دنیا
پوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اگلے ماہ چین میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں ۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی سہ فریقی سربراہی اجلاس کی بنیادی توجہ جوہری تخفیف پر ہوگی جبکہ اس میں یوکرین کی جنگ پر بھی ممکنہ طور پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ میں یہ کروں گا یوکرین کے لیے اتنا زیادہ نہیں، کیونکہ سچ کہوں تو روس یوکرین کے معاملے پر ٹھیک رہا ہےوہ کچھ زیادہ نہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب بھی اس کے لیے تیار ہیں کہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے جو کچھ میں کر سکتا ہوں، وہ کروں۔
ماسکو کے ساتھ اپنے حالیہ ڈیزل معاہدے اور کانگریس کی پابندیوں پر دی گئی چھوٹ کا دفاع کرتے ہوئے ٹرمپ نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی پر شدید ذاتی حملہ کیا اور کہا کہ زیلنسکی نہیں جانتے کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں، سچ کہوں تو میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ یوکرین کی طرف سے مذاکرات کے لیے کوئی اور شخص سامنے آئے۔
کریملن نے تصدیق کی ہے کہ 18-19 نومبر کو شینزین میں ہونے والے ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون سربراہی اجلاس کے حاشیے پر ایک فرضی ملاقات کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے، تاہم ترجمان دمیتری پیسکوف نے بتایا کہ ابھی تک کوئی باقاعدہ ایجنڈا طے نہیں پایا ہے۔
یوکرینی وزیر خارجہ آندرے سیبیہا نے کیف کو شامل کیے بغیر سہ فریقی مذاکرات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، اور ان کا استدلال ہے کہ یہ فارمیٹ صرف ماسکو کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
دورہ کرنے والے امریکی کانگریس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئےزیلنسکی نے خبردار کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے کیے گئے حالیہ فیصلےدوستوں کے درمیان سمجھانا مشکل ہیں۔
زیلنسکی نے انکشاف کیا کہ یوکرینی افواج کو ڈرون دفاع کے لیے درکار اسٹار شیلڈ سیٹلائٹ سسٹم پر آپریشنل پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران تین بار یوکرین کو روسی حملوں کے بارے میں شراکت داروں کی طرف سے ملنے والی معمول کی پیشگی وارننگز موصول نہیں ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم میزائل پیکج ابھی تک پورا نہیں ہوا جو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دستخط کا منتظر ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ یہ سب کچھ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمارے لیے حمایت کو سست کرنے کا کوئی سیاسی فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے پیشکش کی کہ اگر واشنگٹن پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز فراہم کرتا ہے تو وہ روسی تیل کی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں کو 30 دنوں کے لیے روک دیں گے جبکہ انہوں نے ناروے میں امریکی صدارتی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ جلد ہونے والے مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
پیرس، فرانس میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہفتے کے آخر میں ہونے والے مظاہروں کے پرتشدد رخ اختیار کرنے کے بعد حکام مزید علاقوں میں کرفیو نافذ کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم سباستیاں لیکورنو نے منگل کو یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی میں شدت سے سیاسی اختلافات اور اقتصادی غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنے والی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
لیکورنو نے کہا کہ مخصوص علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے سے رات کے وقت حالات معمول پر لانے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر منگل کی شام سے مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس سلسلے میں فیصلے مقامی پریفیکٹس میئرز کے ساتھ تال میل سے کریں گے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں یہ بات کہی۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ اگلے ہفتے کے آخر میں مزید مظاہروں کا پروگرام ہے، جبکہ مزدور یونینیں نومبر میں سڑکوں پر احتجاج کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ اگلے موسم بہار میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل عوامی بے اطمینانی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لے پین آگے بتائی جا رہی ہیں۔
دریں اثنا ‘یلو ویسٹ’ رابطہ گروپ نے ہفتے کو ایک اور احتجاجی مظاہرے کی اپیل کی ہے۔
پیرس اور لیون کے بعض حصوں میں رات کے اوقات میں جزوی کرفیو نافذ ہے۔ مظاہروں کے دوران لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور جھڑپوں کے واقعات کے بعد دیگر علاقوں میں بھی پابندیوں کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ پولیس اور جنڈرمیری کے ذرائع نے بتایا کہ رات مجموعی طور پر پُرسکون رہی، تاہم مارٹینیک میں احتجاج کے دوران کچھ واقعات پیش آئے۔
وزیر انصاف جیرالڈ درماناں نے بتایا کہ ہفتے کے آخر میں ہونے والی بدامنی کے بعد 2,513 افراد کو حراست میں لیا گیا، 67 افراد کو جیل بھیجا گیا اور کئی درجن عدالتی تحقیقات شروع کی گئیں۔ انہوں نے ہنگامی حالت نافذ کرنے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکام عام شہریوں کی آزادیوں کو محدود کیے بغیر سخت پولیس کارروائی کے ذریعے امن و امان بحال کر سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی صدر یائل براؤن پیویٹ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان شکایات کو نظرانداز نہ کرے جن کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ لاکھوں افراد نے پُرامن مظاہروں میں شرکت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان سے متعلق خدشات کو بجٹ پر بحث اور مظاہرین کے مطالبات پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔
دوسری جانب کاروباری رہنماؤں نے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات کو روکنے میں ناکامی پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کاروباری تنظیم میڈیف کے صدر پیٹرک مارٹن نے کہا کہ حکومت کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق کم از کم 3,000 کاروباری ادارے متاثر
۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر ریکارڈ کم ترین سطح 31 فیصد پر آگئی ہے۔
پیر کو جاری رائٹرز/اِپسوس کے سروے کے مطابق، نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اب صرف دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔
سروے میں شامل 66 فیصد افراد نے ٹرمپ کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا، جبکہ ان کی مقبولیت گزشتہ سروے کے مقابلے میں ایک فیصد پوائنٹ کم ہوئی ہے، جو دو ہفتے پہلے کیا گیا تھا۔ یہ شرح ٹرمپ کی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران ریکارڈ کی گئی سب سے کم سطح ہے۔
معاشی معاملات پر عدم اطمینان خاص طور پر نمایاں رہا۔ سروے میں 68 فیصد افراد نے معیشت سے متعلق ٹرمپ کی کارکردگی کو ناپسند کیا، جن میں خود کو ریپبلکن قرار دینے والے 37 فیصد افراد بھی شامل ہیں۔
اتوار کو جاری واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور اِپسوس کے ایک الگ سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد درج کی گئی، جو جولائی کے مقابلے میں چار فیصد پوائنٹ کم اور ان کی پہلی صدارتی مدت کے دوران ریکارڈ کی گئی کسی بھی سطح سے نیچے ہے۔
رائٹرز/اِپسوس کے سروے میں ایوانِ نمائندگان کے انتخابات کے لیے بھی ڈیموکریٹک پارٹی کو ریپبلکن پارٹی پر 12 فیصد پوائنٹ کی برتری حاصل رہی۔ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 47 فیصد نے ڈیموکریٹک امیدواروں جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کی۔ موجودہ انتخابی دور میں اس سروے کے دوران ڈیموکریٹس کی یہ سب سے بڑی برتری ہے۔ دو ہفتے پہلے کانگریس کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہونا چاہیے، اس سوال پر ڈیموکریٹس کو 44 فیصد اور ریپبلکنز کو 37 فیصد حمایت حاصل تھی۔
یہ نتائج 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد عوامی بے اطمینانی میں اضافے کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے ملک بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کیے جانے سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن حالیہ ہفتوں میں معمولی کمی کے باوجود پٹرول پمپوں پر قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (اے اے اے) کے مطابق، منگل کو امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.28 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی وقت کے مقابلے میں تقریباً 1.30 ڈالر زیادہ ہے۔
ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں اپنا کنٹرول کھونے کا خدشہ ہے۔ اس صورت حال میں ٹرمپ نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ”یہ فرض کریں کہ میں بھی انتخابی میدان میں ہوں”۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر دیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے پیر کو ریاست کنساس میں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کی انتخابی مہم کے دوران کسانوں کو فصل کی کٹائی کے موسم میں ڈیزل کے اخراجات سے راحت دینے کے لیے آٹھ ارب ڈالر کے فنڈ کا اعلان بھی کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن
ماسکو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید میں شدت اور جنگ زدہ ملک میں انتخابات کرانے کے مطالبے کے درمیان، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کے لیے اگلے ماہ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کی تجویز پیش کی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بات چیت سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ ملاقات 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزین میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) سربراہ کانفرنس کے موقع پر ہوسکتی ہے۔تاہم، ٹرمپ نے ابھی تک اس تجویز کو منظوری نہیں دی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ممکنہ ملاقات کے بارے میں بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فارمیٹ اور ایجنڈے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
پیسکوف کے حوالے سے کہا گیا، ”ابھی ملاقات اور اس کے ممکنہ ایجنڈے کے بارے میں کوئی واضح سمجھ بوجھ نہیں ہے، تاہم تینوں فریق اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایسی ملاقات ہوسکتی ہے۔”
رپورٹ کے مطابق، پوتن نے 9 اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران یہ تجویز پیش کی تھی۔ اس گفتگو کے نتیجے میں امریکہ کو روسی ڈیزل کی فراہمی سے متعلق ایک معاہدہ بھی طے پایا، جس کے بعد ٹرمپ نے ماسکو پر عائد اہم پابندیوں میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنگ اپنے پانچویں تقویمی سال میں داخل ہوچکی ہے، سفارتی کوششیں دوبارہ تیز ہورہی ہیں اور لڑائی ختم کرنے کے طریقۂ کار پر واشنگٹن اور کیف کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی اور ڈیزل معاہدے کی کوششوں پر زیلنسکی نے تنقید کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات پوتن کی پوزیشن مضبوط کرسکتے ہیں اور جنگ کو طول دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ یوکرینی صدر پر تنقید کرنے کے ساتھ یوکرین میں انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران کیف پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، دہلی اور پنجاب میں طوفان کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں بارش کے آثار
-
دنیا1 week ago‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
-
ہندوستان1 week agoمودی نے راج ماتا سندھیا کو خراج عقیدت پیش کیا، ان کے ورثے کو وکست بھارت کے نقطہ نظر سے جوڑا
-
ہندوستان6 days agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا غزہ پر بننے والی ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ کے ذرائع کی تحقیقات کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
تجزیہ1 week agoال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
-
دنیا6 days agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، سفارتی حل پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا جموں میں انتقال
