تازہ ترین
سردیوں میں ”لامحدود“الیکٹرانک گیجٹس کے استعمال سے بجلی کی مناسب فراہمی متاثر
صارفین اگر بجلی چوری سے اجتناب کریں گے تو سسٹم میں بہت حد تک بہتری آسکتی ہے۔ چیف انجینئر اعجاز ڈار
خبراردو
سرینگر:کشمیر پاور ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) کے چیف انجینئر اعجاز احمد ڈار نے بجلی محکمے کی جانب سے موسم سرما کے دوران بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صارفین کو مناسب اور شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کررہا ہے لیکن برقی آلات کے بے تحاشا استعمال کے باعث بجلی کا سپلائی نظام تشویشناک حد تک متاثر ہورہا ہے۔
کے این ایس کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن صبح اور شام کے اوقات میں مرحلہ وار شفٹوں میں 1500میگا واٹ بجلی سپلائی کررہا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمیں بجلی کی سپلائی کی ضرورت بہت زیادہ ہے لیکن مگر یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ پورے کشمیر میں صارفین سردیوں کے دوران غیر مناسب طریقوں سے بجلی پر چلنے والیآلات اور گیجٹس استعمال کر رہے ہیں اور اس عمل سے خود بخود بجلی کا سپلائی نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
چیف انجینئر مسٹر ڈار نے بجلی کٹوتی سے پیدا ہورہی پریشان کن صورتحال کیلئے صارفین کو ہی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صارفین غیر قانونی طور بجلی کا استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ بجلی کا پورا سسٹم متاثر ہوتا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا ہمارا محکمہ مختلف مراحل پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے صارفین کو بجلی کا مناسب استعمال کرنے کے بارے میں آگاہی فراہم کررہا ہے اور میں صارفین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دانشمندی کے ساتھ بجلی کا استعمال کریں جبکہ صارفین کو چاہیے کہ وہ بجلی چوری سے اجتناب کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر وادی کشمیر میں صارفین بجلی کا مناسب طریقے سے استعمال کریں گے تو میں وثوق سے کہتا ہوں کہ وادی کے تمام حصوں کو بجلی سپلائی سے فائدہ پہنچے گا۔مسٹر ڈار نے کہا کہ سردیوں کے دوران صارفین کی اصل مانگ کو پورا کرنے کے لئے محکمہ کو 2200 میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے لیکن محکمہ صرف 1500میگا واٹ ہی بجلی فراہم کرنے کا اہل ہے اور اس طرح صارفین کی مانگ پورا کرنے کیلئے ہمارے محکمے کو 700میگا واٹ بجلی کی کمی ہے لہذا سماج کے ہر ایک فرد کو عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلیدی رول ادا کرنا ہوگا۔
مختلف علاقہ جات میں بجلی کی تقسیم کاری نظام کے بارے میں انہوں نے کہا صرف 40 فیصد علاقوں میں میٹر نصب کئے گئے ہیں اور مزکورہ علاقوں میں صارفین بجلی کا مناسب طریقے سے استعمال کررہے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ غیر میٹر والے علاقوں میں غیر قانونی طور پر بجلی کا استعمال ہورہا ہے اور یہی وجہ ہے بجلی کا نظام درہم برہم ہوکے رہ جاتا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں منسلک اداروں کے ملازمین شہر و دیہات کے ہر حصے کو میٹڈ زون کے تحت شامل کرنے کی مہم چلائیں گے اور اس مہم کو مرکزی معاونت والی اسکیم کے تحت اٹھایا جائے گا اور اس عمل سے نہ صرف بجلی کی ضرورت 2200میگاواٹ سے کم ہوکر 1700 میگاواٹ تک رہ جائے گی بلکہ اسے محکمہ کو سالانہ اچھی خاصی آمدنی بھی حاصل ہوگی۔
بجلی کٹوتی شیڈول کے بارے میں چیف انجینئر نے کہا کہ شہر سرینگر میں ہمارے پاس تین سلاٹ ہیں جہاں ہمارے پاس کچھ علاقوں کو چھوڑ کر 1.5گھنٹے کی کٹوتی ہوتی ہے اور بعض اوقات اضافی لوڑنگ کی وجہ سے بجلی سپلائی میں مزید کٹوتی کی جاتی ہے۔ متعدد علاقوں میں گھنٹوں کے اندر ہی خراب پڑے ٹرانسفارمروں کی واپسی کے حکومت کے وعدوں کے بارے میں جب پوچھا گیا تو ڈار نے کہا کہ کچھ ایسے معاملات ہوسکتے ہیں جہاں خراب ٹرانسفارمروں کی بحالی میں کچھ دن لگ جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہری علاقوں میں ایسے ٹرانسفارمرں کو 24گھنٹوں کے اندر ہی ٹھیک کیا جاتاہے جبکہ دیہی علاقوں کو 48گھنٹوں کے اندر اندر مزکورہ ٹرانسفار واپس مل جاتے ہیں۔کشمیر نیوز سروس کو انہوں نے کہا کہ پی ڈی ڈی کے پاس اس وقت اسٹاک میں 500 نئے ٹرانسفارمر ہیں جبکہ 200کے قریب ٹرانسفارمرں کو پہلے ہی ضرورت مند علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
غیر قانونی اور چوری سے بجلی کے استعمال کرنے والے صارفین کے بارے میں چیف انجینئر اعجاز احمد ڈار نے کہا کہ محکمہ کے پاس ایک خصوصی دستہ ہے جو بجلی کے غلط استعمال،بجلی چوری اور غیر رجسٹرڈ شدہ صارفین کی نگرانی کررہا ہے تاہم انہوں نے کے این ایس کو مزید بتایا ہمارے پاس18 ڈویڑن ہیں جن کے لئے ہم نے 25خصوصی دستے تشکیل دئیے ہیں جو باقاعدگی سے بجلی کے غلط استعمال کا معائنہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ بھی اس طرح کی مہم جاری رکھی جائے گی۔
چیف انجینئر پاور کارپوریشن نیمزید بتایا کہ محکمہ نے صرف ان کاروباری لوگوں کی سپلائی کاٹ دی ہے جو ڈیفالٹرز ثابت ہوئے تھے تاہم انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ جو لوگ ایک ہی وقت میں واجب ادا بجلی فیس ادا نہیں کرسکتے ہیں وہ قسطوں میں بھی ادا کرسکتے ہیں محکمہ میں کام کررہے ڈیلی ویجروں کی التواء میں رکھی گئی اجرتوں اور ڈیوٹی کے دوران زخمی ہونے یا لقمہ اجل بنے کے بعد محکمہ کی جانب سے امداد فراہم کرنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کے مزدوروں کی زیر التوا اجرتوں کو بحال کرنے اور انکی نوکریوں کی حفاظت کے لئے جلد ہی محکمہ انشورنس پالیسی لے کر آئے گا اور مزکورہ پالیسی کی تجویز حکومت کو پہلے ہی ارسال کی گئی ہے اور اس بارے میں محکمہ پہلے ہی معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس پی اوز) تیار کر چکا ہے تاکہ محکمہ میں کام کررہے مزدوروں کے ساتھ کل کوئی اگر ناخوشگوار واقعہ پیش آئے گا انہیں اس انشورنس اسکیم کے زمرے میں لایا جاسکے گا تاہم انہوں نے محکمہ میں سہولیات کو بڑھانے میں وسیع تعاون پر لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا جبکہ صارفین کو معقول بجلی کی فراہمی کے لئے محکمہ کے ملازمین کی دن رات کی ڈیوٹی پر ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے آخر میں صارفین سے بجلی کا منصفانہ طریقے سے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طریقوں سے ہوکنگ اور بجلی چوری سے دور رہنے کی اپیل کی۔(کے این ایس)
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
