اہم خبریں
بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
کوئٹہ —
بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب پر نامعلوم افراد نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کو پانی ترسیل کرنے والے واٹر بوزر پر آئی ای ڈی بم کے ذریعے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔
مقامی لیویز حکام کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز ہوشاب کے علاقے شاپک میں پیش آیا۔
پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تربت کے علاقے ہوشاب میں سیکیورٹی فورسز کی واٹربوزر کی گاڑی پانی بھرنے کے لیے کھڑی تھی کہ نامعلوم افراد نے آئی ای ڈی بم کے ذریعے گاڑی کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکے سے ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔ جس کا نام سپاہی کفایت اللہ ہے اور ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع سبی سے بتایا جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دشمن ملک کی ایجنسیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو بلوچستان کا امن کسی صورت بگاڑنے نہیں دیا جائے گا اور سیکیورٹی فورسز ان تمام شر پسند عناصر کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔
تین ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اس دوران اب تک مختلف حملوں میں سیکورٹی فورسز کے 20 سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
رواں ماہ یکم جون کو کوئٹہ اور تربت میں فرنٹیئر کور پر حملوں میں چار اہل کار ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے تھے۔
ایک اور واقعہ رواں سال 10 مئی کو پیش آیا۔ جب کوئٹہ اور تربت میں فائرنگ کے دو واقعات میں 3 ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

رواں ماہ یکم جون کوکوئٹہ اور تربت میں فرنٹیئر کور پر حملوں میں چار اہل کار ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئےتھے۔ (فائل فوٹو)
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فائرنگ کا پہلا واقعہ کوئٹہ سے تقریباً 70 کلو میٹر دور ہرنائی اور کوئٹہ کے سرحدی مقام مارگٹ میں سرکی کچھ میں پیش آیا۔
حملہ آوروں نے سیکیورٹی پر مامور ایف سی 89 ونگ کی خالد چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔
فائرنگ کے تبادلے میں تین ایف سی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔
یاد رہے کہ رواں سال پانچ مئی کو بھی بلوچستان کے ضلع ژوب میں پاک افغان سرحد پر سرحدپار سے کی جانے والی فائرنگ سے ایف سی کے چار اہلکار ہلاک جب کہ چھ زخمی ہوگئے تھے۔
یہ اہلکار پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے کام میں مصروف تھے۔
ژوب میں ہونے والے واقعے پر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ افغان سر زمین پر منظم دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے مختلف واقعات کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے دوران جوابی کارروائیوں میں اب تک 10 سے زائد دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
بلوچستان کے سیاسی اور سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ حالیہ واقعات پر حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ حالانکہ ان کے بقول معلومات کی بنیاد پر بہت سے آپریشنز بھی ہوئے ہیں اور بہت سے لوگ بھی مارے گئے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ اگر گزشتہ سال کے پہلے 6 ماہ کو دیکھیں تو اس دوران بھی 22 کے قریب ایسے حملے ہوئے اور رواں سال کے چھ ماہ کے دوران بھی ایسے ہی حملے دیکھنے میں آئے اور یہ تقریباً 82 حملے بنتے ہیں، جو کہ بہت بڑا اضافہ ہے۔
شہزادہ ذوالفقار کے مطابق شدت پسندی اور سیکیورٹی فورسز پر حملے روکنے کے لیے صرف فوجی آپریشن اور طاقت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ سیاسی سطح پر بھی مسئلے کا حل نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دو ملکوں کی لڑائی نہیں جس میں دو طاقتیں آمنے سامنے ہوں، یہ ایسی لڑائی ہے کہ جو لوگ کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ شہروں اور آبادیوں میں چھپ جاتے ہیں اور انہیں یہاں سے مدد بھی ملتی ہے کہ وہ حملہ کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔
شہزادہ ذوالفقار کے بقول ہمیں یہ یقین نہیں کرنا چاہیے کہ یہ جو واقعات ہو رہے ہیں، کیا واقعی اسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی ہے لیکن یہ ایک تشویش ناک بات ہے اور اس سے یہ لگتا ہے کہ یہ تنظیمیں منظم ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معلومات کی بنیاد پر جیسے ہی سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوتا ہے تو کچھ عرصے کے لیے یہ لوگ انڈر گراونڈ ہوجاتے اور ان کی کارروائیاں بھی کم ہوتی ہیں۔ مگر کچھ عرصے بعد یہ تنظیمیں دوبارہ فعال ہونا شروع ہوتی ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی ہیں۔
‘کھبی یہ واقعات کم ہوتے اور کبھی بڑھ جاتے ہیں’
دوسری جانب ‘پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فار پیس سٹڈیز’ کے ڈائریکٹر اور تجزیہ کار محمد عامر رانا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کا تعلق دہشت گرد گروہوں کی استعداد کار سے ہے۔ اس لیے کبھی یہ واقعات کم ہوتے اور کبھی بڑھ جاتے ہیں۔
عامر رانا کے بقول بلوچستان خصوصاً کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کا جو عمل شروع ہوا ہے اس میں تحریک طالبان پاکستان کا عمل دخل زیادہ لگتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جو کارروائیاں مکران ڈویژن میں ہو رہی ہیں، ان میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ لیکن اب تک کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا جیسے کہ پی سی گوادر یا کوسٹل گارڈ پر حملے ہوئے تھے۔
عامر رانا کے مطابق لگتا ہے کہ ان تنظمیوں کی استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے لیکن دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اس سلسلے میں حکومتی مؤقف جاننے کے لیے بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا22 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا21 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا18 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر20 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا3 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر20 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
