تازہ ترین
خوش رہنے کے قاعدے
لطاف جمیل ندوی
لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا]مؤلف ڈاکٹر عائض القرضی
دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔ انسان کو اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہے اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔
لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ زیر نظر کتاب ’’غم نہ کریں‘‘ڈاکٹرعائض القرنی کی مقبول ترین عربی کتاب لاتحزن کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب کے سے کچھ باتیں آپ کی نطر
قاری اگر رنجیدہ ہے ،پریشان،بےسکون،طبیعت میں بگاڑ ،مزا ج میں تنگی تو اس کتاب کے مطالعے سے طبیعت میں سکون ،سوچوں کو صحیح رُخ مل جاتاہے، دراصل یہ کتاب ان لوگوں کے لئے انتہائی مفید ہے جو کم علم ہونے کے باعث قرآن وحدیث کاصحیح فہم نہیں رکھتے، معنی نہیں سمجھتے اور غم ،پریشانی ،مصیبتوں کے اوقات میں شرعی احکام سے دور ہوجاتےہیں، اللہ کی حکمت اور اس کی معرفت کو جان نہیں پاتے، کتاب کے اختتامی صفحات سے چند باتیں آپ کے سامنے پیش کی ہیں ایمان سے رنج وغم اور فکر یں ختم ہوجاتی ہیں وہ اہل ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور عبادت گذاروں کیلئے تسلی کاباعث ہے جوگزرا سو گزرا۔
وقت پھر ہاتھ نہیں آتا لہذا جو گزرگیا اس کے بارے میں مت سوچو۔قضاپرراضی رہو جو روزی قسمت میں ہے اس پر شکر کرو ہر چیز تقدید پر مبنی ہے اس لئے غم اور ملال نہ کرو۔
اللہ کےذکرسے دلوں کو اطمینان ملتا ہے، اور دل کابوجھ کم ہوتا ہے،غیبوں کو جاننے والااللہ خوش ہوتا ہے اور پریشانیوں دور ہوتی ہیں۔
کسی کے شکریے کا انتظار نہ کرو،بس اللہ بے نیاز کاثواب کافی ہے، منکروں کے انکار اورحاسدوں کے حسد سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
اپنے آپ کو ،دل کو حسدسے پاک کرلو اور اس سے بغض وعداوت نکال پھینکو۔
کائنات ایک نظام پر مبنی ہے لہذا گھر،آفس ،لباس اور فرائض سب میں نظم وترتیب کاخیال رکھو۔
کھلی فضا کی طرف نکلو پُرفضا باغات کامشاہدہ کرو، اللہ کی مخلوق اور خالق کی ایجاد میں غور فکرکرو۔
پیدل چلو،ورزش کرو، سستی ،گمنامی ،نکمے پن کو چھوڑ دو۔
یاد رکھوکہ رب کریم کادامنِ عفو ودرگزدراز ہے وہ توبہ قبول کرتا ہے، بندوں کومعاف کرتاہے اور نیکیوں کو برائیوں میں بدل دیتا ہے۔
قرآن کے ساتھ زندگی گزارو ،اس کے حفظ، سننے ،غور وفکر کرنے اور تلاوت میں لگے رہو، حزن وملال کو دور کرنے والایہ سب سے بڑا مجرب نسخہ ہے۔
اللہ پر توکل کرو،معاملہ اس کے سپرد کرکے اس کے فیصلے پر راضی رہو،بس اس پر اعتماد ہے وہی تم کوکافی ہے۔
جو تم پرظلم کرے اس سے درگزر کرو جو تم سےلاتعلقی برتے اس سے تعلقات بڑھاؤ،جومحروم کرے اس کو دو،جوبرائی کرے اس سے بردباری برتو، تم کوخوشی ملے گی۔
لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ باربارپڑھو،ا س سے شرح صدر ہوتا ہے، مال کی اصلاح ہوتی ہے، بوجھ ہلکا اور اللہ راضی ہوتا ہے۔
استغفار زیادہ سے زیادہ کرو اس سےروزی میں کشادگی ،اولاد، علم نافع اور آسانی سےملتا ہے اور گناہ کم ہوتےہیں۔
اپنی صورت،صلاحیت، آمدنی اور اہل وعیال پر قناعت کرو تم کو راحت ملے گی ،سعادت حاصل ہوگی۔
جان لو کہ عسر کے ساتھ یسرہے اور تنگی کے بعد آسانی ہے ایک حالت ہمیشہ نہیں رہتی ،زمانہ الٹتاپلٹتا رہتا ہے۔
اچھا گمان رکھو، مایوس نہ ہوا کرو، اپنے رب سےحسن ظن رکھو اور ہرخیر اور اچھے کام کاانتظار کرو۔
مصیبت سے اللہ اور بندے کے درمیان قربت ہوتی ہے، تم دعا کرتے رہو، مصیبت کبروغرور اورفخر کو ختم کردیگی۔
جان لوکہ تکلیف میں تم اکیلے نہیں ہو غم وفکر سےکوئی بھی محفوظ نہیں شدید حالات سے ہر فرد وبشر کو پیش آتے ہیں۔
یقین کرو کہ دنیا ابتلاء وآزمائش ،رنج وغم اور کدرتوں کی جگہ ہے اس لئے اسے اسی طرح قبول کرو اور اللہ سےمدد مانگو۔
جان لو کہ شدائد اور تکالیف سے آنکھ، کان کھلتے ہیں ،د ل زندہ ہوتا ہے ، نفس خواہش سے رکتاہے، بندہ ذکر کرتا ہے اور ثواب کماتا ہے۔
حادثات کا انتظار نہ کرو ،مصیبت کی توقع نہ رکھو، افواہوں پر یقین نہ کرو، اور الزام تراشیوں پر کان نہ دھرو۔
جن چیزوں کا زیادہ خوف پھرتا ہے اکثر وہ نہیں ہوتی ،جن کا چرچازیادہ ہوتا ہے وہ پیش نہیں آتی، اللہ کافی ہے، وہ نگہبان ہے اور وہی مدد دیتا ہے۔
حاسدوں ،سخت دلوں اور چغل خوروں کے ساتھ نہ بیٹھوکیونکہ وہ روح کابخار ہیں ،کدورت پھیلاتے اور افسردہ کرتے پھرتے ہیں۔
تکبیرتحریمہ ہمیشہ تم کو ملے، مسجد زیادہ دیررکو، اور اپنے آپ کو اس کا عادی بناؤ، نماز کیلئے جلدی جاؤ اس سے تمہیں مسرت ملے گی۔
گناہوں سےدور رہوکیونکہ وہ افسردگی اور ملال خاطر کا سبب ہیں ان کی وجہ سے آفتیں ٹوٹتیں اور بحران آتے ہیں۔
لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ۰ۤۖ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِــمِيْنَ۸۷ۚۖ ](الانبیاء:۸۷)ہمیشہ پڑھا کرو کیونکہ تکلیف دور کرنے اور آزمائش ہٹانے میں اس کی بڑی تاثیر ہے۔
تمہارے بارے میں جو بھی بری بات کہی جائے کہنے والےکو ہی تکلیف دے گی تمہیں کچھ نہیں ہوگا ،اس سے ذرا بھی اثر نہ لینا۔
اگردشمن تمہیں برا بھلاکہتے ہیں ،حاسد سب وشتم اور گالی گلوچ کرتے ہیں تو اس سے تمہارا ہی وزن بڑھتا ہے اس کامعنی یہ ہے کہ تم اہمیت والے ہوگئے ہو تبھی تو تمہارا ذکرہورہاہے۔
عبادت میں اپنے اوپر تشدد نہ برتو،سنت پر عمل کرو اور اطاعت وعبادت میں غلو سے اجتناب کرکے میانہ روی اختیار کرو۔
توحید خالص اپناؤ اس سے شرح صدر حاصل ہوگا جتنی توحید خالص ہوگی اوراخلاص عمل ہوگا اتنی ہی سعادت ملے گی۔
قوی العمل اور ثابت النفس بنوتمہارے پاس ہمت وعزیمت ہو مشکلات،رکاوٹوں اور افواہوں سےتمہاری منزل کھوئی نہ ہو۔
سخاوت کروکیونکہ سخی کاسینہ کشادہ اور دل کھلا ہوتاہےجبکہ بخیل تنگ دل، تاریک خیال اور افسردہ ہوتاہے۔
لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملوان کی محبت مل جائیگی ،نرمی سے ان سے بات کرو اور تواضع سے پیش آؤ تو وہ تمہارا احترام کریں گے۔
برائی کا بدلہ اچھائی سے دو، لوگوں سے نرمی برتو ،عداوتیں ختم کرو، دشمنوں سے صلح کرو اور دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔
یہ جان لو کہ بھائی بیٹے ،بیوی بچے اور دوست واحباب جن سے بھی واسطہ پڑتاہے وہ عیب سے خالی نہیں اس لئے سب کو جیسے ہیں ویسے قبول کرنے کی عادت بناؤ۔
لوگوں اور جماعتوں پر جارحانہ حملے نہ کرو،زبان محفوظ رکھو، اچھی بات کرو،میٹھے الفاظ بولواور کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ۔
برداشت کرنےسے عیوب دفن ہوجاتے ہیں، بردباری سے خطاؤں کی پردہ پوشی ہوتی ہے ،سخاوت ایک دراز کپڑاہےجو نقائص اور عیوب کو چھپا لیتا ہے۔
ایک گھڑی تنہائی اختیار کرکے اپنے معاملات پرغور کرو اپنے نفس کا محاسبہ کرو آخرت کے بارے میں سوچو اورا پنی اصلاح کرو۔
رزق حلال کماؤ ،حرام سے بچو، لوگوں کےسامنے دست سوال نہ کرو، تجارت ،ملازمت سےبہترہے، اپنے مال کاروبار میں لگاؤ اور معیشت میں میانہ روی برتو۔
متوسط درجے کالباس پہنو۔نہ عیش پسندوں کا اور نہ محتاجوں کا لباس ،اپنے آپ کو ممتاز نہ کرو بلکہ عام لوگوں کی طرح رہو۔
غصہ نہ کرو،غصے سے مزاج خراب ہوتا ہے ،اخلاق بدلتے ہیں اور معاشرت میں برائی آتی ہے محبتیں اور رشتے کٹ جاتے ہیں۔
لوگوں کو پہلے سلام کرو، مسکراکرملو اور ان سے توجہ سے پیش آؤ تاکہ ان سے قریب ہوجاؤ اور دلوں میں ان کی محبت ہوجائے۔
گناہوں کومٹادینے والے کاموں کا اہتمام کرو،جیسے:نیک اعمال، مصیبتوں پرصبر، توبہ، مسلمانوں کی دعا،اللہ کی رحمت اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت۔
صدقہ دیاکرو،چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ،اس سے گناہ ختم ہوگا، دل کو خوشی ملے گی فکردور ہوگا اور رزق میں اضافہ ہوگا۔
اپنانمونہ اپنے امام محمدﷺ کوبناؤ وہی سعادت تک پہنچائیں گے وہی نجات دہندہ اور فلاح وکامیابی سے ہمکنار کرنے والے ہیں۔
غیراللہ سے تعلق اور اس کی محبت کوچھوڑ دوکیونکہ یہ دل کاعذاب اور روحانی بیماری ہے ،اللہ تعالیٰ کے ذکرواطاعت پر زیادہ دھیان دو۔
mجومصیبت لاحق ہوئی وہ چھوٹنے والی تھی جو نہیں پہنچی وہ لاحق ہونے والی نہ تھی، قلم سوکھ گیا اور اب فیـصلے پرراضی ہونے کے سوا کوئی چارا نہیں۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اس کی مدد نہ بھولو،مدد اسی حساب سے ہوتی ہے جس حساب سے بوجھ ہوتاہے۔
مشکلات عبور کرنے کیلئے نماز بہترین مددگار ہے وہ نفس کو بلند آفاق میں لے جاتی ہے اور روح کو نوروکامیابی کی فضا میںپہنچادیتی ہے۔
میاں بیوی میں ایک ناراض ہو تو دوسرا چپ رہےدونوں ایک دوسرے کی کمی کوبرداشت کریں، کیونکہ انسان غلطی سے پاک نہیں ہوسکتا۔
جس کے پاس بیوی، گھر،صحت اور مناسب مال ہو تواس کے پاس اچھی زندگی کا سامان ہوگیا، اسے اللہ کاشکر ادا کرنا اور قناعت اختیار کرنی چاہئے۔
اللہ کو وہ بندے زیادہ محبوب ہیں جو زیادہ خیر کے کام کرتے ہیں لوگوں کے ساتھ زیادہ بھلائی کرتے اور زیادہ شکرگزار ہوتے ہیں۔
اگر تم اپنی موجودہ حالت سے خوش نہیں تو اس خوشی کے انتظار میں نہ رہو جو افق سے اترے گی یاآسمان سے نازل ہوگی۔
جوذات کل تمہارے کام آئی تھی وہ آج بھی کام آنی ہے کل بھی آئے گی اس لئے اس پہ بھروسہ کرو، جب وہ تمہارے ساتھ ہے تو پھر خوف کس کا ہے اور اگر وہ تمہارے خلاف ہوجائے تو کس سے امید کرسکتے ہو۔
اپنے دنیوی مقاصد کی ایک حد مقرر کرو جن کی طرف تم رجوع کرو ،ورنہ دل منتشر،سینہ تنگ، حالات برے اور زندگی افسردہ ہوجائیگی۔
دن کو ضائع کرنے والاوہ ہے جو اسے بغیر حق اداکئے بغیر کسی فرض کے نبھائے ،بغیر کسی مقام کوپائے، بغیر خوشی حاصل کیے، بغیر علم سیکھے ،بغیر کسی صلہ رحمی کے اور بغیر کسی خیر کوانجام دیئے گزار دے۔
جوتقویٰ سے آراستہ ہوگا جس کی فکر ایمانی اور اخلاق خیرپسند ہوگا اسے اللہ کی اور لوگوں کی بھی محبت ملے گی۔
کمی ہوجائے تو دوسروں کے بجائے اپنےآپ کو ملامت کرو، دوسروں کوچھوڑدوکیونکہ تمہارے اپنے عیوب اور کمیاں بھی اتنی ہیں کہ ان کی اصلاح میں وقت لگے گا ۔
اللہ سے عفو ودرگزر طلب کرواگر یہ دونوں مل جائیں تو گویا ہر چیز تم کومل گئی،ہر برائی سے تم بچ گئے اور ہر مسرت سے ہمکنار ہوگئے۔
ایک روٹی ،سات کھجوریں ،پانی کا ایک پیالہ کمرے میں ایک چٹائی اور قرآن مجیدہوں تو دنیا کو سات سلام کہو۔
خوش بختی کاراز قربانی، انکارذات، سخاوت،کسی کواذیت نہ دینا اور انانیت وخودپسندی سےد وررہنے میں ہے۔
یہ نہ سمجھو کہ تم سب کچھ کرسکتے ہو، تم بہت اچھا ساکام کرسکتے ہو لیکن ہرصلاحیت رکھنا اور ہرکام کرنا ممکن نہیں۔
درگزر انتقام سے زیادہ لذیذ،کام کاری سے مزے دار قناعت مال سے زیادہ بڑی اورصحت سے ثروت سے کہیں بہتر ہے۔
غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘(التوبہ:۴۰)وہ ہمیں دیکھ رہا ہے، ہماری سنتا ہے ،دشمن پر ہماری مدد کرتا ہے،مشکلات آسان کرتا ہے اور غمناک چیزیں دور کرتاہے۔
’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘‘(یوسف:۸۷) کہ اس کی کشادگی قریب ہے، اس کا لطف جلد ہی آئیگا، اس کی طرف سےآسانی ملنے والی ہے، اس کاکرم وسیع اور فض عام ہے۔
’’اللہ ہی پر توکل کرو‘‘(المائدہ۲۳) معاملات اس کے حوالے کردو،اپناحال اس سے بیان کرو، اس کی کفایت اور اس کی رعایت پرمطمئن ہوجاؤ۔
جب دل خوبصورت ہوتو وہ نالے کودریا، رات کو دوست اورجھونپڑی کو بھی محل سمجھے۔
تمہاری روزی تمہیں زیادہ جانتی ہے تم اسے زیادہ نہیں جانتے وہ سائے کی طرح اِدھراُدھر تمہارے ساتھ دوڑتی ہے تم ہرگز نہیں مروگے جب تک قسمت لکھی روزی نہ پالو۔
سوچنے سے پہلے لوگوں کومعاف کردو، اپنے دل کو عفو سے سات بار دھولو، آٹھویں بار میں درگزر سے اسے صاف کردوتو ایمان کی مٹھاس مل جائیگی۔
تین ڈاکٹروں کو لازم پکڑلو:خوشی،راحت،اور رحمیت۔ تین دشمنوں سے بچو:نحوست، وہم اور ناامیدی۔
ہمیشہ استغفار کروکیونکہ رات اور دن میں اللہ کی حمت کے جھونکے چلتے ہیں ممکن ہے ان میں سے کوئی جھونکاتمہیں بھی پہنچ جائے اور قیامت کے دن تمہاری بگڑی بن جائے
اگرتمہیں کوئی گالی دیتا ہے تورنجیدہ مت ہو لوگوں نے تو رب تعالیٰ کی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔ جس نے انہیں وجود بخشا اس کے وجود میں انہوں نے شک کیا،جب لوگ بھوکے ہوتے ہیں کھلاتا وہ، شکر کسی اور کاکرتے ہیں۔وہ انہیں خوف سے نجات دیتا ہے یہ اس سے جنگ کرتےہیں۔
تمہارے پاس دوآنکھیں ،دوکان،دوہاتھ ،دوٹانگیں او ر ایک زبان ہے ایمان ،قرآن اور امان ہے، پھر اے انسان شکرکیوں نہیں کرتے اپنے رب کی نعمتیں تو کب تک جھٹلائیگا۔
لوگوں سے اپنے احترام کامطالبہ نہ کرو جب تک تم ان کااحترام نہ کرو۔ اپنی ناکامی پر ان کو دوش نہ دو ،اپنے آپ کو دو ۔ان سے اکرام کرانا ہے تو خود اپنااکرام کرو۔
اے ہمارے رب!ہمیں دنیاوآخرت میں خیرعطافرما،جہنم کی آگ سے بچالے،ہم تجھ سے درگزر عافیت کے سوالی ہیں۔ اے اللہ! ہم تیرے رحم وکرم کے طلبگار ہیں، ہمیں صابر ،شاکربنا تقویٰ اور ہدایت عطا فرما،ہمارے تمام معاملات کوسنوار دے ،ہمیں بخش دے۔آمین
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
ماسکو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نجی طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جوہری معاہدے کے بغیر بھی ختم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ کئی ہفتوں سے اس بات کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو ایران کے ساتھ جنگ میں فتح کا اعلان کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے سامنے نجی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بغیر بھی کسی سمجھوتے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔
امریکی ایوانِ صدر کے ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کی اب توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگر ایران بحری جہازوں پر حملے جاری رکھتا ہے تو صدر کے پاس فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔
امریکی حکام نے مزید بتایا کہ صدر نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے نجی گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران کے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ امریکہ 2025 تک ایران کی 3 اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکا تھا۔ حالیہ ملاقاتوں میں ٹرمپ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران پر امریکی حملوں کا خطرہ ایک قابلِ اعتماد بازدار قوت کے طور پر کام کرے گا۔
حکام کے مطابق اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر زیادہ آمادہ ہوں گے۔ توقع ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو امریکی صدر ایرانی بندرگاہوں پر عائد فوجی ناکہ بندی بھی ختم کر دیں گے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے اس لیے روک دیے ہیں کیونکہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سمجھوتے شامل ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مقررہ بحری راستے کی جغرافیائی تفصیلات پر اتفاق کر لیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
