ہندوستان
اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی
نئی دہلی، بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے راجیہ سبھا میں جمعرات کو مسلسل تیسرے دن زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ایک بار کے التوا کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان میں مسلسل تیسرے روز وقفہ سوال نہیں ہو سکا صبح کے التوا کے بعد جب ایوان دو بجے دوبارہ شروع ہوا تو پریزائیڈنگ ڈپٹی چیئرمین بھونیشور کلیتا نے کیریج آف گڈز بائی سی بل 2025 پر بحث شروع کرنے کے لیے اے آئی اے ڈی ایم کے کے ایم تمبی دورائی کا نام پکارا۔ مسٹر دورائی جیسے ہی بولنے کے لیے کھڑے ہوئے، اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر چیئر کے قریب آگئے اور بہار میں ووٹر لسٹ پر خصوصی نظرثانی کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔
اپوزیشن پارٹی کے ارکان کا ہنگامہ بڑھتا دیکھ کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لکشمی کانت باجپئی نے رول 235 کے تحت پوائنٹ آف آرڈر اٹھایا اور اپوزیشن ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اس پر ایوان میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر پرمود تیواری نے بھی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد حزب اختلاف کو ایوان میں اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے۔
مسٹر کلیتا نے اپوزیشن ارکان سے اپنی نشستوں پر واپس آنے کی اپیل کی اور ان سے ایوان میں امن برقرار رکھنے کو کہا۔ ان کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا دیکھ کر انہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔
اس سے قبل صبح ایوان نے اپنے چھ ارکان کو ان کی مدت کار پوری ہونے پر الوداع کہا ۔
صبح جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے اراکین کو بتایا کہ پٹالی مکل کاچی کے انبومنی رامداس، دراوڑ منیترا کزگم کے پی ولسن، ایم ڈی ایم کے کے وائیکو، اے آئی اے ڈی ایم کے کے ایم چندر شیکھرن، ڈی ایم کے کے ایم شانموگم اور ڈی ایم کے کے ہی ایم محمد عبداللہ کی میعاد آج مکمل ہورہی ہے۔ مختلف ممبران نے اپنی مدت پوری کرنے والے ممبران کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور ان کی فعال زندگی کی خواہش کی۔
ارکان کو الوداعی اور نیک تمنائیں دینے کے بعد جب ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے تقریباً 12.30 بجے وقفہ سوال کی کارروائی شروع کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ہنگامہ کرنے لگے۔ چیئرمین نے کہا کہ یہ سوال کا وقت ہے، وقفہ سوال ارکان کا وقت ہوتاہے، براہ کرم آپ سب اپنی نشستوں پر واپس جائیں اور کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلنے دیں۔
انہوں نے کہا، “اب تک ایوان بہت اچھا چل رہا تھا، سب نے دیکھا ہے کہ راجیہ سبھا کیسے کام کرتی ہے، براہ کرم اپنی نشستوں پر واپس جائیں اور ایوان کی کارروائی کو جاری رہنے دیں۔”
مسٹر ہری ونش نے اپنی بات کا کوئی اثر نہ دیکھ کر کارروائی دوبجے تک ملتوی کر دی۔
غور طلب ہے کہ بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے خصوصی عمل کے خلاف اپوزیشن ارکان مسلسل ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر بحث کے لیے اپوزیشن کے کچھ ارکان نے آج بھی تحریک التواء کا نوٹس دیا تھا۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس پیر کو شروع ہوا۔ پہلے روز ایوان کا کام خوش اسلوبی سے چلتا رہا لیکن منگل سے اپوزیشن ارکان ایوان میں ہنگامہ آرائی کرکے کارروائی میں خلل ڈال رہے ہیں جس کی وجہ سے ایوان بالا میں تین روز سے کوئی قانون سازی کا کام نہیں ہوسکا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا7 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا7 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان5 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر3 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا22 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
