق رکھنے والے ونگ لونگ ٹو مسلح جاسوسی ڈرون کو اس وقت مار گرایا جب وہ تعز گورنری کے موخا کے اوپر دشمنانہ کارروائیاں انجام دے رہا تھا۔ اسے موزوں ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا۔‘‘
اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ واقعہ یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کے تسلسل کے پس منظر میں پیش آیا ہے۔ ’المسیرہ‘ کے مطابق سریع نے اس سے قبل کہا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن اور اس کے عوام کے خلاف ’’دشمنانہ کارروائیوں‘‘ میں اضافے کے بعد کیے گئے فضائی حملوں کی تعداد 760 تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی جنگی طیاروں، جن میں ایف-15 اور ٹائفون شامل ہیں اور جو خمیس مشیط اور طائف کے فضائی اڈوں سے کارروائیاں کر رہے ہیں، نے 28 فضائی حملے کیے ہیں۔
ڈرون مار گرائے جانے کا تازہ دعویٰ ایسے وقت بھی سامنے آیا ہے جب جاری تنازع اور اس کے علاقائی سلامتی، بحری آمدورفت اور عالمی تجارت پر وسیع تر اثرات کے حوالے سے بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔
پیر کو جی سیون کے وزرائے خارجہ نے یمن اور سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والے حملے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ایران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ حوثی گروپ کو مبینہ طور پر اسلحہ اور دیگر مدد فراہم کرنا بند کرے۔
جی سیون نے کہا کہ یمن کی صورتحال علاقائی استحکام و سلامتی، عالمی توانائی سلامتی اور بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کے حقوق اور بحری سلامتی کے لیے ’’ناقابل قبول خطرہ‘‘ بن گئی ہے۔
گروپ نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں، دھمکیاں اور شہری بحری جہازوں کے خلاف حملے بند کریں اور سیاسی عمل کی طرف واپس آئیں۔ جی سیون نے یمن کی جائز حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔
یہ بیان 19 ستمبر کو حوثیوں کے ان حملوں کے بعد سامنے آیا جن کے بارے میں گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب بیلسٹک اور کروز میزائل اور ڈرون داغے، جن میں ریاض کے حساس مقامات اور ینبع میں آرامکو کی تنصیبات بھی شامل تھیں۔
’ونگ لونگ ٹو‘ چین کا تیار کردہ درمیانی بلندی پر طویل دورانیے تک پرواز کرنے والا بغیر پائلٹ فضائی طیارہ ہے، جسے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا (اے وی آئی سی) نے تیار کیا ہے۔ اسے بنیادی طور پر نگرانی اور جاسوسی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاہم اسے مسلح کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس ڈرون کے پروں کا پھیلاؤ 20.5 میٹر اور لمبائی 11 میٹر ہے۔ یہ تقریباً 370 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور اس کی عملیاتی حد تقریباً 1,500 کلومیٹر ہے۔ اس کی پرواز کا دورانیہ 32 گھنٹے تک بتایا جاتا ہے۔
یہ ڈرون مختلف اقسام کے بم، راکٹ اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل لے جا سکتا ہے۔ اس میں نگرانی اور اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دن اور رات میں کام کرنے والے انفراریڈ کیمروں پر مشتمل الیکٹرو آپٹیکل نظام بھی نصب ہے۔
ونگ لونگ ٹو ایم اے ایل ای کی زیادہ سے زیادہ پے لوڈ صلاحیت 400 کلوگرام ہے۔ یہ مجموعی طور پر 480 کلوگرام وزن کے 12 لیزر گائیڈڈ بم یا میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ونگ لونگ ون صرف دو بم یا میزائل لے جا سکتا ہے جن کا مجموعی وزن 100 کلوگرام تک ہوتا ہے۔
2016 میں ژوہائی ایئر شو کے دوران ونگ لونگ ٹو کو مختلف اقسام کے بموں اور میزائلوں کے ساتھ پیش کیا گیا تھا، جن میں ایف ٹی-9/50، 50 کلوگرام بم، جی بی-3، 250 کلوگرام لیزر گائیڈڈ بم اور ٹی ایل-10 بم شامل تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کا ایس ایم آر برآمدات کے لیے عملی منصوبے کا اعلان، یورپ میں 150 ارب ڈالر کے جوہری معاہدے
نیویارک، امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے دنیا بھر میں چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز (ایس ایم آر) کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر ایک ’’عملی منصوبے‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ یہ منصوبہ اس سال کے اوائل میں انقرہ میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کو آگے بڑھاتا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی عالمی سطح پر جوہری توانائی کی صلاحیت میں توسیع کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
یہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تینوں ممالک کے وزارتی سطح کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ نیا منصوبہ ’’دیگر ممالک میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر) کی تنصیب سے متعلق تعاون کی یادداشت‘‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جس پر تینوں ممالک نے 7 جولائی کو دستخط کیے تھے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ ’’دنیا بھر میں توانائی کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایس ایم آر ری ایکٹرز کے بیڑے کی تنصیب کے ایک پرعزم ایجنڈے‘‘ کے ذریعے تینوں ممالک کے مشترکہ سلامتی مفادات کے تحفظ میں مدد دے گا۔
الگ سے، نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے صنعت سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، جس کے تحت امریکہ کی جی ای ویرنووا، جاپان کی ہٹاچی، جنوبی کوریا کی سام سنگ سی اینڈ ٹی اور پولینڈ کی ایس جی ای نے یورپ بھر میں بی ڈبلیو آر ایکس-300 چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی مشترکہ تنصیب پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ چار ملکی صنعتی اتحاد کا مقصد ’’یورپ بھر میں لاکھوں افراد کو قابل اعتماد بنیادی جوہری بجلی فراہم کرنا‘‘ ہے اور آنے والے برسوں میں ری ایکٹرز میں 150 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
واشنگٹن نے اس صنعتی شراکت داری کو اس امر کی مثال قرار دیا کہ اتحادی ممالک اپنی ’’ایک دوسرے کی تکمیلی صنعتی صلاحیتوں‘‘ سے فائدہ اٹھا کر ایسے ری ایکٹرز کی تنصیب تیز کر سکتے ہیں جو جوہری تحفظ، سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین معیارات پر پورا اترتے ہوں۔
یہ اعلانات اس سہ فریقی مفاہمتی یادداشت کے بعد سامنے آئے ہیں جس پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ان کے جاپانی و جنوبی کوریائی ہم منصبوں نے دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ عالمی جوہری ری ایکٹرز کی برآمدات میں روس اور چین کے غلبے کا مقابلہ کرنے کی وسیع تر امریکی کوششوں کا حصہ ہے، جس کے تحت امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو جوہری توانائی میں توسیع کے خواہاں ممالک کے لیے متبادل سپلائرز کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کی ’مکمل تباہی‘ کی دھمکی بین الاقوامی جرائم کا اعتراف :ایران
نیویارک، ایران نے بدھ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’اسلامی جمہوریہ ایران کو مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’مکمل طور پر غیر قانونی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کو فوجی کارروائی کی دھمکی دینے کے لیے استعمال کرنا واشنگٹن کی جانب سے بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کا اعتراف ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے ٹرمپ کے خطاب کو بھی ’’بار بار دہرائے گئے دعووں اور الزامات‘‘ کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات اختیار کے بجائے ’’مایوسی‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں۔
بقائی نے اعلیٰ سطحی سفارتی ہفتے کے پہلے روز کے بعد ایرانی خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ان میں سے ایک نکتہ امریکی صدر کی تقریر تھی۔ یہ بات اس لیے قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں امریکی صدر کے بیانات دہرائے گئے دعوے اور الزامات تھے، اور یہاں بھی بہت سے ممالک کے سفارت کاروں اور وفود کا حقیقی تاثر یہی تھا کہ یہ بیانات اختیار کے نہیں بلکہ مایوسی کے اظہار تھے۔‘‘
ان کا یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر نے تہران کو ایک سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے سامنے یا تو ایسا معاہدہ کرنے کا راستہ ہے جس سے وہ دوبارہ تعمیر نو کرسکے، یا پھر اسے تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا، ’’کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہوگا جو اسے دوبارہ تعمیر ہونے اور اس سے کہیں زیادہ بڑا ملک بننے کی اجازت دے گا؟ یا میں اسلامی جمہوریہ کو مکمل طور پر تباہ کردوں اور یہ کام تیزی سے کروں؟‘‘
بقائی نے اس دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے ٹرمپ پر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کے سب سے بڑے سفارتی فورم کو کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، جو سب سے بڑی بین الاقوامی اسمبلی ہے، کو ایسے بیانات دینے کا اسٹیج بنانا جو مکمل طور پر غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون اور سفارتی روایات کے خلاف ہوں، اختیار کی علامت نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’کسی ملک کو فوجی حملے کی دھمکی دینا، یہ سب موجودہ امریکی حکمران ادارے کی نوعیت کا اعتراف اور بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کا اعتراف ہے۔‘‘
دوسری جانب ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دیگر ممالک سے تہران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے میں واشنگٹن کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے کہا، ’’میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایران کی مکمل اقتصادی تنہائی نافذ کرنے میں ہمارا ساتھ دیں، جب تک وہ تجارتی بحری جہازوں پر اپنے حملے بند نہیں کرتا، اپنی جوہری عزائم سے دستبردار نہیں ہوتا اور دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا۔‘‘
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ امریکی فوجی کارروائیوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جن میں بحریہ، فضائیہ، رڈار نظام، فضائی دفاعی آلات اور میزائل و ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت شامل ہیں۔
بقائی نے اس سوال کا بھی جواب دیا کہ ٹرمپ کی تقریر کے دوران ایرانی وفد نے جنرل اسمبلی کا اجلاس مکمل طور پر چھوڑ کیوں نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سفارتی سطح پر ایران کی نمائندگی کی، جبکہ ایران کے اقوام متحدہ مشن کا ایک سفارت کار کارروائی کی پیروی کے لیے اجلاس ہال میں موجود رہا۔
بقائی نے کہا، ’’اس بارے میں بات ہوئی ہے کہ ایرانی وفد مکمل طور پر اجلاس سے باہر کیوں نہیں گیا۔ سفارت کاروں کے لیے ایران کی نشست مقدس ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اقوام متحدہ جنرل اسمبلی جیسے مقام پر ایران کی نشست ہمارا مضبوط مورچہ ہے، اور یقیناً اگر دوسروں کی سخت اور نامناسب باتوں کی وجہ سے ہم اس مورچے کو چھوڑ دیتے تو ہم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پاتے۔‘‘
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
وزیر خارجہ عراقچی کی ٹرمپ کے خصوصی نمائندوں ویٹکوف اور کشنر سے ملاقات :ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن
نیویارک، امریکی حکام کے پُر زور اصرار پر’ ایرانی وزیر خارجہ عبّاس عراقچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نیویارک میں یکجا ہوئے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے تصدیق کی کہ وزیر خارجہ عراقچی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود تھے، جہاں انہوں نے ٹرمپ کے مشیروں وٹکوف اور کشنر سے ملاقات کی۔
‘امریکی حکام کی مسلسل درخواست پر’ ہونے والی اس ملاقات میں عراقچی نے ایران کے خلیجِ ہرمز کی گزرگاہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط امریکہ کے سامنے رکھیں۔
ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط: امریکی بحری محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے، ایران کے منجمد شدہ تمام اثاثے آزاد کیے جائیں اور تمام علاقوں میں جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔
نیویارک میں ہونے والی یہ ملاقات تہران اور واشنگٹن کے درمیان جون میں پاکستان میں دستخط شدہ معاہدے کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی روبِرو ملاقات تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی حکام نے نیویارک میں ایرانی وفد کے نمائندوں کے ساتھ ایک خوش آئند ملاقات کی ہے جو تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر4 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
جموں و کشمیر4 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا5 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
دنیا5 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
ہندوستان1 week agoیوپی آئی چارجز پر کانگریس نے خطرے کی گھنٹی بجائی، جے رام رمیش نے مودی حکومت پر فیس کا راستہ کھولنے کا الزام لگایا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
