تازہ ترین
اگر بھاجپا کا الزام ہے کہ ہم سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں کرتے،کشمیر میں بڑی ریلی کر کے دکھائیں:عمر عبداللہ
دفعہ370کی تنسیخ مرتے دم تک نا قابل قبول،کشمیر میں لڑکوں کی نہیں بندوق کی کمی
’5اگست کو یوم سوگ منایا جائیگا،انصاف کی لڑائی کیلئے کوئی حد نہیں‘
خبراردو:-
سرینگر:نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے5اگست 2019کو مرکزی حکومت کی جانب سے جموں وکشمیر سے متعلق لئے گئے فیصلہ جات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ370،35(اے) کی تنسیخ اور جموں وکشمیر کی تقسیم و تنظیم نو کو وہ (عمر عبد اللہ) مرتے دم تک قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے 5اگست کو ’یوم سوگ‘ منا نے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کو انصاف فراہم کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جائیں گے۔
دفعہ370کی تنسیخ کے بعد کشمیر نیوز سروس کیساتھ ایک مفصل انٹر ویو کے دوران عمر عبداللہ تلخ سولات کے جوابات بے باکی سے دئے۔جب عمر عبداللہ سے پوچھا گیا کہ بعض لوگ الزام عائد کررہے ہیں کہ نیشنل کانفرنس نے دفعہ370کی بحالی پر خاموشی اختیار ہوئی ہے،کیا یہ سچ ہے،تو اس کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا ’جو لوگ آج یہ کہہ رہے ہیں ہم آرٹیکل 370کی بحالی کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں،وہیں لوگ کل یہ کہہ رہے تھے ہم اٹانامی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں‘۔
ان کا کہناتھا ’اگر ہم نے لوگوں کو اٹانامی پر گمراہ کیا،کیا آپ ہمیں یہ کہنا چاہتے ہیں ہمیں دفعہ370پر بھی نعرے بلند کرنے چاہئے،یہ حماقت نہیں ہوگی، ہم نے5 اگست کے فیصلہ جات کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی ہم کریں گے،لیکن اس کو واپس حاصل کرنے کے لئے ہم سمجھداری سے لڑیں گے،نہ ہم سڑکوں پر آئیں گے اور نہ ہی ایسی صورتحال بنائیں گے جس سے انہیں کچلنے کا بہانہ ملے گا، ہمیں اس کے لئے ایک علیحدہ دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا،کیا ہم ان سے اس کی بحالی کا مطالبہ کریں گے جو ہم سے370 چھین چکے ہیں؟‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں 1996 میں ایک موقع گنوا دیا؟تو اسکے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’ہاں ہمارے پاس ایک موقع تھا، لیکن ہم اسے کھو بیٹھے۔ ایسا ہوتا ہے، جب پرویز مشرف مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے اقتدار میں تھے، تو کیا نئی دہلی کے لئے کوئی موقع موجود نہیں تھا؟ اب ہم ان لمحوں پر توبہ کر رہے ہیں۔
واجپائی اور مشرف، منموہن سنگھ اور مشرف دور وہ وقت تھا جب مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا تھا،لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں 1996 میں ایک موقع ملا تھا،جب1996 میں ہم نے خود مختاری کی رپورٹ پیش کی، تب ہم اقتدار سے باہر ہوگئے تھے‘۔اس سوال کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بی جے پی سرکار نے عسکریت پسندی کی وجہ سے جموں و کشمیر میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کا سخت فیصلہ لیا؟،عمر عبداللہ نے اس کے جواب میں کہا ’انہیں ایک وجہ ملی اور انہوں نے اس کا استعمال کیا۔ وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ بڑھتی عسکریت پسندی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت سے ہٹانا ضروری ہے۔
انہوں نے یہی دنیا کو بیچا کہ خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے وہ بدعنوانی، بیگانگی، بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے اور یہاں سرمایہ کاری لائیں گے۔ اب ان کا کون سا دعویٰ درست ثابت ہوا؟ کیا نوجوان عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل نہیں ہو رہے ہیں؟ لڑکوں کی نہیں بندوق کی کمی ہے۔
حکومت نے خود ہی سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ تشدد میں اضافے کی وجہ سے یہاں 4 جی کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ370 کے خاتمے کے ساتھ ہی تشدد کا خاتمہ بھی ہوگا۔ ان کی سرمایہ کاری کا کیا ہوا؟ وہ کہہ رہے تھے کہ یہاں صنعت کاری میں 370 رکاوٹ ہے۔اس سوال کہ بی جے پی نے 5اگست کو جموں و کشمیر میں جشن منانے کا فیصلہ کیا ہے؟،تو عمر عبداللہ نے کہا’ہم اپنے گھروں میں اس دن کو یوم سوگ(ماتم) کے طور پر منائیں گے، انہوں نے ہمیں کیا دیا ہے، نہ انہوں نے ہمارے جذبات کی پرواہ کی اور نہ ہی اپنے وعدوں کا،ہم سے میرا مراد جموں وکشمیر کے عوام ہیں‘۔
ایک اور سوال کہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ370 منسوخی کے بعد لوگوں نے سڑکوں پر احتجاج نہ کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ایسا کوئی لیڈر نہیں تھا جو لوگوں کو منظم کرسکے؟۔عمر عبداللہ نے کہا’میں اتفاق نہیں کرتا، بے ساختہ احتجاج کو قائد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
برہان وانی کی جھڑپ میں ہلاکت کے بعد جو ایجی ٹیشن چھڑ گئی تھی،اس کا کوئی لیڈر نہیں تھا، اسکول بند تھے، آمدورفت بند تھی اور دکانیں بند تھیں۔ تمام ٹریڈ یونین قائدین زیر حراست تھے۔ جب احتجاج ہونا ہی ہوتا ہے تو یہ بے ساختہ ہوتا ہے۔ اس بار لوگوں نے دانشمندی سے سوچا اور جذبات سے دوچار نہیں ہوئے، یہ اچھا ہے، کیونکہ وہ ہمیں ہزاروں میں قتل کرنے کے لئے تیار تھے، جب کوئی نہیں مارا گیا اُنہیں حیرت ہوئی، کیونکہ وہ ہمیں مارنے کے لئے تیار تھے‘۔اس سوال کہ کیا گپکار اعلامیہ سیاسی جماعتوں کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ ہے؟
تو سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’ہاں یہ اب بھی برقرار ہے۔ ہمیں دوبارہ بیٹھ کر بات کرنی ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گپکار اعلامیہ کی تمام دستخط کرنے والی جماعتو ں نے مشترکہ طور پر سپریم کورٹ آف انڈیا سے رجوع نہیں کیا، مجھے یہ واضح کرنے دیں کہ یہ میرے ذاتی خیالات ہیں نہ کہ میری پارٹی کے، پارٹی قیادت بیٹھ کر اپنے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی، یہ تب ہی ممکن ہے جب ہماری پارٹی کے لیڈر آزاد ہوں گے، تب نیشنل کانفرنس اپنا سیاسی راستہ طے کرے گی‘۔
ایک اور سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا’وہ ہمیں باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں، ہم اپنی سیاسی سرگرمیاں کیسے کرسکتے ہیں؟ ٹھیک ہے، مجھے چھوڑ دو، جیسا کہ ان کا کہنا ہے کہ ہم تباہ ہوگئے ہیں، ہمارے پاس صرف ایک سوشل میڈیا لیڈر رہ گیا ہے، لیکن کیا بی جے پی کو سیاسی سرگرمیاں کرنے سے کوئی روک رہا ہے؟۔ انہیں کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک بہت بڑا اجتماع منعقد کرنا چاہئے تھا،اب370 کو ختم کردیا گیا ہے، انہیں یہاں بڑے جلسے منعقد کرنے سے کون روک رہا ہے؟ دفعہ370کو منسوخ کرنے کی حمایت میں ایک ریلی کے لئے ایک لاکھ مقامی لوگوں کو یہاں لائیں،ہاں اس بار وہ بہار اور اڑیسہ سے بچوں کو نہ لائیں،اوکے چھوڑو بی جے پی۔ نو تشکیل شدہ پارٹی ایک بڑی ریلی کا اہتمام کرے، میرے لوگ نظربند ہیں،میری پارٹی کے ساتھی کو دہلی میں صحت کی جانچ پڑتال کی اجازت حاصل کرنے میں چار دن لگے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے خلاف کوئی نظربندی کا حکم نہیں تھا‘۔
یکم اگست2019کو وزیر اعظم کیساتھ ملاقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا’ہاں جب ہم وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد باہر آئے،تو میں نے کہا کہ ہم اس میٹنگ سے مطمئن ہیں،کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہوگا،ہم سر جھکائے ہوئے تھے، یہ ہمارے لئے ایک سیاسی زلزلہ تھا‘۔عمر عبداللہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا’اگر لوگوں کو جھوٹی امیدیں دینا یا غیر حقیقی خواب دیکھنا لیڈربننے کے اہل ہوجاتا ہے، تو میں ایسا لیڈر نہیں بننا چاہتا ہوں، میں لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتا اور نہ ہی کھو کھلے نعرے لگا سکتا ہوں جن کی مجھے سمجھ نہیں آتی ہے، یہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے‘۔
موجودہ حالات میں اگر انتخابات ہوتے ہیں،تو نیشنل کانفرنس کا کیا موقف رہے گا؟عمر عبداللہ نے اس سوال کے جواب میں کہا ’نیشنل کانفرنس کی قیادت بیٹھ کر اس کے بارے میں فیصلے کرے گی، میں جموں وکشمیر ریاست کی اسمبلی کا لیڈررہا ہوں اور میں یو ٹی اسمبلی کا ممبر بننا نہیں چاہتا ہوں، یہ میری ذاتی رائے ہے‘۔
ایک اور سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا ’میں بزدل نہیں ہوں، اپنی رائے کے اظہار کیلئے میں کسی اور سے مدد نہیں لوں گا،میں لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ میری بات کوخود سمجھنے کی کوشش کریں، کسی اور کے ذریعہ نہیں جو اس کو غلط انداز میں پیش کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
میں اپنی رائے کو آزادانہ طور پر ظاہر کروں گا، کچھ لوگ میری باتوں کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں،یہ تاثر پیدا کیا جارہا ہے کہ صرف اسٹیٹ ہوڈ کی ضرورت ہے،اور5اگست دیگر سب کچھ ختم ہوگیا ہے،میں نے اسٹیٹ ہوڈ کو کبھی بھی آرٹیکل 370کی بحالی سے بالاتر نہیں رکھا۔
میں یہ واضح ہمیشہ کیلئے کرنا چاہتا ہوں کہ میں 5اگست کو لئے گئے فیصلہ جات کو مرتے دم تک قبول نہیں کروں گا‘۔5 اگست کو جو کچھ ہم سے چھین لیا گیا ہے، ہم اسے واپس حاصل کریں گے اور دانشمندی کے ساتھ یہ جنگ لڑیں گے،ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کے انصاف کے لئے لڑیں گے‘۔(حصہ اول۔۔جاری)
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر16 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا20 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان18 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا16 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا16 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا20 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
