دنیا
جاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
ماسکو، روس نے جزیرہ سخالین سے ایک جاپانی صحافی کو مبینہ جاسوسی اور روس کی دفاعی صلاحیتوں سے متعلق معلومات جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ روس کی وفاقی سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے یہ اطلاع دی ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسیوں نے منگل کو بتایا کہ جاپانی اخبار ہوکائیڈو شمبون سے وابستہ صحافی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اگلے روز روس سے روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔
خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، ایف ایس بی نے بتایا کہ صحافی امائی یوکی کو علاقے سخالین سے گرفتار کرکے ماسکو منتقل کردیا گیا ہے۔ ان کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
جاپانی شہری کی گرفتاری ایسے وقت ہوئی ہے جب دونوں ملکوں کے تعلقات مسلسل خراب ہورہے ہیں۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد جاپان نے ماسکو کے خلاف مغربی ممالک کی پابندیوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے علاوہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اگست میں متنازع کوریل جزائر کے جزیرے ایتوروپ کے دورے پر جاپان نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
کوریل جزائر پر دونوں ملکوں کے درمیان ایک صدی سے زیادہ عرصے سے علاقائی تنازع جاری ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ امائی یوکی پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ٹوکیو کی جانب سے روس میں غیر ملکی صحافیوں کی حیثیت رکھنے والے اپنے نامہ نگاروں کو ہمارے ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش افسوس ناک ہے۔ ہمیں یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ آج کا واقعہ کوئی الگ تھلگ معاملہ نہیں ہے۔”
زاخارووا نے مزید کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے آغاز سے جاپانی حکام کی روس مخالف پالیسیوں کے باعث دوطرفہ تعاون میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹوکیو روس کے ان خدشات کو نظرانداز کررہا ہے جو جاپان کی دوبارہ عسکری قوت بڑھانے کی پالیسی سے متعلق ہیں اور مشرق بعید میں روس کے جائز سکیورٹی مفادات کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، تازہ واقعے سے روس اور جاپان کے تعلقات مزید خراب ہوں گے۔
انہوں نے ٹوکیو سے اپیل کی کہ وہ ”ہوش کے ناخن لے اور روس کے خلاف معاندانہ اقدامات ترک کرکے اپنا رویہ تبدیل کرے۔”
روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق، مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے پہلے امائی یوکی کو 12 دسمبر تک حراست میں رکھا جائے گا۔
جاپان کے وزیر خارجہ توشیمتسو موتیگی نے بدھ کی صبح کہا کہ ٹوکیو نے روسی حکام سے صحافی کی گرفتاری کے بارے میں ”فوری طور پر معلومات فراہم کرنے” کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان نے انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھنے اور صحافی کے ساتھ منصفانہ اور غیر جانب دارانہ سلوک کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔
جاپانی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ وزارت خارجہ اس گرفتاری پر احتجاج درج کرانے کے لیے روسی سفیر نکولائی نوزدریو کو طلب کرے گی، تاہم اب تک اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
جس اخبار میں امائی یوکی کام کرتے تھے، اس ہوکائیڈو شمبون نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کررہا ہے۔ اخبار نے مزید کہا کہ اس کی اولین ترجیح صحافی کی سلامتی ہوگی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیتن یاہو نے 7 اکتوبر کے حملے سے قبل مصری خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی اسرائیل آمد کی تصدیق کردی، ملاقات سے انکار
یروشلم، اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ مصر کے خفیہ ادارے کے سربراہ عباس کامل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے چند روز قبل اسرائیل کا دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے ان سے ملاقات کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی سلامتی کے حکام حملے کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔
نیتن یاہو نے منگل کو حکومت کے حامی چینل 14 کے پروگرام ‘دی پیٹریاٹس’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عباس کامل سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی تھی، کیونکہ اس وقت وہ اسرائیلی فوجیوں کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا، ”وہ مجھ سے نہیں ملے، نہ ہی انہوں نے مجھ سے بات کی۔ خفیہ ادارے کا سربراہ کسی سربراہِ مملکت سے کب ملاقات کرتا ہے؟”
تاہم، نیتن یاہو نے 2021 میں عباس کامل کی یروشلم میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ پر میزبانی کی تھی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ مصری خفیہ ادارے کے سربراہ نے اپنے دورے کے دوران کن لوگوں سے ملاقات کی تھی۔ ان کے مطابق، کامل اسرائیل میں تقریباً 50 منٹ تک رہے تھے۔
نیتن یاہو نے کہا، ”مصری خفیہ ادارے کے سربراہ یہاں آئے تھے۔ وہ تقریباً 50 منٹ تک یہاں رہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کس سے ملاقات کی تھی۔”
اطلاعات کے مطابق، عباس کامل نے اسرائیلی حکام کو خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل قیدیوں کی رہائی اور اقتصادی مراعات سے متعلق معاہدے پر رضامند نہیں ہوتا تو حماس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
اس انتباہ سے متعلق پہلے سامنے آنے والی خبروں کے بعد نیتن یاہو کے دفتر نے اس بات کی تردید کی تھی کہ مصر نے اسرائیل کو حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع دی تھی۔ دفتر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے وزیر اعظم کی نہ تو کامل سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی ان سے بات چیت ہوئی۔
عباس کامل کا یہ دورہ ان متعدد مبینہ انتباہات میں سے ایک ہے جو 7 اکتوبر کے حملے سے قبل اسرائیلی حکام کو موصول ہوئے تھے، لیکن اطلاعات کے مطابق ان پر کارروائی نہیں کی گئی۔ نیتن یاہو پیشگی اطلاع ملنے کی تردید کرتے رہے ہیں اور حملے کے حوالے سے ناکامیوں کی ذمہ داری سلامتی کے اداروں پر ڈالتے رہے ہیں۔
انٹرویو کے دوران نیتن یاہو نے ان الزامات کو بھی مسترد کردیا کہ انہوں نے غزہ سے متعلق ایک قابلِ عمل معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تھی، جس کے تحت یرغمالیوں کی پہلے رہائی ممکن ہوسکتی تھی۔ ان میں بعض ایسے یرغمالی بھی شامل تھے جو بعد میں قید کے دوران ہلاک ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق، پیش کردہ تجاویز کا مطلب غزہ میں مکمل طور پر ہتھیار ڈالنا تھا اور ان سے تمام یرغمالیوں کی واپسی کی ضمانت بھی نہیں ملتی۔
نیتن یاہو نے ایک بار پھر اسرائیلی انٹیلی جنس اور فوجی سربراہوں پر الزام لگایا کہ 7 اکتوبر کی رات حماس کے حملے کے آثار موجود ہونے کے باوجود انہوں نے انہیں نیند سے نہیں جگایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اعلیٰ حکام کو خدشہ تھا کہ وزیر اعظم کو خبردار کرنے سے ان کی جانب سے سخت جوابی کارروائی ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں تنازع وسیع ہوجاتا۔
نیتن یاہو کے مطابق، انٹیلی جنس اور فوجی حکام کا خیال تھا کہ حماس محض فوجی مشق کر رہی ہے یا کسی محدود کارروائی کی تیاری میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام نے حماس کے ارکان کو اپنے فون میں اسرائیلی سم کارڈ ڈالتے اور سینئر کمانڈروں کو زیرِ زمین جاتے ہوئے دیکھا تھا، لیکن اس کے باوجود انہیں یقین تھا کہ یہ سرگرمیاں کسی بڑے حملے کی علامت نہیں ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا، ”وہ اس تصور پر پوری طرح قائم تھے کہ یہ محض ایک مشق ہے یا کوئی چھوٹی موٹی کارروائی۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر انہیں بروقت خبردار کردیا جاتا تو وہ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کا حکم دیتے، جن میں فضائیہ کو ہائی الرٹ پر رکھنا اور نووا میوزک فیسٹیول منسوخ کرنا شامل تھا۔
انہوں نے کہا، ”اگر وہ مجھے جگا دیتے تو انہیں معلوم تھا کہ میں سب کو بیدار کردیتا، نووا فیسٹیول منسوخ کروا دیتا اور فضائیہ کو ہائی الرٹ پر رکھتا۔”
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ سلامتی کے حکام کو خدشہ تھا کہ انہیں جگانے سے صورتِ حال غیر ارادی طور پر مزید بگڑ سکتی ہے۔
ان کے بقول، سلامتی کے سربراہوں کا خیال تھا، ”اگر ہم وزیر اعظم کو جگا دیں گے تو وہ غیر ارادی طور پر حماس کو ہم پر حملہ کرنے پر مجبور کردیں گے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ قریبی روابط ایک بار پھر بڑھاتے ہوئے ماسکو کو کئی رعایتیں دی ہیں، جس پر واشنگٹن میں دونوں بڑی جماعتوں کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے۔ اس صورت حال نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کو مشکل سوالات کا سامنا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
ووٹنگ میں تقریباً تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور ٹرمپ کے تازہ اقدامات نے پوتن کے ساتھ ان کے ایک دہائی پرانے تعلقات کو ایک بار پھر جانچ کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ پوتن کو بیشتر امریکی ناپسند کرتے ہیں، جن میں ٹرمپ کے اپنے بہت سے حامی بھی شامل ہیں۔
جمعہ کو پوتن سے بات چیت کے بعد ٹرمپ نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جنہیں ناقدین ماسکو کے حق میں قرار دے رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول، روس کی جانب سے اس کے بدلے کوئی ٹھوس رعایت حاصل نہیں کی گئی۔
جمعہ کو ٹرمپ نے عالمی منڈیوں میں لاکھوں ٹن روسی ڈیزل کی فراہمی کی اجازت دینے کے معاہدے کا اعلان کیا، جس سے ان پابندیوں میں نرمی آئے گی جن کا مقصد جنگ کے لیے ماسکو کی آمدنی محدود کرنا تھا۔
ہفتے کو انہوں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کیف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے رہنما کو تبدیل کرے۔ اس کے ایک روز بعد ٹرمپ نے فوری طور پر ”توانائی کے شعبے میں جنگ بندی” کا اعلان کیا، تاہم روس نے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے اور واشنگٹن کی جانب سے بظاہر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
پیر کو ٹرمپ نے انٹیلی جنس جائزوں پر مبنی ان خبروں کو مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ روس، ایران کی جنگی کوششوں میں مدد کے لیے تہران کو امریکی فوجی اثاثوں سے متعلق معلومات فراہم کررہا ہے۔
منگل تک ٹرمپ نے ڈیزل معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے ان خدشات کو بھی مسترد کردیا کہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی روس کی جنگی سرگرمیوں کی مالی معاونت کرسکتی ہے۔ تاہم، ریپبلکن سینیٹروں نے اس معاہدے کو ”دشمن کے ساتھ غداری” اور ”ہمارے مخالف کو تحفہ” قرار دیا۔
روس کو ہونے والے فوائد واضح ہیں، لیکن امریکی سلامتی، یورپی اتحادیوں اور ریپبلکنز کے انتخابی امکانات پر اس کے اثرات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ڈیزل معاہدے سے ایندھن کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئے گی، جو ایران سے متعلق جنگ کے دوران بڑھی ہیں۔ یورپ میں واشنگٹن کے اس طرزِ عمل نے نیٹو کے اندر اختلافات بڑھنے کے خدشات پیدا کردیے ہیں، جبکہ روس پر تخریب کاری، سائبر حملوں اور ڈرون دراندازیوں میں اضافے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس کے بڑے حملے میں یوکرین میں کم از کم چھ افراد ہلاک، بجلی کا نظام متاثر
کیف، روس کے فضائی حملوں میں یوکرین میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہوگئے ہیں۔ یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں ‘توانائی جنگ بندی’ کے اعلان کے چند روز بعد کیے گئے ہیں۔
روسی وزارت دفاع نے بدھ کو کہا کہ اس کی فوج نے یوکرین میں مواصلاتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملے کیے۔
وزارت کے مطابق، حملوں میں دارالحکومت کیف کے دو حرارتی و بجلی گھروں، کیف کے وسیع تر علاقے میں ایک اور ایسے ہی مرکز، ایک تھرمل پاور پلانٹ اور بجلی کے سب اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ خارکیف میں ایک حرارتی و بجلی گھر اور ایک تھرمل پاور پلانٹ پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے بارے میں روس کا دعویٰ ہے کہ وہ خارکیف کے جنوب مشرقی علاقے میں یوکرینی فوج کو بجلی فراہم کرتا تھا۔
روسی وزارت دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیف میں ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جسے روسی مسلح افواج کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
کیف کے میئر وٹالی کلیچکو نے شہریوں سے پناہ گاہوں میں رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ کیف اور اس کے اطراف میں توانائی کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
یوکرین کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی ڈی ٹی ای کے نے بتایا کہ حملوں کے باعث کیف کے کئی شہری علاقوں میں ہنگامی طور پر بجلی بند کرنی پڑی۔
یوکرین کی سرکاری ایمرجنسی سروس کے مطابق، دارالحکومت کے ڈیسنیانسکی ضلع میں ایک کثیر منزلہ عمارت پر روسی حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ ہولوسیوسکی ضلع میں ایک اور شخص مارا گیا۔
یوکرینی فوج نے بتایا کہ دنیپروپیٹروفسک علاقے میں روسی حملوں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ جنوب مشرقی زاپوریژیا علاقے میں بھی ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
خارکیف اور ژیتومیر علاقوں میں مزید روسی میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ سومی اور چیرنیہیو میں بھی حملے کیے گئے۔
کیف سے الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میک الپائن نے بتایا کہ دارالحکومت پر حملوں میں ریکارڈ تعداد میں ہائپرسونک میزائل استعمال کیے گئے۔ ان کے مطابق، حملوں کے نتیجے میں یوکرین میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہوگئے ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ مغربی اتحادیوں نے کیف پر روسی بیلسٹک میزائل حملے سے قبل یوکرین کو کوئی اطلاع نہیں دی، جس سے خفیہ معلومات کے تبادلے کے نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے فیس بک پر لکھا، ”کیف پر روسی بیلسٹک میزائل حملہ۔ ایک بار پھر ہمارے اتحادیوں کی جانب سے کوئی پیشگی انتباہ نہیں ملا۔”
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان6 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
دنیا6 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا1 week agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان4 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
دنیا5 days agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
جموں و کشمیر4 days agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
-
دنیا5 days agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
جموں و کشمیر4 days agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
