ہندوستان
حلقہ بندی پر نئی تجویز ہے تو عام کریں، کل جماعتی اجلاس بلائیں: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے مرکزی حکومت سے سوال کیا ہے کہ اگر وہ حلقہ بندی پر دوبارہ آئینی ترمیمی بل لانے کی تیاری کر رہی ہے، تو اسے اپنی نئی تجویز عام کر کے اس پر کل پارٹی میٹنگ بلانی چاہئے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز کہا کہ کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے 16 اکتوبر کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کو حلقہ بندی کے معاملے پر ایک خط لکھا تھا، جس کا جواب پارلیمانی امور کے وزیر کیرن ریجیجو نے پیر کے دن دیا۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ مسٹر ریجیجو نے اپنے جواب میں مارچ 2026 میں وزیرِ داخلہ امت شاہ کی جانب سے کچھ سیاسی جماعتوں کے ساتھ حلقہ بندی پر کی گئی منتخب بات چیت کا ذکر کیا، لیکن ان گفتگو میں دی گئی ان یقین دہانیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا جو 16 اپریل کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے آئینی ترمیمی بل میں شامل نہیں تھیں۔ حکومت کا یہ بل 17 اپریل کو لوک سبھا میں ناکام ہو گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ریجیجو کے مطابق، حکومت نے بل منظور کرانے کے لیے جن سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی تھی، ان میں سے زیادہ تر نے بھی بل کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
مسٹر رمیش نے سوال کیا کہ کیا حکومت کے پاس حلقہ بندی کے تعلق سے کوئی ٹھوس نئی تجویز موجود ہے اور کیا اس نے اس پر کسی سیاسی جماعت سے مشورہ کیا ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ حکومت اپنی نئی تجویز عام کرنے، تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلانے اور اجتماعی پلیٹ فارم پر ان کے خیالات سننے سے کیوں گریز کر رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ مسٹر کھرگے چھ بار تحریری طور پر کر چکے ہیں، جن میں وہ چار خطوط وزیرِ اعظم کو اور دو خطوط مسٹر ریجیجو کو بھیج چکے ہیں۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی پوچھا کہ کیا حکومت ناکام ہونے والے بل کو دوبارہ لا کر دو تہائی اکثریت سے منظور کرانے کی کوشش کرنا چاہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ایسی کوئی کوشش کرتی ہے تو وہ ایک بار پھر ناکام ہوگی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راجناتھ سنگھ کی ایس سی او رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی اپیل
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام اور ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے مل کر ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایس سی او رکن ممالک کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کے 25 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کے دوہرے معیارات نہیں ہونے چاہئیں اور دہشت گردوں کو مالی امداد، سہولت کاری یا محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئے ہی مواصلاتی اور تجارتی راہداری کے منصوبوں کو آگے بڑھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے 2026-2030 کے لیے کثیر جہتی تجارتی اور اقتصادی تعاون کے پروگرام کے ایکشن پلان کی توثیق و حمایت کی۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایس سی او کی کامیابی کا اندازہ نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے، تاجروں کے لیے نئی منڈیاں کھولنے اور کسانوں نیز چھوٹے کاروباریوں تک جدید ٹیکنالوجی پہنچانے سے لگایا جانا چاہئے۔
انہوں نے تنظیم سے باہمی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینے اور ٹھوس نتائج حاصل کرنے کی اپیل کی۔
اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان تجارت، ترسیل و نقل و حمل ، مالیات، ڈیجیٹل معیشت اور سماجی ترقی میں باہمی تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ تمام وفود نے مشترکہ اعلامیے، سال 2027 کے ایس سی او بجٹ اور 2026-2030 کے اقتصادی تعاون کے ایکشن پلان کی منظوری دی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
آر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم خواتین کی مخالف ہے اور اس کا نظریہ یہ ہے کہ خواتین مردوں کی ملکیت ہیں۔
انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو آئین اور خواتین کا مخالف قرار دیا۔
مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، “آر ایس ایس مردوں کی ایک ایسی تنظیم ہے جو آئین مخالف نظریے پر یقین رکھتی ہے اور خواتین کو مردوں کی ملکیت مانتی ہے۔”
انہوں نے کہا، “میں ‘شِیو-شَکتی’ پر یقین رکھتا ہوں۔ اسی لیے ان کے خلاف جدوجہد کرنے میں مجھے اتنی خوشی ملتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ آر ایس ایس کی “اپنی کہی جانے والی کئی خواتین” بھی ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
بچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…
نئی دہلی، نیشنل اکالی دل کا سوشل ونگ 25 اکتوبر 2026 کو بچوں میں آن لائن گیمنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے ممکنہ برے اثرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک خصوصی بیداری پروگرام کا اہتمام کرے گا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد بچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے بچنے کی ترغیب دینا اور انہیں کھیلوں، ڈرائنگ اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے۔
نیشنل اکالی دل سوشل ونگ کی قومی صدر رشمیت کور بندرا کی قیادت میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں پارٹی کے قومی صدر پرمجیت سنگھ پما مہمان خصوصی ہوں گے۔ یہ پروگرام بچوں کو ان کی دلچسپیوں، صلاحیتوں اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، جسمانی سرگرمی اور سماجی تعامل کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ مہم بچوں کو بتائے گی کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال اور آن لائن گیمنگ ان کے وقت، روزمرہ کے معمولات اور پڑھائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچے ٹیکنالوجی کو متوازن طریقے سے استعمال کریں اور اپنا فارغ وقت کھیلوں، مصوری، آرٹ اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے لیے وقف کریں۔
قومی اکالی دل کے قومی صدر پرمجیت سنگھ پما نے کہا کہ بچے ملک کا مستقبل ہیں، اور معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی صحت مند، محفوظ اور تخلیقی نشوونما کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ بچوں کو موبائل فون اور آن لائن گیمنگ تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں باہر کھیلنے، اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے اور نئی چیزیں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ پاما نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں بچوں کی صحیح سمت میں رہنمائی کرنا بہت ضروری ہے۔ والدین، اساتذہ اور سماجی تنظیموں کو ایک ایسا ماحول بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے جہاں بچے ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا سیکھیں اور اپنی توانائی کو کھیلوں اور تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے مثبت انداز میں استعمال کر سکیں۔
سوشل ونگ کی قومی صدر رشمیت کور بندرا نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بچوں میں بیداری پیدا کرنا اور انہیں تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کی ترغیب دینا ہے۔ بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں گیمز، ڈرائنگ اور دیگر مثبت ذرائع میں شامل کرکے ان کے خود اعتمادی کو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
نیشنل اکالی دل کا خیال ہے کہ آن لائن گیمنگ کے ممکنہ برے اثرات کے بارے میں بچوں کو صرف سمجھانا ہی کافی نہیں ہے۔ انہیں بہتر متبادل فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ آگاہی مہم اسی سوچ کو ذہن میں رکھ کر چلائی جا رہی ہے، تاکہ بچے صحت مند عادات اپنائیں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور مستقبل کے لیے مثبت سمت میں آگے بڑھیں۔ نیشنل اکالی دل نے سماج کے لوگوں اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو وقت دیں، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں کھیلوں، فنون اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
-
دنیا1 week agoایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، دہلی اور پنجاب میں طوفان کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں بارش کے آثار
-
دنیا1 week ago‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
-
ہندوستان1 week agoمودی نے راج ماتا سندھیا کو خراج عقیدت پیش کیا، ان کے ورثے کو وکست بھارت کے نقطہ نظر سے جوڑا
-
ہندوستان6 days agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا غزہ پر بننے والی ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ کے ذرائع کی تحقیقات کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
تجزیہ1 week agoال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
-
دنیا6 days agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، سفارتی حل پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا جموں میں انتقال
