دنیا
روس کا ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ یوکرائن کی سرحد پر گر کر تباہ، عملے سمیت 74 افراد ہلاک
کیف/ماسکو، یوکرین کی سرحد سے متصل جنوبی بلغراد علاقے میں بدھ کو روسی فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ الیوشن -76 گر کر تباہ ہونے سے عملے کے چھ ارکان سمیت 74 افراد ہلاک ہو گئے روسی وزارت دفاع کے مطابق روس کا ایک فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ بلغراد کے سرحدی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں 65 یوکرائنی جنگی قیدی سوار تھے دی گارڈین کے پوتر ساویر نے ماسکو سے اطلاع دی ہے کہ یوکرین کے 65 جنگی قیدیوں کو لے جانے والا روسی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
وزارت نے کہا کہ طیارے میں یوکرین کے 65 جنگی قیدی سوار تھے جن کا تبادلہ کیا جانا تھا۔ وزارت نے بتایا کہ الیوشن Il-76 ٹرانسپورٹ طیارے میں عملے کے چھ ارکان اور تین دیگر افراد بھی سوار تھے۔
بلغراد کے علاقائی گورنر ویاچسلاو گلادکوف نے کہا کہ جہاز میں سوار تمام 74 افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم یوکرین نے اس حادثے کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
یوکرین کے پراودا اخبار نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین کی مسلح افواج نے طیارے کو مار گرایا تھا لیکن بعد میں اس رپورٹ کو واپس لے لیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بڑا طیارہ گر کر تباہ ہو رہا ہے اور پھر آگ کے گولے میں پھٹ رہا ہے۔ فوٹیج میں دیگر تصاویر میں برفیلے علاقے میں ملبہ بکھرا ہوا دکھایا گیا ہے۔
سوویت ڈیزائن کردہ الیوشن Il-76 ایک فوجی ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز ہے جو فوجیوں، کارگو، فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کو لے جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ڈوما کے اسپیکر ویاچسلاو ولوڈن نے کہا کہ طیارے کو یوکرین نے “مار گرایا” اور اس کا الزام مغربی میزائل فائر پر لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین نے اپنے ہی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔ ولوڈن نے پارلیمنٹ کے مکمل اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔
ہمارے پائلٹ جو انسانی ہمدردی کا مشن انجام دے رہے تھے انہیں گولی مار دی گئی۔
روسی پارلیمنٹ کے سینئر رکن اور ریٹائرڈ جنرل آندرے کارتاپولوف نے پارلیمانی اجلاس کے دوران کہا کہ طیارے پر تین میزائل داغے گئے جس کے باعث یہ گر کر تباہ ہو گیا۔ اس نے اپنی معلومات کا ذریعہ ظاہر نہیں کیا۔ مسٹر کارتاپالوف نے کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلے گا کہ آیا یہ میزائل مغربی فائر کیے گئے پیٹریاٹس تھے یا آئیرس۔
ریٹائرڈ جنرل کارتاپالوف نے دعویٰ کیا کہ روس اور یوکرین آج طیارے کے حادثے سے قبل 192-192 قیدیوں کا تبادلہ کرنے والے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ دونوں ممالک نے جنگ کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ قیدیوں کے تبادلے کا اعلان کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے میں دونوں اطراف سے 200 سے زائد فوجیوں کا تبادلہ ہونا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
تہران، ایران نے کہا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان نئے بحری راستوں کے تعین کے حوالے سے حتمی معاہدے کے قریب ہے، تاہم تہران نے دوبارہ واضح کیا کہ امریکہ کو اس کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، جن میں فوجی دھمکیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو سرکاری میڈیا کو بتایا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات ”آسانی اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں”۔ ان کے مطابق بحری جہازوں کے لیے راستوں کے نقشے پر اتفاق ہوگیا ہے، تاہم بعض تکنیکی معاملات ابھی حل طلب ہیں۔
بقائی نے کہا کہ مذاکرات میں ایسی خدمات سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے جو عام طور پر ادائیگی کے عوض فراہم کی جاتی ہیں، جن میں محفوظ جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ، بحری خدمات اور جرائم کے خلاف کارروائی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی مسلسل ”دشمانہ کارروائیوں” کے باعث یہ آبی گزرگاہ غیر محفوظ ہوگئی ہے۔ تہران آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کو ”جارحیت” قرار دیتا ہے۔
دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ نے پیر کو کہا کہ جولائی میں ناکہ بندی بحال کیے جانے کے بعد اس نے 55 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا ہے اور کم از کم دو جہازوں کو ”غیر فعال” کیا ہے۔
بحری انٹیلی جنس کمپنی ونڈورڈ کے مطابق اس ناکہ بندی کے نتیجے میں خلیج میں واقع ایرانی جزیرے خارگ سے تیل کی برآمدات مکمل طور پر رک گئی ہیں۔
ٹرمپ نے پیر کو اس ناکہ بندی کو ”فولادی دیوار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز پر کنٹرول صرف امریکی بحریہ کا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبی گزرگاہ کھلی ہے اور امریکی فوج نے اسے بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے۔
دوسری جانب بحری آمدورفت سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنیوں کے مطابق ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ میرین ٹریفک کے مطابق جمعہ کو 15 جہازوں کے مقابلے میں ہفتے کو 11 اور اتوار کو صرف چھ جہاز آبنائے سے گزرے۔
اعداد و شمار کے مطابق 17 بحری جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ راستے سے گزرے، جبکہ مزید 10 جہاز ایسے راستے سے گزرے جنہیں ”غیر متعین” قرار دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ان نقصانات کا معاوضہ طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی وجہ سے امریکی شہریوں اور فوجیوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو واشنگٹن کی جانب سے جنگی ہرجانے کی ادائیگی سے مشروط کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران سے ”50 سال” کے نقصانات کا معاوضہ طلب کرے گی۔ انہوں نے اسے تہران کے مطالبے کے براہِ راست جواب کے طور پر پیش کیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک امریکہ جنگی ہرجانہ ادا کرنے اور پابندیاں ختم کرنے پر رضامند نہیں ہوتا۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، تاہم ٹرمپ کے نئے مطالبات سمندری راستہ دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے لیے معاوضہ مانگا ہے اور ان کے بقول انہوں نے جواب دیا، ”یہ ایک اچھا خیال ہے۔” تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا بھی ایران سے گزشتہ 50 برس کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ طلب کرے گا۔
ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاوضے میں خطے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتیں بھی شامل ہوں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ایران میں 52 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ جنوری میں ملک بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تقریباً 3,117 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے قبل ہوئے تھے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) نے فروری میں تقریباً 7 ہزار ہلاکتوں کی رپورٹ دی تھی، جن میں 6,500 مظاہرین شامل تھے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اکتوبر 2000 میں یمن میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے 17 امریکی ملاحوں کے خاندانوں کو بھی معاوضہ دینا چاہیے۔ تاہم اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد کی گئی تھی، نہ کہ ایران پر۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی لکھا کہ ایران کو لبنان، شام، یمن اور غزہ میں لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات اور ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ٹرمپ نے بارہا سخت فوجی کارروائی کی دھمکیوں اور امن معاہدہ قریب ہونے کے دعووں کے درمیان اپنا مؤقف تبدیل کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کو ”بہت سخت” مارنے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں پیچھے ہٹتے ہوئے اشارہ دیا کہ امن معاہدہ قریب ہے۔ اس ہفتے کے آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ تنازع سے متعلق اپنا طریقہ کار ”کم شدت” رکھ رہے ہیں اور مزید فوجی حملوں کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما کے سابق خصوصی معاون چارلس کپچن نے ٹرمپ کے معاوضے کے مطالبے کو ”سیاسی بیان بازی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق معاہدہ کرنے میں مضبوط مفاد رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق ایران اپنے تیل کی برآمد جاری رکھے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، جبکہ ٹرمپ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل گیس کی بلند قیمتوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہونے کی اطلاعات کے باعث پینٹاگون پر بھی دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر المخا (موکا) اور وسطی شہر مارب کے رہائشی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں۔
یمنی فوج کے مطابق پیر کو کیے گئے ان حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے ایک روز قبل المخا اور اس کی بندرگاہ پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد ہوئے، جن میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے تھے۔ حملوں سے بندرگاہی علاقے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی وسطی صوبے شبوا میں حوثیوں کے ڈرون حملے میں یمنی حکومت کے دو فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔
یمنی فورسز نے کہا ہے کہ انہوں نے مشرقی الجوف، شمال مغربی صعدہ اور وسطی مارب کے علاقوں میں حوثیوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یمن میں فریقین کے درمیان حالیہ جھڑپوں کو کئی برسوں میں ہونے والی شدید ترین کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے خبردار کیا ہے کہ یمن کو اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد سے بڑے پیمانے پر دوبارہ جنگ چھڑنے کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی سے 2022 کی جنگ بندی سے حاصل ہونے والی پیش رفت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور یمن ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹا جا سکتا ہے، جس کے ملک کے عوام کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔
یواین آئی۔ ع ا۔
-
دنیا19 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان24 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا24 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا18 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا18 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا16 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر17 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر17 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا1 hour agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا57 minutes agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا52 minutes agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
