ہندوستان
طلبا کے بڑھتے ہوئے خودکشی کےواقعات اور ان کی روک تھام کی تدابیر کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے : گہلوت
جے پور، راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے طلباء کو تناؤ سے پاک اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاستی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوچنگ میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اسباب کا پتہ لگانے اور اس کی روک تھام کی تدابیر تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی کو 15 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی دی گئی ہے۔
مسٹر گہلوت جمعہ کو وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے آپریٹرز کے ساتھ مذاکرات کے پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے طلباء میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ملک گیر مسئلہ ہے۔ ریاستی حکومت اس معاملے پر ہمیشہ حساس رہی ہے اور وقتاً فوقتاً ریاست کے کوچنگ اداروں میں زیر تعلیم طلباء کو تناؤ سے پاک اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے رہنما خطوط جاری کیے جاتے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کوچنگ انسٹی ٹیوٹس میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کرنے کے لیے پرنسپل سیکریٹری ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے کر 15 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مسٹر گہلوت نے کہا کہ کوٹا کے بعد جے پور، سیکر، جودھ پور اور بیکانیر وغیرہ اضلاع بھی کوچنگ ہب کے طور پر ترقی کر رہے ہیں۔ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے روزگار کے نئے مواقع دستیاب ہورہے ہیں اور ریاست کی معیشت میں بھی تیزی آرہی ہے۔
وزیراعلی نے کہا کہ ریاستی حکومت کی کوچنگ اسکیم سے 30,000 سے زائد طلباء مستفید ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ریاستی حکومت طلبہ کی صحت اور حفاظت کے لیے چوکس ہے۔ طلباء کو مناسب ماحول فراہم کرنے کے لیے جے پور میں کوچنگ ہب تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹس سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرنے اور ان پر روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ، طلباء اور ان کے والدین کے درمیان تال میل قائم کرنے کی بھی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔
مسٹر گہلوت نے کہا کہ طلبہ میں خودکشی کا رجحان ملک بھر میں ایک مسئلہ ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2021 میں ملک بھر میں طلبہ کی خودکشی کے 13 ہزار سے زائد کیسز درج ہوئے جن میں سب سے زیادہ 1834 کیس مہاراشٹر میں، 1308 مدھیہ پردیش میں، 1246 تمل ناڈو میں درج ہوئے۔ کرناٹک میں 855 اور اڑیسہ میں 834 واقعات سامنے آئے ہیں ۔ راجستھان میں یہ تعداد 633 ہے جو کہ دیگر ریاستوں کے مقابلے کم ہے، لیکن ریاستی حکومت اس معاملے کو لے کر سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا20 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا19 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا19 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا17 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر18 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر18 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا2 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا2 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
