دنیا
امریکہ کے حملے کی صورت میں ایران کا ردعمل فیصلہ کن اور فوری ہو گا :ایرانی وزیر خارجہ
تہران، ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے امریکہ سے دھمکی آمیز زبان کا استعمال بند کرنے اور سیاسی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکہ کے حملے کی صورت میں ان کے ملک کا ردعمل فیصلہ کن اور فوری ہو گا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ ایران اپنی زمینوں، مفادات اور شہریوں پر کسی بھی حملے کا “فیصلہ کن اور سختی سے” جواب دے گا۔
قبل ازیں اقوام متحدہ میں ایران کے خصوصی ایلچی نے امریکہ کی طرف سے اردن میں اپنے فوجیوں پر مہلک حملے کا جواب دینےکی دھمکیوں کے بعد ایران نے ممکنہ طور پر کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی’آئی آر این اے‘ نے کل بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ ایران اپنی زمینوں، مفادات اور شہریوں پر کسی بھی حملے کا “فیصلہ کن اور سختی سے” جواب دے گا۔
ایجنسی نے اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران کو گذشتہ دو دنوں کے دوران ثالثوں کے ذریعے امریکا سےکوئی پیغامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے نے مزید کہا کہ تہران اپنی سرزمین پر کسی بھی حملے کو “ریڈ لائن” سمجھتا ہے جس کا مناسب اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ان کا ملک “خطے میں کسی فرد یا گروہ کے اقدامات کا ذمہ دار نہیں ہے”۔
ایروانی نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں واضح کیا ہے کہ عراق اور شام میں امریکی فوجیوں اور تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے الزامات “غیر ذمہ دارانہ، غیر منصفانہ اور بے بنیاد ہیں”۔
ایرانی ایلچی کا یہ بیان امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکا نے اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والے عراقی گروپ کو جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں واشنگٹن نے ایک حملے میں اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا جس میں شام اور اردن کی سرحد پر التنف بیس سے تعلق رکھنے والی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس تناظر میں، ایرانی پاسداران انقلاب نے شام میں اپنے وفادار دھڑوں کو ملک میں امریکی اڈوں کے خلاف اپنی فوجی سرگرمیاں بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کل بدھ کو اطلاع دی ہے کہ شام کے صحرا اور دیر الزور میں ایران نواز دھڑوں کے تمام مقامات خاص طور پر دیر الزور کے مقامات پر دو دن سے الرٹ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بوکمال، المیادین تدمر کے دیہی علاقوں میں عراقی الحشد ملیشیا کے عناصر کی موجودگی کی وجہ سے ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔
منگل کو عراقی حزب اللہ بریگیڈز نے عراقی حکومت کو پریشانی سے بچانے کے لیے امریکی افواج کے خلاف فوجی اور سکیورٹی آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس نے اپنے جنگجوؤں سے کہا کہ “اگر ان کے خلاف کوئی دشمن امریکی کارروائی ہوتی ہے تو وہ عارضی طور پر غیر فعال دفاع کریں”۔
گذشتہ ہفتے امریکہ نے حزب اللہ بریگیڈز کے خلاف فضائی حملے شروع کیے اور کہا کہ ان حملوں میں بریگیڈز اور دیگر مسلح گروپوں کے زیر استعمال تین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ حملے اردن کی سرحد پر موجود امریکی فوجی اڈے پر ایک ڈرون حملے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیے گئے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد کم از کم 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں. اس سانحے کی شدت کے پیش نظر صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ اس صدی میں ملک میں ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 240 کلومیٹر دور سانجوس ڈیل پالمر کے قریب تھا۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں 86 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔
پیریرا، کولمبیا کے بڑے کافی پیدا کرنے والے علاقے میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں کم از کم 60 ہیں۔
کیلی شہر سے مزید 188 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سات ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ پیریرا میں ایک فضائی کیبل کار میں تقریباً چھ گھنٹے تک پھنسے سولہ افراد کو بچا لیا گیا۔
صدر اسپریلا نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام سرکاری وسائل کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ہے۔ امریکہ نے کولمبیا کو خوراک، پناہ گاہ اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 15.5 ملین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یہ پہاڑی اور اقتصادی لحاظ سے اہم خطہ 1999 میں ایک بڑے زلزلے سے بھی تباہ ہوا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز سطح سے تقریباً 107 کلومیٹر نیچے تھا۔ لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
دنیا
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
تہران، ایران نے کہا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان نئے بحری راستوں کے تعین کے حوالے سے حتمی معاہدے کے قریب ہے، تاہم تہران نے دوبارہ واضح کیا کہ امریکہ کو اس کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، جن میں فوجی دھمکیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو سرکاری میڈیا کو بتایا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات ”آسانی اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں”۔ ان کے مطابق بحری جہازوں کے لیے راستوں کے نقشے پر اتفاق ہوگیا ہے، تاہم بعض تکنیکی معاملات ابھی حل طلب ہیں۔
بقائی نے کہا کہ مذاکرات میں ایسی خدمات سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے جو عام طور پر ادائیگی کے عوض فراہم کی جاتی ہیں، جن میں محفوظ جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ، بحری خدمات اور جرائم کے خلاف کارروائی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی مسلسل ”دشمانہ کارروائیوں” کے باعث یہ آبی گزرگاہ غیر محفوظ ہوگئی ہے۔ تہران آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کو ”جارحیت” قرار دیتا ہے۔
دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ نے پیر کو کہا کہ جولائی میں ناکہ بندی بحال کیے جانے کے بعد اس نے 55 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا ہے اور کم از کم دو جہازوں کو ”غیر فعال” کیا ہے۔
بحری انٹیلی جنس کمپنی ونڈورڈ کے مطابق اس ناکہ بندی کے نتیجے میں خلیج میں واقع ایرانی جزیرے خارگ سے تیل کی برآمدات مکمل طور پر رک گئی ہیں۔
ٹرمپ نے پیر کو اس ناکہ بندی کو ”فولادی دیوار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز پر کنٹرول صرف امریکی بحریہ کا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبی گزرگاہ کھلی ہے اور امریکی فوج نے اسے بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے۔
دوسری جانب بحری آمدورفت سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنیوں کے مطابق ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ میرین ٹریفک کے مطابق جمعہ کو 15 جہازوں کے مقابلے میں ہفتے کو 11 اور اتوار کو صرف چھ جہاز آبنائے سے گزرے۔
اعداد و شمار کے مطابق 17 بحری جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ راستے سے گزرے، جبکہ مزید 10 جہاز ایسے راستے سے گزرے جنہیں ”غیر متعین” قرار دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ان نقصانات کا معاوضہ طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی وجہ سے امریکی شہریوں اور فوجیوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو واشنگٹن کی جانب سے جنگی ہرجانے کی ادائیگی سے مشروط کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران سے ”50 سال” کے نقصانات کا معاوضہ طلب کرے گی۔ انہوں نے اسے تہران کے مطالبے کے براہِ راست جواب کے طور پر پیش کیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک امریکہ جنگی ہرجانہ ادا کرنے اور پابندیاں ختم کرنے پر رضامند نہیں ہوتا۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، تاہم ٹرمپ کے نئے مطالبات سمندری راستہ دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے لیے معاوضہ مانگا ہے اور ان کے بقول انہوں نے جواب دیا، ”یہ ایک اچھا خیال ہے۔” تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا بھی ایران سے گزشتہ 50 برس کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ طلب کرے گا۔
ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاوضے میں خطے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتیں بھی شامل ہوں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ایران میں 52 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ جنوری میں ملک بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تقریباً 3,117 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے قبل ہوئے تھے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) نے فروری میں تقریباً 7 ہزار ہلاکتوں کی رپورٹ دی تھی، جن میں 6,500 مظاہرین شامل تھے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اکتوبر 2000 میں یمن میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے 17 امریکی ملاحوں کے خاندانوں کو بھی معاوضہ دینا چاہیے۔ تاہم اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد کی گئی تھی، نہ کہ ایران پر۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی لکھا کہ ایران کو لبنان، شام، یمن اور غزہ میں لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات اور ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ٹرمپ نے بارہا سخت فوجی کارروائی کی دھمکیوں اور امن معاہدہ قریب ہونے کے دعووں کے درمیان اپنا مؤقف تبدیل کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کو ”بہت سخت” مارنے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں پیچھے ہٹتے ہوئے اشارہ دیا کہ امن معاہدہ قریب ہے۔ اس ہفتے کے آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ تنازع سے متعلق اپنا طریقہ کار ”کم شدت” رکھ رہے ہیں اور مزید فوجی حملوں کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما کے سابق خصوصی معاون چارلس کپچن نے ٹرمپ کے معاوضے کے مطالبے کو ”سیاسی بیان بازی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق معاہدہ کرنے میں مضبوط مفاد رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق ایران اپنے تیل کی برآمد جاری رکھے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، جبکہ ٹرمپ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل گیس کی بلند قیمتوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہونے کی اطلاعات کے باعث پینٹاگون پر بھی دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا22 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا21 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا18 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر20 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا3 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر20 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا3 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
