جموں و کشمیر
جے کے کنٹریکٹرز کوآرڈی نیشن کمیٹی نے عیدالاضحیٰ سے قبل اپریل 2025 سے خزانے میں رکی ہوئی واجب الادا رقومات کی فوری اجرائی کا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا
سرینگر، جموں و کشمیر کنٹریکٹرز کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین غلام جیلانی پرزہ کی قیادت میں حکومت جموں و کشمیر سے پُرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ یکم اپریل 2025 سے اب تک کی تمام زیر التوا ادائیگیاں فوری طور پر جاری کرے۔ کمیٹی نے اس مطالبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحیٰ قریب ہے اور جموں و کشمیر بھر کے ٹھیکیدار شدید مالی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں جے کے سی سی سی کے چیئرمین غلام جیلانی پرزہ نے کئی اہم مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹھیکیداروں نے حکومت ہند کی مرکزی اسکیم “جل جیون مشن” کے تحت قابلِ ذکر کام مکمل کر لیا ہے، لیکن اگست 2024 سے اب تک کوئی ادائیگی عمل میں نہیں لائی گئی۔ یہ اسکیم ہر گھر تک صاف پینے کا پانی پہنچانے کے مقصد سے شروع کی گئی تھی، اور ابتدا میں ٹھیکیداروں کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ادائیگیاں بروقت کی جائیں گی، لیکن اب حالات اس کے برعکس ہیں۔ ادائیگیوں کے مسلسل التوا نے بہت سے ٹھیکیداروں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
جیلانی پرزہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹھیکیداروں کی پرفارمنس سیکیورٹی رقم اور بل ڈیپازٹس کو بطور عبوری ریلیف فوری طور پر جاری کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے گزشتہ سال حکومت کو باقاعدہ تجویز بھی پیش کی گئی تھی، لیکن تاحال اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
کمیٹی نے “پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا (PMKSY)” اسکیم کے تحت زیر التوا ادائیگیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹھیکیدار پچھلے تین برسوں سے اس اسکیم کے تحت کام کر رہے ہیں لیکن انہیں اب تک ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیا گیا، جس سے ان کی مالی حالت بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
پرزہ نے کہا کہ یکم اپریل سے اب تک خزانے سے کوئی ڈیپازٹ یا بل جاری نہیں ہوا ہے۔ جہاں ماضی میں بل محض 24 گھنٹوں میں کلیئر کیے جاتے تھے، اب کئی ماہ سے ادائیگیاں رُکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے محکمہ خزانہ کے ایڈمنسٹریٹو سیکریٹری شیلندر کمار سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی سے نوٹس لیں اور اس کا فوری حل نکالیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال مارچ یا اپریل میں جاری ہونے والا کیپکس بجٹ تاحال جاری نہیں کیا گیا ہے، حالانکہ جون کا مہینہ قریب آ چکا ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے بجٹ کا باقی ماندہ 25 فیصد حصہ نئے مالی سال میں ترجیحی بنیادوں پر جاری کیا جائے گا، مگر اس سلسلے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
کمیٹی نے مشترکہ طور پر جموں و کشمیر کے چیف منسٹر عمر عبداللہ، ڈپٹی چیف منسٹر سریندر کمار چودھری، کابینہ وزراء، چیف سیکریٹری اتل ڈولو، ایڈمنسٹریٹو سیکریٹری خزانہ شیلندر کمار اور پرنسپل سیکریٹری جل شکتی محکمہ شالین کبرہ سے اپیل کی کہ وہ دیرینہ مالی مسائل کو مقررہ وقت میں حل کریں۔ جے کے سی سی سی کے رہنماؤں نے کہا کہ ٹھیکیداروں کو بار بار تاخیر کا شکار نہ کیا جائے کیونکہ اس سے ان کے روزگار اور کام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
چیئرمین غلام جیلانی نے کہا “ہم عزت مآب چیف منسٹر اور جموں و کشمیر حکومت کے اعلیٰ حکام سے عاجزانہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کو فوری طور پر حل کریں۔ ٹھیکیداروں نے قومی اور ریاستی اسکیموں کے تحت زمین پر اہم ترقیاتی کام انجام دیے ہیں۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے واجب الادا رقوم بغیر کسی مزید تاخیر کے جاری کرے۔ بروقت ادائیگیاں ترقیاتی عمل کے تسلسل اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔”
اجلاس میں جے کے سی سی سی کے سینئر اراکین نے شرکت کی، جن میں گلزار احمد ریشی (وائس چیئرمین و صدر پی ایچ ای کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن سوپور)، طارق احمد بابا (جنرل سیکریٹری)، سینئر رہنما محمد امین رینہ، منظور احمد ملک (صدر ہائیڈرالک کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن بارہمولہ)، عبدالمجید (صدر پی ایچ ای کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کولگام) کے علاوہ کپواڑہ، بانڈی پورہ، شمالی و جنوبی کشمیر سمیت دیگر اضلاع کے صدور و نمائندے شامل تھے۔
جموں و کشمیر کنٹریکٹرز کوآرڈینیشن کمیٹی کی قیادت نے ایک بار پھر حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تاکہ ٹھیکیدار برادری کو اُن کی خدمات کا مناسب صلہ اور احترام دیا جا سکے، جو وہ ریاست کی ترقی میں ادا کر رہے ہیں۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان5 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر3 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا7 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا7 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان5 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
