تازہ ترین
جنوبی کشمیر میں 3صحافیوں کی مبینہ مار پیٹ
کشمیر پریس کلب اور سیاستدانوں کی جانب سے مذمت،واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ
خبراردو:-
سرینگر: جموں و کشمیر میں ڈسٹرکٹ ڈیو لپمنٹ کونسل انتخابات کے پانچویں مرحلے کے دوران جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سر ی گفوارہ علاقے میں تین صحافیوں کی مبینہ طور پر مار پیٹ کی جبکہ ایک صحافی کو حراست میں بھی رکھا گیا ہے۔
اس دوران کشمیر پریس کلب کے ساتھ ساتھ مختلف میڈیا نمائندوں اورسیاسی افراد نے واقعے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم پولیس نے بتایا معاملہ غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جنوبی کشمیر کے ڈی ڈی سی انتخابات کے پانچویں مرحلے کے دوران جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سری گفوارہ علاقے میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس نے 3ٹیلی ویژن چنلوں سے وابستہ تین نامہ نگاروں کی مبینہ مارپیٹ کر نے بعد دو کو مقامی پولیس تھانے میں بند رکھا ہے۔
ٹی وی نیٹ ورک نیوز 18ارود نے بتایا کہ ”یوٹی جموں وکشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے پانچویں مرحلے کی پولنگ جاری ہے۔ اس دوران جموں وکشمیر کے اننت ناگ ضلع میں انتخابات کی کوریج کے لئے گئے نیوز 18 کے رپورٹر مدثر قادری کے ساتھ اننت ناگ کے ایس ایس پی سندیپ چودھری نے بدسلوکی کی۔ کشمیر پریس کلب نے اس واقعے میں تین مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ افراد کے ساتھ پیش آے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے تو وہیں ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے مدثر قادری کو انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے۔“
واقعے کے فوراًبعد کشمیر پریس کلب نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اس واقعے پر شدید الفاظ میں مزمت کی ہے۔پریس کلب نے جاری بیان میں مزید کہا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ تینوں افرادجمعرات کے صبح علاقے میں جاری ڈی ڈی سی انتخابات کا کو کورکررہے تھے۔انہوں نے بتایا ای ٹی وی کے ساتھ کام کرنے والے فیاض لولو نے کلب کو اس واقعے کے حوالے سے جانکاری دی ہے۔انہوں نے کشمیر پریس کلب انتظامیہ کو بتایا کہ وہ دو دیگر صحافی مدثر قادری (نیوز 18 اردو کے ساتھ اسٹرنگر) اور جنید رفیق (ٹی وی 9) کے ساتھ“پیٹا گیا،جب وہ جنوبی کشمیر کے علاقے سری گفوارہ میں جاری ڈی ڈی سی انتخابات کو کوریج کررہے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے ان کا ضروری ساز سامان بھی ضبط کرلئے ہیں۔
فیاض لولو نے الزام لگایا کہ جب اننت ناگ کا ایس ایس پی موقع پر پہنچا کہ انہیں بے رحمی سے پیٹا گیا اور قریب ترین پولیس چوکی لے جایا گیا۔ فیاض نے مزید بتایا کہ جنید زخمی ہوگیا ہے جس کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔کشمیر پریس کلب نے اس واقعے کو بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہارکرتے ہیں کہ صحافیوں کی آزادی کو یکسر نظرانداز کرنے کے مرتکب کرنے میں قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔کے پی سی نے چیف الیکٹورل آفیسر سے مزید کہا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کا نوٹس لیں اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں۔ کے پی سی کا مزید مطالبہ ہے کہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کشمیر میں میڈیا کے آزادانہ اور منصفانہ کام کے لئے ایک پر امن ماحول قائم کرے۔
اس دوران جنرلسٹ ایسو سی ایشن کے صدر تصدق رشید نے پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ معمالہ ایک غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیا ہے جس پر پولیس نے معزرت کا اظہار کیا ہے۔اس دوران اس واقعے پر متعدد میڈیا ادروں،صحافی برادری،سیاسی و سماجی شخصیات نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوے واقعے کے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر نیشنل کانفرنس نے اننت ناگ میں پولیس کے ہاتھوں 3صحافیوں کی مارپیٹ اور زدوکوب کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور معاملے کی فوری تحقیقات کرکے خاطیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 2016سے ہی جموں و کشمیر میں پریس کی آزادی کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو ہر گزرتے وقت کے ساتھ دراز سے دراز ہوتا جارہا ہے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو نشانہ بنانا اب روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوز 18کے مدثر قادری، ٹی وی 9کے جنید رفیق اور ای ٹی وی کے فیاض للو اننت ناگ میں ڈی ڈی سی الیکشن کے دوران اپنی فرائض انجام دینے کے دوران ان صحافیوں کی مارپیٹ کرنا اور حراست میں لیکر نزدیکی چوکی میں لے جانا قابل مذمت ہے۔
این سی ترجمان نے کہا کہ پولیس سربراہ نے معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ معاملے کی تحقیقات کرکے خاطیوں کیخلاف کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہ رونما ہوں۔(کے این ایس)
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا16 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان20 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا20 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا15 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا23 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا15 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا12 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر14 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر14 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
