تازہ ترین
خوش رہنے کے قاعدے
لطاف جمیل ندوی
لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا]مؤلف ڈاکٹر عائض القرضی
دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔ انسان کو اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہے اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔
لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ زیر نظر کتاب ’’غم نہ کریں‘‘ڈاکٹرعائض القرنی کی مقبول ترین عربی کتاب لاتحزن کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب کے سے کچھ باتیں آپ کی نطر
قاری اگر رنجیدہ ہے ،پریشان،بےسکون،طبیعت میں بگاڑ ،مزا ج میں تنگی تو اس کتاب کے مطالعے سے طبیعت میں سکون ،سوچوں کو صحیح رُخ مل جاتاہے، دراصل یہ کتاب ان لوگوں کے لئے انتہائی مفید ہے جو کم علم ہونے کے باعث قرآن وحدیث کاصحیح فہم نہیں رکھتے، معنی نہیں سمجھتے اور غم ،پریشانی ،مصیبتوں کے اوقات میں شرعی احکام سے دور ہوجاتےہیں، اللہ کی حکمت اور اس کی معرفت کو جان نہیں پاتے، کتاب کے اختتامی صفحات سے چند باتیں آپ کے سامنے پیش کی ہیں ایمان سے رنج وغم اور فکر یں ختم ہوجاتی ہیں وہ اہل ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور عبادت گذاروں کیلئے تسلی کاباعث ہے جوگزرا سو گزرا۔
وقت پھر ہاتھ نہیں آتا لہذا جو گزرگیا اس کے بارے میں مت سوچو۔قضاپرراضی رہو جو روزی قسمت میں ہے اس پر شکر کرو ہر چیز تقدید پر مبنی ہے اس لئے غم اور ملال نہ کرو۔
اللہ کےذکرسے دلوں کو اطمینان ملتا ہے، اور دل کابوجھ کم ہوتا ہے،غیبوں کو جاننے والااللہ خوش ہوتا ہے اور پریشانیوں دور ہوتی ہیں۔
کسی کے شکریے کا انتظار نہ کرو،بس اللہ بے نیاز کاثواب کافی ہے، منکروں کے انکار اورحاسدوں کے حسد سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
اپنے آپ کو ،دل کو حسدسے پاک کرلو اور اس سے بغض وعداوت نکال پھینکو۔
کائنات ایک نظام پر مبنی ہے لہذا گھر،آفس ،لباس اور فرائض سب میں نظم وترتیب کاخیال رکھو۔
کھلی فضا کی طرف نکلو پُرفضا باغات کامشاہدہ کرو، اللہ کی مخلوق اور خالق کی ایجاد میں غور فکرکرو۔
پیدل چلو،ورزش کرو، سستی ،گمنامی ،نکمے پن کو چھوڑ دو۔
یاد رکھوکہ رب کریم کادامنِ عفو ودرگزدراز ہے وہ توبہ قبول کرتا ہے، بندوں کومعاف کرتاہے اور نیکیوں کو برائیوں میں بدل دیتا ہے۔
قرآن کے ساتھ زندگی گزارو ،اس کے حفظ، سننے ،غور وفکر کرنے اور تلاوت میں لگے رہو، حزن وملال کو دور کرنے والایہ سب سے بڑا مجرب نسخہ ہے۔
اللہ پر توکل کرو،معاملہ اس کے سپرد کرکے اس کے فیصلے پر راضی رہو،بس اس پر اعتماد ہے وہی تم کوکافی ہے۔
جو تم پرظلم کرے اس سے درگزر کرو جو تم سےلاتعلقی برتے اس سے تعلقات بڑھاؤ،جومحروم کرے اس کو دو،جوبرائی کرے اس سے بردباری برتو، تم کوخوشی ملے گی۔
لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ باربارپڑھو،ا س سے شرح صدر ہوتا ہے، مال کی اصلاح ہوتی ہے، بوجھ ہلکا اور اللہ راضی ہوتا ہے۔
استغفار زیادہ سے زیادہ کرو اس سےروزی میں کشادگی ،اولاد، علم نافع اور آسانی سےملتا ہے اور گناہ کم ہوتےہیں۔
اپنی صورت،صلاحیت، آمدنی اور اہل وعیال پر قناعت کرو تم کو راحت ملے گی ،سعادت حاصل ہوگی۔
جان لو کہ عسر کے ساتھ یسرہے اور تنگی کے بعد آسانی ہے ایک حالت ہمیشہ نہیں رہتی ،زمانہ الٹتاپلٹتا رہتا ہے۔
اچھا گمان رکھو، مایوس نہ ہوا کرو، اپنے رب سےحسن ظن رکھو اور ہرخیر اور اچھے کام کاانتظار کرو۔
مصیبت سے اللہ اور بندے کے درمیان قربت ہوتی ہے، تم دعا کرتے رہو، مصیبت کبروغرور اورفخر کو ختم کردیگی۔
جان لوکہ تکلیف میں تم اکیلے نہیں ہو غم وفکر سےکوئی بھی محفوظ نہیں شدید حالات سے ہر فرد وبشر کو پیش آتے ہیں۔
یقین کرو کہ دنیا ابتلاء وآزمائش ،رنج وغم اور کدرتوں کی جگہ ہے اس لئے اسے اسی طرح قبول کرو اور اللہ سےمدد مانگو۔
جان لو کہ شدائد اور تکالیف سے آنکھ، کان کھلتے ہیں ،د ل زندہ ہوتا ہے ، نفس خواہش سے رکتاہے، بندہ ذکر کرتا ہے اور ثواب کماتا ہے۔
حادثات کا انتظار نہ کرو ،مصیبت کی توقع نہ رکھو، افواہوں پر یقین نہ کرو، اور الزام تراشیوں پر کان نہ دھرو۔
جن چیزوں کا زیادہ خوف پھرتا ہے اکثر وہ نہیں ہوتی ،جن کا چرچازیادہ ہوتا ہے وہ پیش نہیں آتی، اللہ کافی ہے، وہ نگہبان ہے اور وہی مدد دیتا ہے۔
حاسدوں ،سخت دلوں اور چغل خوروں کے ساتھ نہ بیٹھوکیونکہ وہ روح کابخار ہیں ،کدورت پھیلاتے اور افسردہ کرتے پھرتے ہیں۔
تکبیرتحریمہ ہمیشہ تم کو ملے، مسجد زیادہ دیررکو، اور اپنے آپ کو اس کا عادی بناؤ، نماز کیلئے جلدی جاؤ اس سے تمہیں مسرت ملے گی۔
گناہوں سےدور رہوکیونکہ وہ افسردگی اور ملال خاطر کا سبب ہیں ان کی وجہ سے آفتیں ٹوٹتیں اور بحران آتے ہیں۔
لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ۰ۤۖ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِــمِيْنَ۸۷ۚۖ ](الانبیاء:۸۷)ہمیشہ پڑھا کرو کیونکہ تکلیف دور کرنے اور آزمائش ہٹانے میں اس کی بڑی تاثیر ہے۔
تمہارے بارے میں جو بھی بری بات کہی جائے کہنے والےکو ہی تکلیف دے گی تمہیں کچھ نہیں ہوگا ،اس سے ذرا بھی اثر نہ لینا۔
اگردشمن تمہیں برا بھلاکہتے ہیں ،حاسد سب وشتم اور گالی گلوچ کرتے ہیں تو اس سے تمہارا ہی وزن بڑھتا ہے اس کامعنی یہ ہے کہ تم اہمیت والے ہوگئے ہو تبھی تو تمہارا ذکرہورہاہے۔
عبادت میں اپنے اوپر تشدد نہ برتو،سنت پر عمل کرو اور اطاعت وعبادت میں غلو سے اجتناب کرکے میانہ روی اختیار کرو۔
توحید خالص اپناؤ اس سے شرح صدر حاصل ہوگا جتنی توحید خالص ہوگی اوراخلاص عمل ہوگا اتنی ہی سعادت ملے گی۔
قوی العمل اور ثابت النفس بنوتمہارے پاس ہمت وعزیمت ہو مشکلات،رکاوٹوں اور افواہوں سےتمہاری منزل کھوئی نہ ہو۔
سخاوت کروکیونکہ سخی کاسینہ کشادہ اور دل کھلا ہوتاہےجبکہ بخیل تنگ دل، تاریک خیال اور افسردہ ہوتاہے۔
لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملوان کی محبت مل جائیگی ،نرمی سے ان سے بات کرو اور تواضع سے پیش آؤ تو وہ تمہارا احترام کریں گے۔
برائی کا بدلہ اچھائی سے دو، لوگوں سے نرمی برتو ،عداوتیں ختم کرو، دشمنوں سے صلح کرو اور دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔
یہ جان لو کہ بھائی بیٹے ،بیوی بچے اور دوست واحباب جن سے بھی واسطہ پڑتاہے وہ عیب سے خالی نہیں اس لئے سب کو جیسے ہیں ویسے قبول کرنے کی عادت بناؤ۔
لوگوں اور جماعتوں پر جارحانہ حملے نہ کرو،زبان محفوظ رکھو، اچھی بات کرو،میٹھے الفاظ بولواور کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ۔
برداشت کرنےسے عیوب دفن ہوجاتے ہیں، بردباری سے خطاؤں کی پردہ پوشی ہوتی ہے ،سخاوت ایک دراز کپڑاہےجو نقائص اور عیوب کو چھپا لیتا ہے۔
ایک گھڑی تنہائی اختیار کرکے اپنے معاملات پرغور کرو اپنے نفس کا محاسبہ کرو آخرت کے بارے میں سوچو اورا پنی اصلاح کرو۔
رزق حلال کماؤ ،حرام سے بچو، لوگوں کےسامنے دست سوال نہ کرو، تجارت ،ملازمت سےبہترہے، اپنے مال کاروبار میں لگاؤ اور معیشت میں میانہ روی برتو۔
متوسط درجے کالباس پہنو۔نہ عیش پسندوں کا اور نہ محتاجوں کا لباس ،اپنے آپ کو ممتاز نہ کرو بلکہ عام لوگوں کی طرح رہو۔
غصہ نہ کرو،غصے سے مزاج خراب ہوتا ہے ،اخلاق بدلتے ہیں اور معاشرت میں برائی آتی ہے محبتیں اور رشتے کٹ جاتے ہیں۔
لوگوں کو پہلے سلام کرو، مسکراکرملو اور ان سے توجہ سے پیش آؤ تاکہ ان سے قریب ہوجاؤ اور دلوں میں ان کی محبت ہوجائے۔
گناہوں کومٹادینے والے کاموں کا اہتمام کرو،جیسے:نیک اعمال، مصیبتوں پرصبر، توبہ، مسلمانوں کی دعا،اللہ کی رحمت اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت۔
صدقہ دیاکرو،چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ،اس سے گناہ ختم ہوگا، دل کو خوشی ملے گی فکردور ہوگا اور رزق میں اضافہ ہوگا۔
اپنانمونہ اپنے امام محمدﷺ کوبناؤ وہی سعادت تک پہنچائیں گے وہی نجات دہندہ اور فلاح وکامیابی سے ہمکنار کرنے والے ہیں۔
غیراللہ سے تعلق اور اس کی محبت کوچھوڑ دوکیونکہ یہ دل کاعذاب اور روحانی بیماری ہے ،اللہ تعالیٰ کے ذکرواطاعت پر زیادہ دھیان دو۔
mجومصیبت لاحق ہوئی وہ چھوٹنے والی تھی جو نہیں پہنچی وہ لاحق ہونے والی نہ تھی، قلم سوکھ گیا اور اب فیـصلے پرراضی ہونے کے سوا کوئی چارا نہیں۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اس کی مدد نہ بھولو،مدد اسی حساب سے ہوتی ہے جس حساب سے بوجھ ہوتاہے۔
مشکلات عبور کرنے کیلئے نماز بہترین مددگار ہے وہ نفس کو بلند آفاق میں لے جاتی ہے اور روح کو نوروکامیابی کی فضا میںپہنچادیتی ہے۔
میاں بیوی میں ایک ناراض ہو تو دوسرا چپ رہےدونوں ایک دوسرے کی کمی کوبرداشت کریں، کیونکہ انسان غلطی سے پاک نہیں ہوسکتا۔
جس کے پاس بیوی، گھر،صحت اور مناسب مال ہو تواس کے پاس اچھی زندگی کا سامان ہوگیا، اسے اللہ کاشکر ادا کرنا اور قناعت اختیار کرنی چاہئے۔
اللہ کو وہ بندے زیادہ محبوب ہیں جو زیادہ خیر کے کام کرتے ہیں لوگوں کے ساتھ زیادہ بھلائی کرتے اور زیادہ شکرگزار ہوتے ہیں۔
اگر تم اپنی موجودہ حالت سے خوش نہیں تو اس خوشی کے انتظار میں نہ رہو جو افق سے اترے گی یاآسمان سے نازل ہوگی۔
جوذات کل تمہارے کام آئی تھی وہ آج بھی کام آنی ہے کل بھی آئے گی اس لئے اس پہ بھروسہ کرو، جب وہ تمہارے ساتھ ہے تو پھر خوف کس کا ہے اور اگر وہ تمہارے خلاف ہوجائے تو کس سے امید کرسکتے ہو۔
اپنے دنیوی مقاصد کی ایک حد مقرر کرو جن کی طرف تم رجوع کرو ،ورنہ دل منتشر،سینہ تنگ، حالات برے اور زندگی افسردہ ہوجائیگی۔
دن کو ضائع کرنے والاوہ ہے جو اسے بغیر حق اداکئے بغیر کسی فرض کے نبھائے ،بغیر کسی مقام کوپائے، بغیر خوشی حاصل کیے، بغیر علم سیکھے ،بغیر کسی صلہ رحمی کے اور بغیر کسی خیر کوانجام دیئے گزار دے۔
جوتقویٰ سے آراستہ ہوگا جس کی فکر ایمانی اور اخلاق خیرپسند ہوگا اسے اللہ کی اور لوگوں کی بھی محبت ملے گی۔
کمی ہوجائے تو دوسروں کے بجائے اپنےآپ کو ملامت کرو، دوسروں کوچھوڑدوکیونکہ تمہارے اپنے عیوب اور کمیاں بھی اتنی ہیں کہ ان کی اصلاح میں وقت لگے گا ۔
اللہ سے عفو ودرگزر طلب کرواگر یہ دونوں مل جائیں تو گویا ہر چیز تم کومل گئی،ہر برائی سے تم بچ گئے اور ہر مسرت سے ہمکنار ہوگئے۔
ایک روٹی ،سات کھجوریں ،پانی کا ایک پیالہ کمرے میں ایک چٹائی اور قرآن مجیدہوں تو دنیا کو سات سلام کہو۔
خوش بختی کاراز قربانی، انکارذات، سخاوت،کسی کواذیت نہ دینا اور انانیت وخودپسندی سےد وررہنے میں ہے۔
یہ نہ سمجھو کہ تم سب کچھ کرسکتے ہو، تم بہت اچھا ساکام کرسکتے ہو لیکن ہرصلاحیت رکھنا اور ہرکام کرنا ممکن نہیں۔
درگزر انتقام سے زیادہ لذیذ،کام کاری سے مزے دار قناعت مال سے زیادہ بڑی اورصحت سے ثروت سے کہیں بہتر ہے۔
غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘(التوبہ:۴۰)وہ ہمیں دیکھ رہا ہے، ہماری سنتا ہے ،دشمن پر ہماری مدد کرتا ہے،مشکلات آسان کرتا ہے اور غمناک چیزیں دور کرتاہے۔
’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘‘(یوسف:۸۷) کہ اس کی کشادگی قریب ہے، اس کا لطف جلد ہی آئیگا، اس کی طرف سےآسانی ملنے والی ہے، اس کاکرم وسیع اور فض عام ہے۔
’’اللہ ہی پر توکل کرو‘‘(المائدہ۲۳) معاملات اس کے حوالے کردو،اپناحال اس سے بیان کرو، اس کی کفایت اور اس کی رعایت پرمطمئن ہوجاؤ۔
جب دل خوبصورت ہوتو وہ نالے کودریا، رات کو دوست اورجھونپڑی کو بھی محل سمجھے۔
تمہاری روزی تمہیں زیادہ جانتی ہے تم اسے زیادہ نہیں جانتے وہ سائے کی طرح اِدھراُدھر تمہارے ساتھ دوڑتی ہے تم ہرگز نہیں مروگے جب تک قسمت لکھی روزی نہ پالو۔
سوچنے سے پہلے لوگوں کومعاف کردو، اپنے دل کو عفو سے سات بار دھولو، آٹھویں بار میں درگزر سے اسے صاف کردوتو ایمان کی مٹھاس مل جائیگی۔
تین ڈاکٹروں کو لازم پکڑلو:خوشی،راحت،اور رحمیت۔ تین دشمنوں سے بچو:نحوست، وہم اور ناامیدی۔
ہمیشہ استغفار کروکیونکہ رات اور دن میں اللہ کی حمت کے جھونکے چلتے ہیں ممکن ہے ان میں سے کوئی جھونکاتمہیں بھی پہنچ جائے اور قیامت کے دن تمہاری بگڑی بن جائے
اگرتمہیں کوئی گالی دیتا ہے تورنجیدہ مت ہو لوگوں نے تو رب تعالیٰ کی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔ جس نے انہیں وجود بخشا اس کے وجود میں انہوں نے شک کیا،جب لوگ بھوکے ہوتے ہیں کھلاتا وہ، شکر کسی اور کاکرتے ہیں۔وہ انہیں خوف سے نجات دیتا ہے یہ اس سے جنگ کرتےہیں۔
تمہارے پاس دوآنکھیں ،دوکان،دوہاتھ ،دوٹانگیں او ر ایک زبان ہے ایمان ،قرآن اور امان ہے، پھر اے انسان شکرکیوں نہیں کرتے اپنے رب کی نعمتیں تو کب تک جھٹلائیگا۔
لوگوں سے اپنے احترام کامطالبہ نہ کرو جب تک تم ان کااحترام نہ کرو۔ اپنی ناکامی پر ان کو دوش نہ دو ،اپنے آپ کو دو ۔ان سے اکرام کرانا ہے تو خود اپنااکرام کرو۔
اے ہمارے رب!ہمیں دنیاوآخرت میں خیرعطافرما،جہنم کی آگ سے بچالے،ہم تجھ سے درگزر عافیت کے سوالی ہیں۔ اے اللہ! ہم تیرے رحم وکرم کے طلبگار ہیں، ہمیں صابر ،شاکربنا تقویٰ اور ہدایت عطا فرما،ہمارے تمام معاملات کوسنوار دے ،ہمیں بخش دے۔آمین
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
