جموں و کشمیر
لیفٹیننٹ گورنر کی واپسی کے بعد کابینہ میں توسیع ہوگی: فاروق عبداللہ
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے پیر کو کہا کہ جموں و کشمیر کی وزارتی کونسل میں توسیع لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی واپسی کے بعد کی جائے گی۔
فاروق عبداللہ نے ضلع بڈگام میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ”لیفٹیننٹ گورنر کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور وہ بیمار تھے۔ جب وہ واپس آئیں گے تو حکومت میں توسیع کی جائے گی۔”
ان کا یہ بیان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی وزارتی کونسل میں طویل عرصے سے زیر التوا توسیع کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے 16 اکتوبر کو اپنے دو سال مکمل کرلیے ہیں۔
اکتوبر 2024 میں اقتدار سنبھالنے والی حکومت نے اب تک کابینہ میں ردوبدل نہیں کیا ہے اور مجوزہ توسیع سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
اس دوران، نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حال ہی میں حکومت میں وزرا کے استعفوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کسی بھی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔
انہوں نے جموں میں صحافیوں سے کہا تھاکہ ”کسی وزیر نے استعفیٰ پیش نہیں کیا ہے۔”
نیشنل کانفرنس کی انتخابی اتحادی جماعت کانگریس بھی کابینہ میں توسیع سے متعلق بحث کا اہم حصہ رہی ہے۔
اگرچہ نیشنل کانفرنس نے کانگریس کو کابینہ میں ایک عہدہ دینے کی پیشکش کی تھی، لیکن پارٹی نے حکومت میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ کانگریس نے جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال ہونے تک حکومت کو باہر سے حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل 7 اکتوبر کو عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ اپنے والد اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے مشاورت کے بعد وزارتی کونسل میں توسیع کے بارے میں جلد فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے ثقافتی شعبے کی بحالی کے لیے محبوبہ مفتی کی امیت شاہ سے مداخلت کی اپیل
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے ثقافتی شعبے کی بحالی اور اسے مضبوط بنانے کے لیے مداخلت کریں۔
انہوں نے دوردرشن اور آکاشوانی، بالخصوص ڈی ڈی کشمیر پر مقامی پروگراموں کی نشریات کے لیے مختص فنڈز فراہم کرنے اور مشکلات سے دوچار خطے کے فن کاروں کو مسلسل ادارہ جاتی تعاون دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
امیت شاہ کو لکھے گئے خط میں محبوبہ مفتی نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے فن کار، موسیقار، ادیب، فلم ساز اور ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد محض فن کا مظاہرہ کرنے والے نہیں، بلکہ خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کے محافظ اور ثقافتی سفیر بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افراد ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی شناخت، امن اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے مطالبہ کیا کہ ڈی ڈی کاشیر اور آکاشوانی کے مراکز کو مناسب اور مخصوص فنڈز فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ مقامی زبانوں، لوک روایات، موسیقی، ادب، تھیٹر اور سنیما پر مبنی معیاری پروگرام باقاعدگی سے تیار کرکے نشر کرسکیں۔
فن کاروں کو باعزت اور پائیدار روزگار فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مرکزی وزارتِ ثقافت اور دیگر مرکزی ثقافتی اداروں سے بھی اپیل کی کہ مقامی فن کاروں کے لیے خصوصی پروگرام اور مالی اقدامات متعارف کرائے جائیں، تاکہ انہیں مستقل بنیادوں پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع حاصل ہوسکیں۔
محبوبہ مفتی نے اپنے خط میں لکھاکہ ”ہمارے فن کاروں کی مدد کرنا اور ثقافتی اداروں کو مضبوط بنانا محض ایک ثقافتی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہندوستان کی ثقافتی وحدت، قومی یکجہتی اور ہمارے مالا مال تہذیبی ورثے کے تحفظ میں سرمایہ کاری ہے۔”
محبوبہ مفتی نے اس خط کی نقول مرکزی وزرائے اطلاعات و نشریات اور ثقافت کو بھی روانہ کی ہیں۔ انہوں نے ان سے مشترکہ طور پر مداخلت کرنے کی اپیل کی، تاکہ ثقافتی اداروں کو مستحکم بنایا جاسکے اور جموں و کشمیر کے فن کاروں کو وہ شناخت، وسائل اور پلیٹ فارم فراہم کیے جاسکیں جن کے وہ مستحق ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں لاپتہ ایس پی او کے قتل کا معمہ حل، دو ملزمین گرفتار
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ضلع کشتواڑ میں لاپتہ ہونے والے اسپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) کے قتل کا معاملہ حل کرلیا اور اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے اتوار کو یہاں بتایا کہ ایس پی او بشیر احمد کے اہل خانہ نے 15 اکتوبر کو پولیس چوکی تریگام سے ان کے سرکاری ہتھیار سمیت لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اطلاع ملنے کے بعد متعدد پولیس ٹیموں پر مشتمل ایک وسیع تلاشی مہم شروع کی گئی۔
ترجمان نے کہاکہ ”اگلے روز تلاشی مہم کے دوران پولیس نے پہلے ایس پی او کا ہتھیار برآمد کیا اور اس کے بعد تریگام کے جنگلاتی علاقے میں واقع سیران وانی کے مقام پر ایک نالے میں گڑھے سے ان کی لاش برآمد کی، جسے وہاں دفن کیا گیا تھا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ لاش ملنے کے بعد کشتواڑ پولیس اسٹیشن میں متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران دو مشتبہ افراد کی شناخت بشیر احمد ڈار اور نذیر احمد ڈار کے طور پر کی گئی۔ دونوں سیران وانی، تریگام کے رہنے والے ہیں۔ ان سے پوچھ گچھ کے دوران ایس پی او کے قتل کی سازش اور اس کے محرکات کا انکشاف ہوا۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ ملزمین کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر واردات میں استعمال ہونے والا ہتھیار اور مقتول کا چھپایا گیا سامان بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاملے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ضلع کشتواڑ پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علاقے میں امن و قانون برقرار رکھنے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
پنجاب میں سری نگر جانے والی بس پر پتھراؤ، 2 دن میں دوسری بار حملہ
سری نگر، اتوار کی دیر رات پنجاب میں سری نگر جانے والی ایک نجی سلیپر بس کو نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا۔ 2 دن کے اندر ایک ہی کمپنی کی بسوں پر پتھراؤ کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔
بس کے ڈرائیور اشفاق احمد کے مطابق، تازہ واقعہ رات تقریباً 11 بجے لدھیانہ کے قریب دہلی-جموں شاہراہ پر پیش آیا، جب اسٹار ورلڈ وینچرز کی وولوو بس پر پتھر پھینکے گئے۔
فون پر بات کرتے ہوئے احمد نے کہا کہ اس حملے سے مسافر خوف زدہ ہوگئے، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”ہم دہلی سے تقریباً 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آرہے تھے کہ بس پر پتھر پھینکے گئے۔ تمام مسافر محفوظ ہیں۔ بس کی کھڑکیوں کے شیشے مضبوط ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کو تحفظ ملا۔ بس میں خواتین اور بچوں سمیت 38 مسافر سوار تھے۔”
واقعے کے بعد ڈرائیور نے بس روک دی اور پنجاب پولیس کو اطلاع دی۔
حکمراں نیشنل کانفرنس کے رہنما عمران ڈار نے اس حملے کو تشویش ناک خبر قرار دیا۔
یہ واقعہ اس کے ایک دن بعد پیش آیا ہے، جب جموں و کشمیر سے مسافروں کو لے جانے والی اسی کمپنی کی ایک دوسری بس پر ہفتے کی رات ہریانہ کے کرنال ضلع میں سڑک کنارے واقع ایک ڈھابے پر پتھر اور اینٹوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں ایک مسافر اور ایک کارکن زخمی ہوگئے تھے، جبکہ واقعے کے سلسلے میں 2 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کرنال پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ معاملہ پارکنگ کے تنازعے سے شروع ہوا تھا اور اس میں نفرت پر مبنی جرم کا کوئی پہلو نہیں تھا۔ بس کے ڈرائیور نے الزام لگایا تھا کہ گاڑی کا رجسٹریشن نمبر دیکھنے کے بعد حملہ آوروں نے اسے ”دہشت گرد” کہا تھا۔
ہریانہ میں ہوئے حملے کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا ہوگئی تھی اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس واقعے کی مذمت کی اور ہریانہ حکومت سے ملزمین کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
یو این آئی، ایم جے
-
دنیا1 week agoایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
-
دنیا1 week ago‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، دہلی اور پنجاب میں طوفان کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں بارش کے آثار
-
ہندوستان1 week agoمودی نے راج ماتا سندھیا کو خراج عقیدت پیش کیا، ان کے ورثے کو وکست بھارت کے نقطہ نظر سے جوڑا
-
ہندوستان5 days agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا غزہ پر بننے والی ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ کے ذرائع کی تحقیقات کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا جموں میں انتقال
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، سفارتی حل پر زور
-
تجزیہ1 week agoال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
-
ہندوستان5 days agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف جنوبی جائنٹس بریگیڈز کی جوابی کارروائی میں اہم کردار
