جموں و کشمیر
خالی ہوٹل، بند ٹیکسیاں، خاموش دکانیں: کشمیر کی سیاحت سسکنے لگی
سری نگر، مشہور سیاحتی مقام پہلگام کی بیسرین وادی میں برابر ایک ماہ قبل پیش آنے والے سانحے کے بعد بھی وادی کشمیر کے تمام سیاحتی مقامات جہاں ان دنوں مقامی و غیر مقامی سیاحوں کا رش بام عروج پر ہوتا تھا، بے رونق اور سنساں ہیں یہاں تک کہ سری نگر میں واقع تاریخی مغل باغات میں بھی معمول کی چہل پہل اور رش و رونق مفقود ہے۔
سری نگر کے نشاط باغ میں تعینات ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ رواں سال کے آغاز میں کشمیر میں سیاحت کا رجحان انتہائی حوصلہ افزا تھا۔ ان کے مطابق نشاط باغ کا سال 2025 کا ٹھیکہ ساڑھے چار کروڑ روپے میں ایک نجی کمپنی کو دیا گیا، جو کہ ایک ریکارڈ سمجھا جا رہا تھا۔
موصوف عہدیدار کے مطابق:’رواں سال کے پہلے چار مہینوں میں یومیہ آٹھ سے دس ہزار سیاح نشاط باغ کی سیر کو آتے تھے۔ باغات میں رش،جوش و خروش اور رونقیں تھیں، لیکن پہلگام حملے نے سب کچھ بدل کے رکھ دیا ہے۔ اب یہاں روزانہ صرف تین سے چار سو مقامی لوگ ہی آ رہے ہیں۔ غیر ملکی یا بیرونی ریاستوں کے سیاح مکمل طور پر غائب ہیں۔‘
نشاط باغ کی طرح سری نگر کے دیگر مغل باغات، جیسے شالیمار، چشمہ شاہی اور ہارون باغ میں بھی ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ ہر سال گرمیوں کے سیزن میں یہ باغات سیاحوں سے کھچا کھچ بھرے ہوتے تھے، مگر اس بار صورتحال یکسر مختلف ہے۔
ادھر وادی میں سیاحوں کی دلچسپی کا ایک اور مرکز جھیل ڈل میں بھی سناٹا ہی چھایا ہوا ہے۔
شکارا چلانے والوں کا کہنا ہے: ہم پورا دن بیٹھے رہتے ہیں، کوئی سواری نہیں آتی، پہلگام واقعے سے پہلے کم سے کم دن بھر شکارا چلا کر دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتے تھے لیکن اب نوبت فاقوں تک آ پہنچی ہے’۔
سیاحت سے وابستہ افراد، ٹور آپریٹرز، شکارا یونینز اور ہوٹل مالکان نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے کر فوری عملی اقدامات کرے تاکہ بچا کھچا سیاحتی سیزن مکمل طور پر برباد نہ ہو جائے۔
سیاحتی امور سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی و مرکزی حکومت کو مشترکہ طور پر ایک بھرپور اعتماد سازی مہم شروع کرنی چاہیے، جس میں یہ باور کرایا جائے کہ کشمیر سیاحوں کے لیے محفوظ ہے اور یہاں کے لوگ ان کے خیرمقدم کے لیے تیار ہیں۔
شعبہ سیاحت کشمیر کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڑی کی حیثیت رکھتی ہے ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ملک کے گوشہ و کنار سے تعلق رکھنے سیاح وارد وادی ہوکر یہاں کے تمام سیاحتی مقامات کی خوبصورتی سے لفط اندوز ہوتے ہیں جس سے نہ صرف ہوٹل انڈسٹری بلکہ ٹیکسی ڈرائیورز، دستکار، دکاندار اور گائیڈز کو روزگار ملتا ہے۔ تاہم، موجودہ سیزن میں سیاحت کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو چکا ہے۔
جموں و کشمیر کے معروف سیاحتی مقام سونہ مرگ، جو سری نگر سے تقریباً 80 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، ان دنوں غیر معمولی ویرانی کا شکار ہے۔ جہاں ہر سال مئی کے مہینے میں سیاحوں کا ہجوم رہتا تھا، وہاں اب ہوٹل، بازار اور سیاحتی سرگرمیاں تقریباً ختم ہوچکی ہیں۔
ہوٹل گلیشئر ہائیٹس کے منیجر شوکت احمد نے یو این آئی کو بتایا کہ’سانحہ پہلگام سے قبل ہمارے ہوٹل میں جولائی تک کی تمام بکنگ مکمل تھی، لیکن حملے کے بعد تمام بُکنگس منسوخ کر دی گئیں۔ ہمیں ٹور آپریٹروں کو 30 لاکھ روپے سے زائد کی رقم واپس کرنا پڑی ہے’۔
ان کے مطابق 18 مئی تک سونہ مرگ میں کوئی سیاح دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ اب چند ایک سیاحوں کی آمد شروع ہوئی ہے، لیکن یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور کاروبار کے احیاء کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ’ہمارے ہوٹل میں مجموعی طور پر 40 ملازمین کام کرتے تھے، مگر اس وقت صرف چار ملازم کام کر رہے ہیں، باقی سب کو عارضی طور پر چھٹی دے دی گئی ہے۔ ہم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، انہیں دوبارہ بلایا جائے گا۔ مئی کی تنخواہ بھی انہیں ادا کی گئی ہے’۔
موصوف منیجر نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’اگر حکومت سیاحتی سیزن کو بچانا چاہتی ہے تو فوری طور پر ایک بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحوں کو دوبارہ کشمیر آنے کی طرف راغب کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز اور ٹور ازم ایجنسیوں کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جانا ضروری ہے کہ کشمیر ایک محفوظ مقام ہے۔‘
ایک مقامی شخص نے بتایا: ‘ سونہ مرگ میں سینکڑوں خاندان براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سیاحت کے شعبے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ہوٹل، ٹینٹ سروسز، ٹرانسپورٹ، گھوڑے بان، ہنڈی کرافٹ فروش اور دیگر خدمات سیاحوں کی آمد سے جڑی ہوئی ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ان تمام طبقوں کو شدید مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے’۔
ادھر سری نگر سے تقریباً 48 کلومیٹر کی دوری پر واقع سیاحتی مقام یوسمرگ میں بھی سیاحوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے خاموشی کا ماحول چھایا ہوا ہے۔
مقامی ہوٹل مالک قاضی اعجاز نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلگام حملے سے قبل یہاں یومیہ 70 سے 80 سیاحتی گاڑیاں آتی تھیں۔ ہوٹل مالکان، گھوڑے بان اور ریڑھی لگانے والے اچھی آمدنی کر رہے تھے۔ مگر اب سارا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد یوسمرگ کو بھی سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا جس سے سیاحت سے وابستہ افراد کو مزید نقصان اٹھانا پڑا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یوسمرگ میں اس وقت ہوٹل، ٹینٹ ہاؤسز، گھوڑے بان، مقامی کھانے پینے کی دکانیں، اور چھوٹے کاروباری سبھی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ اپنے گھروں کا چولہا جلانا بھی دشوار پائیں گے۔
عوام نے حکومت جموں و کشمیر سے اپیل کی ہے کہ کم از کم مقامی سیلانیوں کو اس مقام کی سیر و تفریح کی اجازت دی جائے تاکہ سیاحت سے وابستہ افراد اپنی روزی روٹی جاری رکھ سکیں۔
غلام رسول نامی ایک ایک گھوڑے بان کا کہنا تھا:’ہم نے گھوڑے کرایے پر لے کر رکھے ہیں، ان کےکھانے پینے کا خرچ، دیکھ بھال، سب ہم خود کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم کیسے گزارہ کریں گے’۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع دودھ پتھری کے ایک مقامی شہری کا کہنا تھا:’پہلی بار ہم نے دیکھا ہے کہ مئی کے مہینے میں یہاں اتنی خاموشی ہے۔ شکارے، گھوڑے، گائیڈ سب بے کار بیٹھے ہیں۔ لوگوں میں زبردست مایوسی ہے، اور کسی کو کوئی امید نظر نہیں آ رہی’۔
جموں و کشمیر کے عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقام گلمرگ، جو سری نگر سے تقریباً 80 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے،کا حال بھی مختلف نہپیں ہے،رواں سیزن میں سیاحوں سے بھرے ہوٹل، مصروف ریزورٹس، اور گونڈولا کی قطاریں اب سنسان ہیں۔ گلمرگ میں سیاحتی سرگرمیوں کی یہ خاموشی نہ صرف مقامی معیشت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ہزاروں افراد کی روزی روٹی بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔
گلمرگ کے معروف ہوٹل “ہل ٹاپ” کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ پہلگام سانحہ سے قبل ہمارے ہوٹل میں دن رات کا فرق محسوس نہیں ہوتا تھا،ہمیں کھانا کھانے تک کی فرصت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن آج ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ’گزشتہ ایک ماہ سے ہوٹل انڈسٹری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، اور اس کی بھرپائی آسان نہیں۔ سیاحوں کی آمد مکمل بند ہونے سے نہ صرف کاروبار ٹھپ ہوا ہے بلکہ ملازمین کو بھی فارغ کرنا پڑ رہا ہے’۔
سیاحت سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ ‘پہلگام حملے کے بعد وادی کشمیر میں سیاحتی صنعت بدترین بحران سے گزر رہی ہے، اور اس کا تازہ ترین ثبوت معروف ٹور اینڈ ٹریول ایجنسی “ریچنگ ہیون” کے متاثرہ شیڈول سے واضح ہوتا ہے’۔
کمپنی کے مالک نے یو این آئی کو بتایا کہ نہ صرف موسمِ بہار اور گرما کے تمام ٹور پیکج منسوخ کر دیے گئے ہیں یہاں تک کہ اب نومبر مہینے کی بکنگ بھی ختم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں ہمارے پاس فل بکنگ تھی، لیکن پہلگام سانحے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ تمام ٹورز منسوخ کرنے پڑے اور گاہکوں کو رقم واپس کرنا پڑی’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘یہ بات باعث حیرت ہے کہ نومبر کے لیے بکنگ کرنے والے ایک جوڑے نے بھی حالیہ حالات کے پیش نظر اپنا پروگرام منسوخ کر دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک بھر میں کشمیر کے حالات کو کس نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ جولائی مہینے تک ہوٹلوں میں ایک بھی کمرہ خالی نہ تھا، لیکن صورتحال اس قدر تیزی سے بدلی کہ سیاحتی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو گیا۔
ریچنگ ہیون ٹرول کمپنی کے مالک نے کہا کہ’میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہنا چاہتا ہوں کہ نومبر سے وادی کا سیاحتی شعبہ دوبارہ پٹری پر آئے گا۔ کیونکہ امرناتھ یاترا کے دوران عمومی طور پر سیاحتی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوتی ہے، اور پھر نومبر سے سیاحوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے’۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی سطح پر کام کر کے سیاحوں کا اعتماد بحال کرے اور ایسی پالیسیاں مرتب کرے جن سے ٹور آپریٹرز اور دیگر سیاحتی اسٹیک ہولڈرز کو سہارا مل سکے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کچھ روز قبل میڈیا کو بتایا کہ وادی میں موسم گرما سیاحتی سیزن لگ بھگ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
حکومت کی طرف سے شعبہ سیاحت سے وابستہ لوگوں کے اشتراک کے ساتھ روڈ شو وغیرہ جیسے ایونٹس کا اہتمام کرکے اس شعبے کو بحال کرنے کی کاوشیں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد وادی کشمیر میں شعبہ سیاحت سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ ہے۔
یو این آئی ارشید بٹ- ایم افضل
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کی، پیپلز کانفرنس کی قیادت پر سیاسی مخالفین کو دھمکانے کا الزام
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے جمعرات کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس (پی سی) کی اعلیٰ قیادت مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام لے کر اس کے رہنماؤں کو دھمکا رہی ہے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی رہنماؤں التجا مفتی، وحید پارہ اور سابق رکن قانون ساز کونسل یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے نام لے کر سیاسی مخالفین کو دھمکایا اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت رکن اسمبلی سجاد لون کر رہے ہیں۔
التجا مفتی نے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت کشمیر کی سیاسی فضا میں “خوف کا ماحول” پیدا کر رہی ہے اور پی ڈی پی رہنماؤں کو ڈرانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ واضح کریں آیا یہ سب کچھ مرکز کی معلومات میں ہو رہا ہے یا نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو متعلقہ ایجنسیوں کے نام کے مبینہ غلط استعمال کو روکا جائے۔
انہوں نے کہا، “ہمارا مقابلہ بیلٹ کے ذریعے کریں، ای ڈی، این آئی اے یا سی بی آئی کے ذریعے نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ مکالمے اور انتخابات کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ دھونس، دھمکی یا تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال سے۔مسٹر التجا نے مزید الزام لگایا کہ پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور تحقیقاتی ایجنسیاں کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔
دریں اثنا یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انہیں حال ہی میں مرکزی ایجنسیوں کے بعض اہلکاروں کی ایک مبینہ میٹنگ کے بارے میں اطلاع ملی، جس میں ان کے خلاف کارروائی پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عسکریت پسندی یا علیحدگی پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کرے۔
مسٹر یاسر نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایجنسیاں ان پر جھوٹے الزامات لگانے والوں سے براہ راست پوچھ گچھ کریں یا ان کے خلاف کارروائی کریں۔
رکن اسمبلی وحید پارہ نے کہا کہ مبینہ سیاسی دباؤ دراصل جموں و کشمیر کے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مباحث کا مرکز دفعہ 370، سیاسی قیدیوں، جماعت اسلامی پر پابندی، ملازمین کی برطرفیوں اور خطے کے عوام کو درپیش دیگر اہم مسائل ہونے چاہئیں۔وحید پارہ نے کہا، “دو کشمیریوں کے درمیان لڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں عوامی مباحث کو جان بوجھ کر کیوں آلودہ اور تقسیم کیا جا رہا ہے”
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 کے بعد پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں، جن میں ارکان اسمبلی، سابق ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں، کو دباؤ ڈال کر پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جس سے پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو منظم انداز میں کمزور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات نمٹانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطی یا کسی بھی دوسرے دباؤ کے طریقے استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔
آخر میں وحید پارہ نے کہا، “اگر ہم کشمیر کو کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم اسے نقصان نہ پہنچائیں۔” انہوں نے میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی الزامات سے گریز کرتے ہوئے عوامی مسائل پر مرکوز، صاف ستھرے اور تعمیری سیاسی مباحث کو فروغ دیں۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا16 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان21 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا20 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا15 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا23 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا15 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا13 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر14 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر14 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
