اہم خبریں
’’اُلٹا لٹکا دوں گا‘‘
حامد میر
زیادہ پرانی بات نہیں۔ آصف علی زرداری پاکستان کے طاقتور صدر تھے اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اُنہیں بار بار للکارا کرتے تھے۔ شہباز شریف کا وہ مائیک توڑ خطاب مجھے آج بھی یاد ہے جس میں اُنہوں نے لاہور کے بھاٹی چوک میں اپنے سامنے مجمع کو گواہ بنا کر اعلان کیا کہ اوئے آصف زرداری ہم تمہیں اسی چوک میں اُلٹا لٹکائیں گے اور تم سے لوٹی ہوئی دولت واپس لیں گے اور بھاٹی چوک میں ’’گو زرداری گو‘‘ کے نعرے گونجنے لگے۔
یہ وہی زرداری تھا جس نے اٹھارہویں ترمیم کے تحت صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا تو نواز شریف بہت حیران ہوئے۔
زرداری کو کہا گیا کہ صدر کے عہدے کو بےاختیار نہ کریں ورنہ آپ کے خلاف سازشوں میں تیزی آ جائے گی لیکن زرداری جواب میں کہتے کہ میں بےنظیر بھٹو بن کر سوچنے لگا ہوں اور میرے خیال میں صدر کے بجائے وزیراعظم کو بااختیار ہونا چاہئے کیونکہ وزیراعظم کو منتخب اسمبلی لے کر آتی ہے۔
اسی زرداری کی لائی گئی اٹھارہویں ترمیم کے باعث تیسری دفعہ وزیراعظم بننے پر پابندی ختم ہوئی اور 2013 میں نواز شریف تیسری دفعہ وزیراعظم بن گئے۔ نواز شریف کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی اپنے دوست شہباز شریف کی طرح زرداری کو اُلٹا لٹکانے کی خواہشں میں مبتلا تھے لہٰذا اُنہوں نے 2015 میں ایف آئی اے کے ذریعہ آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکائونٹس کا مقدمہ شروع کرایا۔
اس سے پہلے کہ کوئی آصف علی زرداری کو لٹکاتا پاناما اسکینڈل کے باعث ہر طرف ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ اب عمران خان صرف نواز شریف نہیں بلکہ آصف علی زرداری کو بھی اُلٹا لٹکانے کے اعلانات کرنے لگے۔
نواز شریف نااہل ہو کر جیل چلے گئے اور 2018ء کے انتخابات کے بعد عمران خان وزیراعظم بن گئے۔ وزیراعظم بننے کے بعد وہ بار بار یہ اعلان کرنے لگے کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ میں نواز شریف اور زرداری سے لوٹی ہوئی دولت واپس نکلوائوں گا۔
جب بھی پوچھا جاتا کہ مہنگائی کب کم ہوگی تو وہ مہنگائی کی ذمہ داری ماضی کی حکومتوں پر ڈال دیتے۔ ماضی کی حکومتوں سے لوٹی ہوئی رقم واپس نکلوانے کے لئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی بہت زور لگایا اور اپنی نگرانی میں ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن سے جعلی اکائونٹس کیس کی مزید تحقیقات کرائیں۔
عمران خان کی حکومت نے نواز شریف کے ساتھ ساتھ آصف زرداری کو بھی جیل میں ڈال دیا لیکن ابھی تک اُن کے خلاف ٹرائل شروع نہیں ہوا۔
نواز شریف بیماری کے باعث جیل سے اسپتال آئے اور اسپتال سے لندن پہنچ گئے۔ آصف زرداری بھی بیمار ہیں لیکن وہ جیل سے صرف اسپتال تک پہنچے ہیں۔ اُن کے خلاف مقدمہ کراچی میں درج ہوا لیکن اُنہیں پنجاب کی ایک جیل میں رکھا گیا۔
آج کل وہ اسلام آباد کے ایک اسپتال میں نظر بند ہیں جہاں قریبی اہلِ خانہ کو بھی مشکل سے ملاقات کی اجازت ملتی ہے۔ آصف زرداری کے وکلاء نے طبی بنیادوں پر ضمانت کے لئے ایک درخواست تیار کی لیکن زرداری نے درخواست پر دستخط سے انکار کر دیا۔
وہ صرف اور صرف اپنے ذاتی معالج تک رسائی چاہتے ہیں لیکن اُنہیں یہ اجازت نہیں دی جا رہی۔ اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا کہ کم از کم اُنہیں کراچی منتقل کر دیں لیکن اُنہیں یہ رعایت بھی نہیں مل رہی۔
عمران خان کی کابینہ کے ایک سینئر وزیر کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری بہت زیادہ بیمار ہیں اور خدانخواستہ اُنہیں اسلام آباد میں کچھ ہو گیا تو بڑا نقصان ہو سکتا ہے لیکن عمران خان اس معاملے پر سنی ان سنی کر دیتے ہیں اُن کا خیال ہے کہ زرداری کو رعایت دینے سے اُنہیں سیاسی نقصان ہو گا۔
وہ بشیر میمن کی جگہ واجد ضیاء کو لے آئے ہیں تاکہ ایف آئی اے آصف علی زرداری کو جلد از جلد اُلٹا لٹکانے کے انتظامات مکمل کرے۔ عمران خان کی زرداری سے نفرت بہت پرانی ہے۔
نفرت کی یہ کہانی عمران خان کی کتاب ’’پاکستان، اے پرسنل ہسٹری‘‘ میں موجود ہے جو 2011 میں شائع ہوئی تھی اس کتاب میں عمران خان نے لکھا ہے کہ وہ بےنظیر بھٹو کو آکسفورڈ یونیورسٹی سے جانتے تھے۔
انہوں نے بےنظیر بھٹو کا تعارف اپنے ایک کزن قمر خان سے کرایا لیکن جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء آ گیا۔ بےنظیر بھٹو کی شادی قمر خان کے بجائے آصف علی زرداری سے ہو گئی۔
1989ء میں عمران خان شوکت خانم کینسر اسپتال کی تعمیر میں مدد کے لئے اپنے دوست طارق شفیع کے ہمراہ بلاول ہائوس کراچی میں آصف علی زرداری کو ملے۔ عمران خان لکھتے ہیں کہ زرداری نے میری بڑی آئو بھگت کی لیکن وہ زیادہ وقت طارق شفیع سے باتیں کرتے رہے اور اُنہیں کہا کہ آپ سندھ میں ٹیکسٹائل مل لگائیں تاکہ یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے اور اگر آپ مجھے 20 فیصد کا پارٹنر بنا لیں تو میں آپ کو بینکوں سے قرضہ بھی دلوا دوں گا۔
عمران خان کے بقول زرداری نے کینسر ہاسپٹل کے لئے کوئی مدد نہ کی۔ پانچ سال کے بعد جب اسپتال مکمل ہو گیا تو مجھے نوید ملک کے ذریعہ پیغام ملا کہ بےنظیر بھٹو اور زرداری اسپتال کا افتتاح کرنا چاہتے ہیں لیکن میں نے انکار کر دیا جس پر شاہی جوڑا مجھ سے ناراض ہو گیا حالانکہ وزیراعظم افتتاح کرتی تو اسپتال کو بہت فائدہ ہوتا۔
عمران خان نے یہ کتاب اپنے آٹو گراف کے ساتھ مجھے دی تھی۔ اس کتاب میں زرداری اور نواز شریف کے علاوہ اُنہوں نے پرویز مشرف پر بہت شدید تنقید کی تھی۔ پرویز مشرف کے بارے میں اُن کا موقف خاصا بدل گیا ہے کیونکہ یہ اُن کی سیاسی ضرورت ہے۔
کچھ غیر ملکی طاقتیں بدستور مشرف کا تحفظ کر رہی ہیں۔ نجانے مشرف نے غیر ملکی طاقتوں کی ایسی کیا خدمت کی ہے کہ وہ آج بھی اُس کے پیچھے کھڑی ہیں اور آصف علی زرداری نے ایسا کیا ہے کہ کچھ لوگ بیماری کی حالت میں بھی اُسے اُلٹا لٹکانے پر تلے بیٹھے ہیں؟
زرداری کو غلام اسحاق خان نے دو سال کے لئے جیل میں ڈالا، نواز شریف اور مشرف نے نو سال کے لئے جیل میں ڈالا اور اب وہ عمران خان کے قیدی ہیں۔
بارہ سال جیل میں گزارنے والے آصف علی زرداری سے اب تک کتنی رقم برآمد ہوئی ہے؟ اگر ایک روپیہ بھی برآمد ہوا ہے تو مجھے ثبوت کے ساتھ دکھا دیا جائے۔ آصف علی زرداری کے خلاف تحقیقات ضرور کریں، مقدمے بھی بنائیں لیکن اُنہیں اُن کی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کی سہولت تو دے دیں۔
کیا اُن کا قصور صرف یہ ہے کہ اُنہوں نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعہ صدر کے تمام اختیارات وزیراعظم کو دے دیئے اور یہی اختیارات آج کل عمران خان کی اصل طاقت ہیں۔
آصف علی زرداری کو بُرا بھلا کہنا اور گالی دینا بہت آسان ہے اور گالی دینے والے کو بہت شاباش بھی ملتی ہے۔ اُسے اُلٹا لٹکا کر کوئی رقم نکلتی ہے تو ضرور نکلوا لیں لیکن ذرا یہ بھی سوچ لیں کہ ایک دفعہ پھر آپ کو کچھ نہ ملا تو کیا ہوگا؟
کم از کم تین چھوٹے صوبوں کے عوام کی اکثریت کی نظروں میں زرداری نہیں آپ اُلٹا لٹک جائیں گے اور ’’گو زرداری گو‘‘ ’’گو نواز گو‘‘ سے شروع ہونے والا معاملہ ’’گو عمران گو‘‘ پر ختم ہوگا۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
