جموں و کشمیر
دوسرے مرحلے میں 25.78 لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان 239 امید واروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے
سری نگرقانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 25 ستمبر کو 239 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 25.78 لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان کریں گے ۔
قانون ساز اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جموں و کشمیر کے چھ اَضلاع کے 26 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ان میں صوبہ کشمیر میں گاندربل، سری نگر اور بڈگام اور صوبہ جموں میں ریاسی، راجوری اور پونچھ شامل ہیں۔
صوبہ کشمیر میں 15 اسمبلی حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں جن میں 17۔کنگن (ایس ٹی)، 18۔ گاندربل، 19۔ حضرت بل، 20۔ خانیار، 21۔ حبہ کدل ، 22۔ لال چوک 23۔چھانہ پورہ، 24۔ زڈی بل، 25 ۔عید گاہ، 26۔ سینٹرل شالہ ٹینگ، 27۔ بڈگام، 28۔ بیروہ، 29۔ خان صاحب، 30۔ چرارِ شریف،31۔ چاڈورہ شامل ہیں جبکہ اِس مرحلے میں صوبہ جموں میں 11 اسمبلی حلقے جن میں 56 ۔گلاب گڑھ (ایس ٹی)، 57۔ ریاسی، 58۔ شری ماتا ویشنو دیوی، 83۔ کالاکوٹ۔ سندربنی، 84۔ نوشہرہ، 85۔ راجوری (ایس ٹی)، 86۔بدھل (ایس ٹی)، 87۔ تھانہ منڈی (ایس ٹی)، 88۔سرنکوٹ (ایس ٹی)، 89 ۔پونچھ حویلی اور 90 ۔مینڈھر میں بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔
اس مرحلے میں تازہ ترین انتخابی فہرستوں کے مطابق 25,78,099 لاکھ رائے دہندگان اپنا حق رائے دہی کااستعمال کرنے کے اہل ہیں جن میں 13,12,730 لاکھ مرد رائے دہندگان، 12,65,316 لاکھ خواتین ووٹرز اور 53 خواجہ سرا ووٹرزشامل ہیں۔
جمہوریت کو مضبوط بنانے میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے رول کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 18 سے 19 برس کی عمر کے 1,20,612 لاکھ رائے دہندگان ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ان میں سے 11,294 مرد اور 10,065 خواتین ہیں جوپہلی بار اپنا حق دہی کا استعمال کریں گے۔
اس مرحلے میں 19,201 جسمانی طور خاص افراد (پی ڈبلیو ڈی ) اور 85 برس سے زیادہ عمر کے 20,880رائے دہندگان بھی حصہ لیں گے۔اس کے ساتھ ہی ضلع سری نگر میں 93، ضلع بڈگام میں 46، راجوری ضلع میں 34، پونچھ ضلع میں 25، گاندربل ضلع میں 21 اور ریاسی ضلع میں 20 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
ضلع ریاسی میں اسمبلی حلقہ گلاب گڈھ (ایس ٹی) میں 6 اُمیدوار، حلقہ انتخاب ریاسی میں 7 اُمیدوار جبکہ شری ماتا ویشنو دیوی اسمبلی حلقہ میں 7 اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اسی طرح راجوری ضلع میں اسمبلی حلقہ کالاکوٹ ۔سندربنی میں 11 اُمیدوار،حلقہ اِنتخاب نوشہرہ میں 5 اُمیدوار،اسمبلی حلقہ راجوری (ایس ٹی) میں 8 اُمیدوار،حلقہ اِنتخاب بدھل (ایس ٹی) میں 4 اُمیدوار جبکہ اسمبلی حلقہ تھانہ منڈی (ایس ٹی) میں 6 اُمیدوارمیدان میں ہیں۔
ضلع پونچھ میں اسمبلی حلقہ سرنکوٹ (ایس ٹی) میں 8 امیدوار ،حلقہ انتخاب پونچھ حویلی میں 8 اُمیدوار جبکہ اسمبلی حلقہ مینڈھر (ایس ٹی) میں 9 اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اسی طرح گاندربل ضلع میںحلقہ اِنتخاب کنگن (ایس ٹی) میں 6 اُمیدوار میدان میں ہیں جبکہ اسمبلی حلقہ گاندربل میں 15 اُمیدوار الیکشن لڑرہے ہیں۔
ضلع سری نگر میں حلقہ انتخاب حضرت بل میں 13 امیدوار، اسمبلی حلقہ خانیارمیں 10 اُمیدوار،حلقہ انتخاب حبہ کدل میں 16 اُمیدوار، اسمبلی حلقہ 22 ۔لال چوک میں 10 اُمیدوار،حلقہ انتخاب 23۔چھانہ پورہ میں 8 اُمیدوار، اسمبلی حلقہ 24۔زڈی بل میں 10 اُمیدوار، حلقہ انتخاب25۔ عید گاہ میں 13 اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ حلقہ انتخاب26۔ سینٹرل شالہ ٹینگ میں 13 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
ضلع بڈگام میں اسمبلی حلقہ 27۔بڈگام میں 8 اُمیدوار ،اسمبلی حلقہ 28۔بیروہ میں 12 اُمیدوار،اسمبلی حلقہ 29۔خان صاحب میں 10 اُمیدوار، اسمبلی حلقہ30۔چرارِ شریف میں 10 اُمیدوار جبکہ اسمبلی حلقہ 31۔چاڈورہ میں 6 اُمیدوار میدان میں ہیں۔
ضلع سری نگر میں کل7,76,674 رجسٹرڈ رائے دہندگان ہیں جن میں 3,87,722 مرد، 3,88,922 خواتین اور 30 خواجہ سرا شامل ہیں۔
ان حلقوں میں مجموعی طور پر 932 پولنگ سٹیشن ز قائم کئے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر رجسٹرڈ ووٹر کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا موقعہ ملے۔
راجوری ضلع پانچ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جس میں 4,92,008 رائے دہندگان ہیں جن میں 2,56,215 مرد، 2,35,786 خواتین اور 7 خواجہ سرا رائے دہندگان شامل ہیں۔ ضلع بھر میں 745 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔
ضلع بڈگام میں پانچ اسمبلی حلقوں میں کُل 5,11,864رائے دہندگان رجسٹرڈ ہیں جن میں 2,59,688 مرد ووٹر ، 2,52,163 خواتین ووٹر اور 13 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔
ضلع بھر میں کل 639 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر رجسٹرڈ رائے دہندگان کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا موقعہ ملے۔
اسی طرح ضلع پونچھ کو تین اسمبلی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں کل 3,52,330رجسٹرڈ رائے دہندگان ہیں جن میں 1,80,584مرد ، 1,71,746خواتین شامل ہیں اوریہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع میں تیسری جنس کے زمرے کے تحت کوئی بھی ووٹر رجسٹرڈ نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ووٹنگ کے عمل کو آسان بنانے کے لئے ضلع میں 483 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں۔
ریاسی ضلع تین اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جس میں کل 2,37,205 رائے دہندگان رجسٹرڈ ہیں جن میں 1,24,359 مرد، 1,12,843 خواتین اور 3خواجہ سرا شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ضلع بھر میں 436 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں۔
گاندربل ضلع دو اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جہاں 2,08,018 رجسٹرڈ ووٹرز ہیںجن میں 1,04,162 مرد، 1,03,856 خواتین اور کوئی خواجہ سرا ووٹر رجسٹرڈ نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف اِنتخابات کے لئے 267 پولنگ سٹیشنوں کا ایک جامع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے آسان اور بغیر پریشانی انتخابی شرکت کے لئے رائے دہندگان کی سہولیت کے لئے 26 اسمبلی حلقوں میںصد فیصد ویب کاسٹنگ کے ساتھ 3,502 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں جن میں 1056 شہری اور 2446 دیہی پولنگ سٹیشن شامل ہیں۔
رائے دہندگان کی شرکت کو بڑھانے کے لئے اس مرحلے میں 157 خصوصی پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جن میں 26 پولنگ بوتھ برائے خواتین نہیں گلابی رنگ کے پولنگ سٹیشن کہا جاتا ہے ، 26 پولنگ سٹیشن بالخصوص جسمانی طور خاص افراد اور 26 پولنگ سٹیشن نوجوانوں کے کے ذریعے چلائے جائیں گے جبکہ 31بوڈر پولنگ سٹیشن ،26گرین پولنگ سٹیشن ،22منفرد پولنگ سٹیشن شامل ہیں ۔ووٹنگ صبح 7بجے شروع ہوگی اور شام 7 بجے اِختتام پذیر ہوگی۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
بی جے پی نے عمر کی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خودمختاری قرارداد کے حوالے پر سوال اٹھایا
سری نگر، جموں و کشمیر کے حزب اختلاف کے رہنما سنیل شرما نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے سابق اسمبلی کی 2000 کی خودمختاری کی قرارداد کے حوالے کو اس میں شامل کیے جانے پر سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے جب خودمختاری کی قرارداد منظور کی گئی تھی، اسی وقت اسے مسترد کر دیا تھا اور سوال کیا کہ موجودہ ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد میں اسی قرارداد کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے۔
سنیل شرما نے جموں و کشمیر اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں سے کہا، ’’یہ مکمل طور پر متنازع اور ناقابل قبول قرارداد ہے، جسے بی جے پی کبھی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد پیش کی۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں، جن میں 2000 کی جموں و کشمیر خودمختاری کی قرارداد بھی شامل ہے، کے حوالے نے ایوان میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ بی جے پی کے ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جس کے بعد ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔
حزب اختلاف کے رہنما نے کانگریس کی قیادت، بشمول راہل گاندھی اور جموں و کشمیر کانگریس کی قیادت سے ’’آرٹیکل 370 اور خودمختاری کے حوالوں‘‘ پر ان کے موقف کی وضاحت بھی طلب کی۔
شرما نے سوال کیا، ’’کانگریس کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ کیا وہ آرٹیکل 370 اور خودمختاری کی قرارداد کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ؟‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو نشانہ بناتے ہوئے شرما نے یہ بھی سوال کیا کہ جب خودمختاری کی قرارداد مسترد کی گئی تھی تو اس وقت سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے ساتھ ان کا کیا تعلق تھا۔
انہوں نے سوال کیا، ’’جب بی جے پی نے اس قرارداد کو مسترد کر کے پھاڑ دیا تھا، تو کیا عمر عبداللہ اس وقت این ڈی اے حکومت میں وزیر نہیں تھے؟ کیا وہ این ڈی اے کے اتحادی کے طور پر برقرار نہیں رہے تھے؟‘‘
شرما نے الزام عائد کیا کہ عمر عبداللہ حکومت حکمرانی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے کو طول دینے کے لیے جذباتی مسائل کو اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اسے خودمختاری یا آرٹیکل 370 سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہا، ’’ہم ان سوالات کے جواب چاہتے ہیں اور تب تک ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
