تازہ ترین
بی جے پی 2سے 3لاکھ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کیلئے وعدہ بند: رام مادھو
خبراردو: بی جے پی جنرل سیکرٹری رام مادھو کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے 1990کی دہائی میں ہجرت کرچکے 2سے 3لاکھ پنڈتوں کی کشمیر واپسی کیلئے پارٹی وعدہ بند ہے۔
جے پی جنرل سیکرٹری اور کشمیر اُمور کے انچارج رام مادھو نے بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وادی کشمیر سے90کے اوائل میں ہجرت کرچکے لاکھوں پنڈتوں کی کشمیر واپسی کو یقینی بنانے کیلئے پارٹی وعدہ بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990میں جب کشمیر میں خوف و دہشت کا سماں غالب تھا تو اُس وقت وہاں سے 2سے 3لاکھ ہندوؤں نے اپنی زندگی بچانے کیلئے بیرون وادی کے کئی حصوں میں ہجرت کی۔ رام مادھو کا کہنا تھا کہ بی جے پی ان مہاجر پنڈتوں کو وادی واپس لانے کیلئے وعدہ بند ہے اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر مصلحت پرستی سے کام نہیں لیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ مہاجر پنڈتوں کی بازآبادکاری کیلئے وادی کشمیر میں جلد ہی محفوظ کیمپوں کو قائم کیا جائیگا جہاں ہجرت کرچکے ہندو اپنی زندگی اچھی طرح سے گزر بسر کرسکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ سال 1989میں جب وادی کشمیر میں بندوق کا سلسلہ شروع ہوا تو سب سے پہلے اس کی زد ہجرت کرچکے ہندوؤں پر پڑی جنہوں نے بعد میں اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے ملک کے مختلف حصوں میں پناہ لینا شروع کردیا۔
رام مادھو نے بتایا کہ مہاجر ہندوؤں کا یہ حق ہے کہ وہ وادی واپس آجائیں جس کیلئے سبھی لوگوں کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ہم مہاجرپنڈتوں کی واپسی کو یقینی بنانے کیلئے سیکورٹی کے کڑے انتظامات عمل میں لائیں گے۔ بی جے پی لیڈر کا کہنا تھا کہ سابق مخلوط حکومت پی ڈی پی، بی جے پی کے دور ان اس بات کو ممکن بنانے کی کوشش کی گئی کہ وادی کشمیر میں مہاجر پنڈتوں کی بازآبادکاری کیلئے اقدامات اُٹھائیے جائیں۔ سابق مخلوط حکومت کے دوران یہ منصوبہ زیر غور تھا کہ وادی کشمیر میں پنڈتوں کیلئے علیحدہ یا مشترکہ کالونیاں تعمیر کی جائیں تاہم اس حوالے سے بعد میں کوئی بھی پیش رفت نہ ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ سابق مخلوط حکومت جس میں پی ڈی پی اہم شراکت دار کے طور پر شامل تھی، کے دوران علیحدہ یا مشترکہ کالونیوں کی تعمیر پر کوئی اتفاق نہ ہوسکا جس کے نتیجے میں مذکورہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔خیال رہے کشمیر ی پنڈتوں کی وطن واپسی کے سلسلے میں علیحدہ کالونیوں کی تعمیر کے منصوبے کی نہ صرف علیحدگی پسند جماعتیں بلکہ مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں بھی مخالفت میں پیش پیش ہے۔
علیحدگی پسندوں کا ماننا ہے کہ اس طرز کی کالونیوں سے یہاں غزہ جیسی صورتحال واقع ہوگی جس کے مستقبل میں کربناک نتائج برآمد ہوں گے۔علیحدگی پسند اور مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کا ماننا ہے کہ علیحدہ کالونیوں کے حکومتی منصوبے سے ریاست میں دونوں طبقے کے درمیان مزید خلیج پیداہوگی۔اس سلسلے میں سال 2015کے دوران پی ڈی پی، بی جے پی پر مشتمل مخلو ط حکومت نے ایک بلیو پرنٹ بھی جاری کیا تھا جس میں مذکورہ کالونیوں کی تعمیر کے حوالے سے مفصل تفصیلات موجود تھیں۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق بی جے پی لیڈر رام مادھو کا کہنا ہے کہ رواں برس منعقد ہونے والے اسمبلی الیکشن کے فوراً بعد پارٹی کشمیری پنڈتوں کی واپسی سے متعلق ٹھوس اقدامات اُٹھانے شروع کریگی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی آنے والے اسمبلی الیکشن میں مضبوط اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوگی جس کے فوراً بعد پنڈتوں کی بازآبادکاری کا معاملے پر غور وفکر کیا جائیگا۔رام مادھو کا کہنا تھا کہ ”میں یقین کیساتھ کہتا ہوں کہ ہم جموں و کشمیر میں واپس اقتدار میں آئیں گے، ہم پنڈتوں کی واپسی کا معاملہ دوبارہ اُٹھائیں گے اور ہر ممکن کوشش کریں گے کہ وہ اپنے آبائی وطن واپس آجائے“۔واضح رہے پنڈتوں کی کشمیر واپسی سے متعلق حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے حالیہ انٹرویو میں اس بات کا اظہار کیا کہ 1990میں ہجرت کرچکے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کیلئے حریت (ع) متفکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنڈتوں کی کشمیر واپسی کو ممکن بنانے کیلئے حریت (ع) آنے والے دنوں میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے گی جس میں علماء، سیول سوسائٹی ممبران، تجار کے ساتھ ساتھ کشمیر میں رہائش پذیر پنڈت برادری کے نمائندے شامل ہوں گے جو مختلف طبقوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کرکے پنڈتوں کی واپسی کیلئے ماحول کو سازگار اور دوستانہ بنانے میں اپنا رول ادا کریں گے۔
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا14 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان18 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا18 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا21 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا12 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا12 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر11 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا10 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر11 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
