تازہ ترین
جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی بے چینی،معاشی بدحالی کے لئے ذمہ داران کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرسکتی:بیگم خالدہ شاہ
عوامی نیشنل کانفرنس کی مجلس عاملہ کا اجلاس
وسیع تر مفادات کے تحفظ کیلئے مشترکہ پلیٹ فارم ناگزیر
خبراردو:-
سرینگر:عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے وسیع تر مفادات کے تحفظ کیلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم ناگزیر ہے
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی بے چینی اورمعاشی بدحالی کے لئے ذمہ داراں کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرسکتی ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں و کشمیر عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر خالدہ شاہ نے اپنے صدر دفتر پر عوامی نیشنل کانفرنس کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی بے چینی اور معاشی بدحالی کے لئے ذمہ داراں کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرسکتی یہاں کے مجبور و مقہور لوگوں کی بے بسی سے لطف اندوز ہونے والے بی جے پی اور آر ایس ایس کے آلہ کاروں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ اس ستم رسیدہ قوم کی آنے والی نسلوں کے لئے کونسی نئی مصیبتیں کھڑا کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ کے ساتھ پیوستہ موجودہ سیاسی حالات اور اقتصادی بحران کے محرکات اور اسباب کی نشاندہی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماتیں چھوٹے موٹے باہمی اختلافات کو بھول کر قوم کے وسیع تر مفادات کے تحفظ کیلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں اور اپنی کھوئی ہوئی قومی شناخت اور ملی تشخص کو آبر و مندانہ طریقے سے باز یافت کرنے کی ٹھوس کوشیش کریں۔
اجلاس میں صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے کئی ایک صوبائی وضلعی عہدیداراں نے صوبائے صدر جموں سردار گھیان سنگھ کی قیادت میں ٹیلی موا صلاتی سہولیت کے ذریعے شمولیت کر کے ایسے ہی دوسرے اجلاس کو جموں میں منعقد کرانے کے لئے صحابہ صدر سے منظوری لی ۔
گپکار ڈیکلریشن کو اس سمت میں سنگ میل قرار دیتے ہوئے پارٹی کے شنیئر نائب صدر جناب مظفر شاہ نے کہا کہ یہ بات بہت ہی حوصلہ افزا ہے کہ گپکار اعلانیہ میں پہلے سے شامل یہاں کی سیاسی جماعتوں کے علاوہ جموں و کشمیر اور لداخ سے مختلف طبقہ ہا فکر کی انجمنوں کے نمائیندگاں بھی اس کارواں میں شامل ہونے کے لئے آگے آ ئے ہیں۔
انہوں نے گپکار اعلانیہ کو فعال اور موثر بنانے کے لئے اپنی پارٹی کی طرف سے مکمل تعاون و اشتراک دینے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35 A کی بازیابی کے لئے اس اعلانیہ میں شامل تمام جماعتیں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سامنے بحیثیت عرض دھند گان کھڑے ہیں۔انہوں نے یہاں کی معاشی بدحالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے وادی کشمیر 2014 کے تباہ کْن سیلاب سے لیکر آج تک کئی ایک دیگر وجوہات کے بناء پر اقتصادی بربادی کے دلدل میں پھنس گئی ہے۔ سیلاب کے بعد2015 کے ناخوشگوار موسمی حالات 2016,17 کی مکمل ہڑتالیں اور اسکے بعد تاحال کے رواں کرفیو اور لاک ڈاؤں نے یہاں کی معشیت کی کمر توڑ دی ہے۔
حکومت کی طرف سے ریلیف اور باز آباد کاری کے کھوکھلے دعوؤں کو رد کرتے ہوئے مظفر شاہ نے کہا کہ سرکار کی محض کاغذی جمع خرچ سے متاثرہ آبادی کا کوئی بھلا نہیں ہو سکتا ہے۔بلکہ حکومت ہند کی گذشتہ سال بے جا اور غیر منصفانہ اقتصادی ناکہ بندی کے نتیجے میں یہاں وادی کشمیر میں ہوئے ہزاروں کروڑوں روپیہ کے ہوئے مال نقصان کی ادائیگی کرکے۔دفعہ 370 اور 35 A کی اہمیت افادیت اور اسکی آئینی صفحات میں موجودگی یا عدم موجودگی کے بارے میں منفی سوچ رکھنے والے اورکج بحث کرنے والے مہاپرشوں سے مظفر شاہ صاحب نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حقیرمفاد کے حصول کیلئے اپنی آنیوالی نسلوں کے مستقبل کو داؤ پرنہ لگائیں بلکہ ایک مثبت سوچ کے ساتھ تاریخی حقئیق کا طرف دار بن کر سامنے آئے۔
5 اگست 2019 کو ہندوستاں کے وزیر اعظم،وزیر داخلہ اور منسٹرآف سٹیٹ ڈاکٹر جتندر سنگھ نے دفعہ 370 اور 35 A کی منسوخی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں تاریخی حقائیق کوتوڑ مروڑ کے رْخ بدل کر پیش کیا اور قانونی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنی سیاسی بالا دستی کا مظاہرہ کرکے اسے غیر آئینی طور منسوخ کر وایا۔ اس تمام غیر آئینی طریقہ کار کیخلاف عوامی نیشنل کانفرنس گزشتہ سال قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ سیاسی جْدوجہد کا آغاز کرکے اس دفعہ کے حوالے سے ایک قابل فہم آئینی اور تاریخی دستاویز مرتب کرکے جموں و کشمیر کے عوام کی طرف سے بطور ایک ’تحریک استحقاق‘ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ،پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور اْن کے دیگر ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ دیگر جزب مخالف کے ممبران پارلیمنٹ کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سر براہی میں جناب غلام نبی آزاد کی تائید و حمایت کیساتھ پیش کیا گیا جسکے خاطر خواہ مطلوبہ نتائج تاحال برآمد نہ ہوئے۔
لہذا آنے والے مون سون سیشن میں اس معاملے کو پھر سے پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کی کوشش میں تمام حذب اختلاف کے ممبران کو5 اگست 2019 کے غیر جمہوری فیصلہ کو رد کروا کر آئین اور آئین سازوں کی لاج رکھنے کی استد عا کیگئی۔میٹنگ میں پارٹی صدر محترمہ خالدہ شاہ صاحبہ اور سنیئر نائب صدر مظفر شاہ صاحب کی ایک سال تک کی غیر قانونی خانہ نظر بندی کے خلاف جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ میر محمد شفع نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کیخلاف مجاز عدالت کے سامنے ہر جانہ کیلئے تحت قواعد جانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ صدر رویندر رینہ کے خلاف اْن کے ورکنگ کمیٹی جموں میں دئے گئے حالیہ غیر جمہوری اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کے خلاف قومی انسانی حقوق کمشن کے علاوہ اقلیتی کمشن کے سامنے اٹھانے کا اظہار کیا۔اْنہوں نے مذید کہا کہ اگر سپریم کورٹ آف انڈیا نے دفعہ 370/35 A کے تعلق سے بروقت دائر کی گئی ہماری پٹیشن کو طوالت میں نہ ڈال کراسکی اہمیت کو سنجیدگی سے لیکر ایک ’اسٹیٹس کو’دیا ہوتا تو شاید حکمران ٹولے کو طاقت کے بل بوتے پر پارلیمنٹ کے زریعہ اسے منسوخ کرنے کا موقعہ نہیں ملتا ۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
