تازہ ترین
عربی زبان و ادب کا شہزادہ
الطاف جمیل ندوی
مصروف العمل ہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موصوف وادی کشمیر کے لہلہاتے سبز زاروں کے مکین ہیں جہاں عربی زبان و ادب کے بارے میں مخصوص افراد ہی واقفیت یا اس پر کام کر رہے ہیں جن میں سے کچھ عالمی شہرت کے حامل ہیں ( یہاں گر میں کشمیر کے عظیم عالم و فاضل کا نام نہ لوں تو یہ خلاف ادب ہوگا میری مراد ہیں علامہ انور شاہ لولابی کشمیری رحمہ اللہ جن کے علمی وقار سے متعارف پوری دنیا کا علمی حلقہ ہے ) ان کے علاوہ بھی کچھ شخصیات ہیں جو عربی زبان و ادب پر کام کررہے ہیں
پر مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تردد نہیں کہ اس بار میرے محترم بازی مار گئے ہیں سب سے آگئے ہیں عربی زبان و ادب کی خدمات انجام دینے میں کچھ سال سے موصوف کی شگفتہ مزاجی سے حض اٹھانے میں مصروف ہوں اور موصوف بھی اپنی شگفتہ مزاجی میں نکھار لاتے جارہے ہیں
جن کا مختصر علمی و ادبی خاکہ پیش خدمت ہے
میری مراد ہیں ڈاکٹر معراج الدین ندوی حفظہ اللہ
والد محترم : عبدالرحمن
سکونت پانتہ چوک
تعلیمی قابلیت : ڈاکٹریٹ مؤرخ ناقد اور ادیب احمد امین مصری کے تنقیدی اور ادبی و تاریخی خدمات پر
تبسہ یونیورسٹی الجزاء سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ عربی زبان و ادب کی خدمات پر
زیان یونیورسٹی الجزاء کی طرف سے سینٹفک بورڈ ممبر۔
آیدن یونیورسٹی ترکی کی جانب سے مجلہ تلمیذ اور اس کے چیف ایڈیٹر ہونے کے ناطے یک سالہ مالی معاونت
عربی زبان میں ان کی کچھ تالیفات
1- ترجم عشرة اجزاء من القرآن الحكيم
2- الاستاذ أحمدأمين ناقدا وأديبا
3- رائدالاختبار لنجاح الأبرار
4- تعالوا نتعلمِ العربية
5- الفكرة اللغوية عند الاستاذ أحمد أمين
6- رئيس التحرير لمجلة التلميذ
7- قنديل أم هاشم “دراسة تحليلية” (باللغة الأردية)
8- ماه صيام بحيثيت طبيب حاذق
9- نور الأريب من قواعد الأديب
لکھنے کا شوق
۱۴ سال کی عمر میں غیر مربوط طریقے سے لکھنا پڑھنا شروع کیا تھا۔۔۔پھر ۱۵ سال کی عمر میں ” لا اکراہ فی الدین ” کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا تھا جو نامساعد حالات کی وجہ سے ضائع ہوگیا
عزیز مکرم جو سب سے بہترین کام عربی زبان و ادب کے لئے انجام دے رہے ہیں وہ ہے مجلة التلمیذ
کی اشاعت اس بارے میں مشہور نقاد و مصنف ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب رقم طراز ہیں
ڈاکٹر معراج الدین ندوی خود بھی بحیثیت لیکچرر عربی زبان و ادب کی تدریس سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عربی زبان وادب کی خدمت مجلہ “التلميذ” کی مسلسل اشاعت سے سرانجام دے رہے۔ یہ رسالہ اپنے معیار کی بدولت عالمی سطح کے رسائل میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نظر آرہا ہے کیونکہ ایک تو اس کی معیاری تحریرات اور دوسرا عربی دنیامیں اس کی پزیرائی سے عیاں ہے کہ حلقہ قارئین نہ صرف اسے پسند کرتے ہیں بلکہ بطور مدیر مجلہ ڈاکٹر معراج الدین بھی رسالے کی زینت معروف ومعتبر اساتذہ کرام اور ادباء وشعراء کی تحریر اور کلام سےبڑھا رہے ہیں۔ راقم کی نظر سے چند شمارے گزرے ہیں اور پڑھ کر اطمینان ہوا کہ رسالہ کامیابی کی طرف گامزن ہے۔۔عربی زبان کے اسکالرز اور طلبہ کے لئے ایک مفید رسالہ ہے
مجلة التلمیذ کا سفر عزیز محترم کی زبانی
2011 میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل ہونے کے بعد اپنے مشفق استاذ محترم پروفیسر صلاح الدین عمری نے مجھے سے کہا، آپ کوئی علمی و ادبی مجلہ نکالے مجھے ایک لمحے کے لئے اپنی ذات پر ترس آیا کہ یا الله کہی میرے استاذ محترم مجھ سے ناراض ہوکر مجھے کسی مصیبت میں ڈالنا تو نہیں چاہ ریے ہیں رب کی رحمت پر کامل بھروسہ رکھ کر اور اپنی ہمت کو تحریک دے کر میں نے بسم اللہ کرنے کا ارادہ باندھ لیا اور اپنے استاد محترم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور ان کی رہنمائی میں دسمبر 2011 میں اس کام کو عملی شکل دے کر پہلا شمارہ تلمیذ کا صرف 24 صفحات پر شائع ہوا
لیکن یہ کام محنت طلب ہونے کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کے بغیر بالکل ممکن نہ تھا اپنے دیگر اساتذہ اور رفقاء سے مشورے لینے کے بعد اس بات کا انداز ہوا پر اسے جاری رکھنے کے لئے طے کر لیا کہ چاہئے کتنی بھی مشکلات آئیں چاہئے مجھے کسی درگاہ یا مسجد کے سامنے ہاتھ کیوں نہ پھیلانا پڑے پر کام کو جاری ہی رکھوں گا اور اس کی اشاعت کو برابر جاری رکھنے کے لئے کبھی کچھ رقم دوستوں سے اور کبھی کچھ رقم اپنے والد محترم سے لیتا رہا حالانکہ والد محترم حفظہ اللہ نے ایک بار کہا کہ آپ عربی کے بجائے اردو میں مجلہ نکالیں لوگ ہاتھوں ہاتھ لیں گے اللہ نے آپ کو اردو میں لکھنے بولنے کی صلاحیت دی ہے پر میں نے ادب و احترام سے ان سے کہا کہ میرے استاد کا حکم ہے میں کیسے چھوڑ سکتا ہوں میں آپ کے حکم کے مطابق اردو میں بھی مستقبل میں شائع کرنے کی کوشش کروں گا ( یاد رہے اردو میں شاہین نامی رسالہ جاری کرنے کا ارادہ کرچکے تھے پھر نہ معلوم کیا ہوا )
خیر والد محترم نے دعائیں دے کر خاموشی اختیار کر لی اور میں پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگیا
یوں یہ سلسلہ چلتا رہا کہ ایک بار پھر 2013 میں میرے حوصلوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا کہ اب اس مجلے پر درود فاتحہ پڑھ کر دفن کردیا جائے کیوں کہ ہر ماہ ایک موٹی رقم کا انتظام کرنا مشکل ہوچکا تھا ایک اہل و عیال کی ذمہ داریاں اور دوسری طرف اس مجلے پر اخراجات ۔۔۔بڑا مشکل لمحہ تھا۔۔۔جب اس صورت حال کو میری شفیق و رفیق زوجہ محترمہ ڈاکٹر نور افشاں صالحاتی نے دیکھا کہ میں پریشانی میں مجلے کو بند کرنے جا رہا ہوں تو انہوں نے اپنے زیورات لاکر میرے سامنے رکھ کر کہا کہ علم اور علمی کاموں کے لئے اگر یہ زیورات کام نہ آئیں تو ہمارا جاہل رہنا ہی بہتر تھا ان کے جذبہ ایثار اور ذوق علمی کو دیکھ کر میں نے اپنے اندر ایک عجیب و غریب خوشی و مسرت کو محسوس کیا جس کی بنیاد پر آج تک میں کھڑا ہوں اور اس مجلے کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کشمیر ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہورہا ہوں یہی وجہ ہے کہ 2017 میں جناب ڈاکٹر اصغر حسن سامون پرنسپل سیکریٹری ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اس مجلے کو اپنی سرپرستی میں لیکر مالی بوجھ سے کسی حد راحت دی جس کا میں مشکور و ممنون ہوں
موصوف کے اساتذہ جن کا تذکرہ انتہائی ادب سے کرتے ہیں
میرے کچھ اساتذہ :
مولانا بہاؤالدین سلفی ۔۔۔ان سے میں۱۴ /۱۵
سال کی عمر میں حدیث کا درس لیا اور ان سے ایک سال تک استفادہ کرتا رہا
۱۵ سے ۱۶ کی عمر کے درمیان عربی زبان کے قواعد اور “منہاج العربیہ”محمد عبداللہ وانی سابقہ امیر جماعت اسلامی سے پڑھیں اور استفادہ حاصل کیا جو کہ میرے لئے تعلیمی سفر کا آغاز تھا
پھر اس کے بعد جامعة الفلاح کی ایک دور دراز شاخ “چوکنیاں ” نامی دیہات ميں واقع مصباح العلوم میں ایک سال گزارا پھر وہاں کے اساتذہ کو میرے جمعہ بیانات پر اعتراضات اور ان کے پڑھانے کے دوران میرے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات سے پریشان ہونا سبب اخراج ہوا اس کے بعد ندوہ العلماء کا رخ کیا جہاں گرچہ پانچ چھ ماہ تک ہوسٹل کی سہولیات سے محروم رہا پر پھر اپنے اساتذہ کی شفقت و محبت کے زیر سایہ مجھے بھی ہوسٹل کی سہولیات میسر رہیں جہاں میں نے بہت سے اساتذہ سے استفادہ کیا جن میں مولانا فیصل بھٹکلی صاحب سے خاص تعلق بھی رہا اور عربی ادب کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا بھی ان سے یوں علم کا سفر اپنی منازل طے کرتا رہا جو میری تمنا و خواہش تھی طبری علامہ زمخشری اور تفسیر ماجدی وغیرہ کے ساتھ ساتھ تفھیم القرآن کا مطالعہ کرتا رہا مولانا مودودی رحمہ اللہ نے سابقہ تفاسیر کو جس خوبی سے عام فہم بنا کر اپنی تفسیر کو تیار کیا ہے مجھے اس پر فخر ہے یہ عظیم علمی کارنامہ ہے جو کہ ہر خاص و عام کے لئے قابل استفادہ ہے
محترم ایک انتہائی سادہ مزاج کے حامل شخصیت کے مالک ہیں اور علمی و ادبی خدمات کے لئے انتہائی تیزی کے ساتھ محو سفر انکی سادگی کا یہ عالم کہ ایک بار سرینگر کے ایک سادہ سے ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کے لئے چلے آئے اور چائے پینے کے لئے آرڈر دے کر باتوں میں لگ گئے گرچہ میں ان کے علمی وقار سے متعارف ہونے کے سبب کچھ احتیاط کر رہا تھا پر موضوف مسلسل اپنے علمی سفر کی روداد سناتے رہے یہ اور بات ہے کہ ان سے باتیں کرنے کے دوران گر کوئی میری طرح کا انسان پھنس جائے تو ہوائیں اڑتی محسوس ہوں گی کیونکہ موصوف اچانک بات کرتے کرتے اردو کشمیری کو بول جاتے ہیں اور اپنی بات کا اختتام عربی الفاظ میں کرتے ہیں اور زبان سے ناواقف پریشان ہوجاتا ہے کہ اب کیا کروں اس بندے کا میری تو سمجھ کچھ نہیں آیا بس پھر ہاں ہوں کرنے میں ہی عافیت ہے ویسے محترم ہیں بڑے ہی سخنور اور پاکیزہ مزاج کے
دعا گو ہوں کہ رب الکریم مزید ترقی سے نوازے اور اپنی رحمتوں کا سایہ قائم و دائمی بنائے رکھے آپ پر اور یہ علمی و ادبی ستارہ چمکتا ہی رہے
دنیا
ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ فی الوقت امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل میں مصروف نہیں ہیں اور جب تک واشنگٹن انتظامیہ متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کرتی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوں گے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے عراقچی نے امریکہ کے ساتھ رابطوں اورآبنائے ہرمز کے حوالے سے بیان دیا۔
فریقین کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کے جاری رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقچی نے کہا، “اس وقت ہم امریکہ کے ساتھ کسی بات چیت میں نہیں ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر اسے مذاکرات کہنا درست نہیں۔”
عراقچی نے کہا کہ ثالث دوبارہ باہمی سمجھ بوجھ کی بنیاد قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے امریکہ کو متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا، “جب تک مفاہمت ِیادداشت کی خلاف ورزیاں ختم نہیں ہوتیں اور امریکہ نے متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کیا، مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ممکن نہیں۔”
ہرمز کے سلسلے میں عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں عراقچی نے اعادہ کیا اس ملک کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔اس کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونی چاہئیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دی گئی ہیں۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان5 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا12 minutes agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
