تازہ ترین
شاہراہ پر پابندی سے کاروباری شعبہ بری طرح متاثر: فروٹ گروورس ایسو سی ایشن
خبراردو: ریاستی سرکار کی جانب سے سرینگر جموں شاہراہ پر ناشری کے مقام پر عام مسافروں کی نقل و حرکت پر 5گھنٹوں کی قدغن سے ریاست کا کاروباری شعبہ بری طرح سے متاثر ہوا ہے جس دوران شعبے سے جڑے افراد نے حکومت سے فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رکار کی جانب سے سرینگر جموں شاہراہ پر ناشری کے مقام پر عائد قدغن سے کارروباری حلقے سخت ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ خیال رہے چند ہفتوں سے وادی کشمیر میں تیز آندھیوں اور بارشوں سے میوہ باغات اور دیگر فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے جس کے نتیجے میں میوہ تجارت سے جڑے کاروباری افرادریاستی سرکار کی جانب سے تازہ فیصلے جس میں سرینگر جموں شاہراہ پر ناشتری کے مقام پر 5گھنٹوں کی مکمل قدغن عائد کی گئی ہے، پر سخت ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔خیال رہے ریاستی سرکار نے سالانہ امرناتھ یاترا کو بلال خلل جاری رکھنے کیلئے چنینی سے ناشتری ٹنل تک روزانہ بنیادوں پر 5گھنٹے کی پابندی لگادی ہے۔اس وقفے کے دوران کسی بھی عام مسافر گاڑی کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ صرف یاتری گاڑیوں کو ہی معمول کے مطابق شاہراہ پر سفر کرنے کا اختیار ہوگا۔
سرکار کی طرف سے عائد قدغن کے نتیجے شعبہ باغبانی شدید نقصان سے دوچار ہے۔اس حوالے سے نیو کشمیر فروٹ ایسو سی ایشن پارمپورہ سے وابستہ سینکڑوں میوہ ڈیلروں نے کشمیرنیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکار کی جانب سے لئے گئے تازہ فیصلے سے میوہ صنعت سے جڑے کاروباری افراد کے درمیان سخت تشویش پھیل گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہ پر روزانہ 5گھنٹوں کیلئے عام ٹریفک کو روکنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ایسو سی ایشن نے بتایا کہ شعبہ سے جڑے افراد پہلے ہی سخت نقصان سے دوچار ہے کیوں کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے وادی کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے تیز آندھی، ژالہ بھاری اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں کسانوں کو اذیت ناک صورتحال سے گزرنا پڑرہا ہے۔ ایسو سی ایشن کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ سرینگر جموں شاہراہ پر بھی ریاستی سرکار نے پہلے بھی غیر ضروری وجوہات کی بنا پر عام ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی تھی۔
ایسو سی ایشن سے وابستہ افراد نے بتایا کہ اس طرح کی صورتحال کے نتیجے میں شعبہ سے جڑے افراد کو 90فیصد خسارے سے دوچار ہونا پڑا ہے، اگر چہ ہم نے کئی مرتبہ نقصانات کے حوالے سے ریاستی گورنر اور دیگر اعلیٰ حکام کی توجہ مبذول کرانی چاہیے تاہم ابھی تک کئی مدا وا کرنے کے بجائے مزید زخم دئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارم پورہ منڈی جو نئی دہلی فروٹ منڈی کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہے، میں گزشتہ دو دنوں سے کاروبار ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ادھر ریاستی سرکار کے تازہ فیصلے پر کئی مین اسٹریم پارٹیوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔
سیاسی پارٹیوں نے گورنر ستیہ پال ملک سے مانگ کی ہے کہ وہ عام لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے اجتناب کرتے ہوئے شاہراہ پر گاڑیوں کو معمول کے مطابق چلنے کی اجازت دیں۔انہوں نے قاضی گنڈ سے بانہال ٹریک پر چلنے والی ریل سروس کو بھی پابندی سے مبرا رکھنے کی مانگ کی ہے۔
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد کم از کم 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں. اس سانحے کی شدت کے پیش نظر صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ اس صدی میں ملک میں ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 240 کلومیٹر دور سانجوس ڈیل پالمر کے قریب تھا۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں 86 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔
پیریرا، کولمبیا کے بڑے کافی پیدا کرنے والے علاقے میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں کم از کم 60 ہیں۔
کیلی شہر سے مزید 188 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سات ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ پیریرا میں ایک فضائی کیبل کار میں تقریباً چھ گھنٹے تک پھنسے سولہ افراد کو بچا لیا گیا۔
صدر اسپریلا نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام سرکاری وسائل کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ہے۔ امریکہ نے کولمبیا کو خوراک، پناہ گاہ اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 15.5 ملین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یہ پہاڑی اور اقتصادی لحاظ سے اہم خطہ 1999 میں ایک بڑے زلزلے سے بھی تباہ ہوا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز سطح سے تقریباً 107 کلومیٹر نیچے تھا۔ لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا22 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا21 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا18 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر20 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا3 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر20 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا3 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
