اہم خبریں
جماعت اسلامی وابستگان کیخلاف ابتک کی سب سے بڑی کارروائی
قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے) نے اتوار کو کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے خلاف درج مقدمات کے سلسلے میںجموں و کشمیر کے14اضلاع میں56 مقامات پر چھاپے مارے۔این آئی اے کا کہنا ہے کہ چھاپوں کے دوران قابل اعتراض دستاویزات اور الیکٹرانک آلات برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔این آئی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے 14 اضلاع میں جماعت اسلامی کے خلاف درج کیس RC-03/2021/NIA/DLI کے سلسلے میں متعدد مقامات پر تلاشی لی گئی ۔بیان میں کہا گیا کہ اتوار کو سرینگر ، بڈگام ، گاندربل ، بارہمولہ ، کپواڑہ ، بانڈی پورہ ، اننت ناگ ، شوپیاں ، پلوامہ ، کولگام ، رام بن ، ڈوڈہ ، کشتواڑ اور راجوری میں 56 مقامات پر تلاشی لی گئی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی تفتیشی ایجنسی نے وزارت داخلہ کے حکم کے مطابق5فروری2021کو جماعت اسلامی کی علیحدگی پسندی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمہ درج کیا ، جو کہ ملک دشمن قانون کے تحت 28فروری2019کو ممنوع قرار دینے کے بعد غیر قانونی تنظیم ہے۔ بیان میں کہا گیا ”تنظیم کے ممبران اندرون اور بیرون ملک عطیہ کے طور پر فلاحی سرگرمیوں کےلئے زکوٰة، اور بیت المال کی شکل میںفنڈز جمع کر رہے ہیں لیکن یہ فنڈ پرتشدد اور علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں“۔ ترجمان نے کہا ہے ” جماعت اسلامی کے جمع کردہ فنڈز کو کالعدم جنگجو تنظیموں جیسے حزب المجاہدین ، لشکر طیبہ وغیرہ کو کارکنوں کے منظم نیٹ ورکس کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے۔“ بیان میں کہا گیا کہ جماعت اسلامی متاثر کن نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے اور جموں و کشمیر میں نئے ممبران (رکن) بھرتی کر رہی ہے تاکہ خلل ڈالنے والی علیحدگی پسند سرگرمیوں میں حصہ لیاجاسکے۔ بیان میں کہا گیا کہ اتوار کو تلاشیوں میں کالعدم جماعت کے لیڈروں ، اس کے ممبروں اور ٹرسٹوں کے دفاتر بھی شامل ہیں، جو کہ مبینہ طور پر جماعت اسلامی کے زیر انتظام ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اتوارکی تلاشی کے دوران ، مشتبہ افراد کے گھروں سے مختلف قابل اعتراض دستاویزات اور الیکٹرانک آلات ضبط کیے گئے۔ ترجمان کے مطابق کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔
وسطی کشمیر
ذرائع کے مطابق ’این آئی اے ‘ نے سرینگر میں فلاح عام ٹرسٹ نوگام کے دفاتر کے علاوہ غازی معین الاسلام ساکن صورہ، غلام محمد بٹ حال ایچ آئی جی کالونی بمنہ،بشیر احمد لون ساکن ہارون اور فہیم رمضان ساکن لال بازار کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے۔ وسطی ضلع بڈگام میں ڈاکٹر محمد سلطان بٹ، جو 2019 سے پاکستان میں مقیم ہیں ، غلام محمد وانی اور گلزار احمد شاہ ساکنان سوئیہ بگ ، ریاض احمد صوفی ساکن شولی پورہ اور محمد عبداللہ وانی ساکن وڈون بڈگام حال مندر باغ باغات سرینگر کے گھروں پر بھی چھاپے ڈالے گئے۔وسطی ضلع گاندربل کے کنگن سے نامہ نگار غلام نبی رینہ کے مطابق اتوار کو این آئی اے نے کنگن میں عبدالمجید اور گنڈ میں فاروق احمد بٹ جوکہ پولیس محکمہ میں تعینات ہے، کے گھر پر چھاپہ مارا تاہم ان کے گھروں سے کچھ برآمد نہیں کیا گیا ۔این آئی اے نے گل محمد وار ساکن منی گام لار گاندربل، ظہور احمد ریشی، معراج الدین ریشی ساکنان صفا پورہ گاندربل اور عبدالحمید بٹ ساکن بٹونہ گاندربل کے گھروں کی تلاشیاں لیں۔
جنوبی کشمیر
شوپیاں سے نامہ نگارشاہد ٹاک نے کہا کہ شوپیان ضلع کے ملڈیرہ اور نادی گام علاقوں میں بھی چھاپے مارے گئے۔نادی گام میں این آئی اے کی طرفسے جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض( فی الوقت نظر بند) کے بھائی ریاض احمد گنائی ولد محمد یاسین گنائی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ کولگام میں این آئی اے نے سابق امیر جماعت غلام حسن شیخ ساکن تاری گام اور محمد یوسف راتھر ساکن بولسو کے گھروں پر چھاپے مارے۔ان کا کہنا تھا کہ اننت ناگ میں مشتاق احمد وانی اور نذیر احمد رینہ ساکنان لوہرسینزی کوکر ناگ کے علاوہ فاروق احمد خان ساکن سند براری کوکرناگ، آفتاب احمد میر ساکن بدورہ اچھ بل اور احمد اللہ پاری ساکن کھرم بجبہاڑہ کے رہائشی مکانوں کی بھی تلاشیاں عمل میں لائی گئیں۔
شمالی کشمیر
بارہمولہ میں این آئی اے نے پیر غیاث الدین شاہ ساکن واگورہ اور سابق اوقاف صدر عبدالرحمن شالہ ساکن باغ اسلام بارہمولہ کے رہائشی مکانوں کی تلاشیاں لیں۔اولڈ ٹاﺅن بارہمولہ میں عبد الغنی کے گھروں کی تلاشیاں لی گئیں۔ بانڈی پورہ میں محمد سکندر ملک ساکن گنڈ پورہ کے گھر کی بھی تلاشی لی گئی۔انن ون کرالہ گنڈہندوارہ میں 10سال قبل قیم جماعت اسلامی رہے غلام قادر لون کے گھر پر بھی چھاپہ ڈالا گیا۔ کل پورہ سلہ کوٹ کپوارہ میں عبدالصمد بٹ کے گھر سے چھاپے کے دوران ایک پاس بک ، ایک پاسپورٹ، بارہ بور رائفل اور ایک موبائل فون ضبط کیا گیا۔ سنر درد پورہ لولاب میں سابق پرنسپل یتیم ٹرسٹ بمنہ غلام محمد شاہ کے گھر کی بھی تلاشیاں لی گئیں۔سابق امیر ضلع کپوارہ عبدالجبار پائر کے گھر کی بھی تلاشی لی گئی۔
خطہ چناب
نامہ نگار محمد تسکین کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی نے بانہال میں دو الگ الگ رہائشی مقامات پر بیک وقت تلاشی کارروائیاں کیں اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ چھاپہ ماری کی یہ کارروائی بزرگ دینی رہنما ، خطیب مرکزی جامع مسجد بانہال اور جماعت اسلامی کے سابق ضلع صدر رام بن عبدالاحد مسرور ساکن رلو بانہال اور جماعت اسلامی کے موجودہ ضلع صدر غلام نبی سوہل ساکن شگن تحصیل کھڑی کے گھروں پر کی گئی ۔ عبد الاحد مسرور کے گھر سے موبائل فون، ٹیپ ریکارڈر کی کیسٹیں اور پین ڈرائیو ضبط کی گئیںجبکہ غلام نبی سوہل کے گھر سے دو موبائل فون اور ڈائری نما نوٹ بک ضبط کی گئی ۔ادھر کشتواڑ کے لاین علاقے میں عبدالمجید شیخ کے گھر پرچھاپہ مارا گیا۔ انہیں پولیس تھانے لیا گیا جہاں ان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ادھرراجوری میں سابق امیر جماعت اسلامی مولانا محمد امیر شمسی کے گھر کی تلاشیاں لکی گئیں
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا12 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا8 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا15 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان12 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا7 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر6 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا4 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر6 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
