تازہ ترین
عربی زبان و ادب کا شہزادہ
الطاف جمیل ندوی
مصروف العمل ہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موصوف وادی کشمیر کے لہلہاتے سبز زاروں کے مکین ہیں جہاں عربی زبان و ادب کے بارے میں مخصوص افراد ہی واقفیت یا اس پر کام کر رہے ہیں جن میں سے کچھ عالمی شہرت کے حامل ہیں ( یہاں گر میں کشمیر کے عظیم عالم و فاضل کا نام نہ لوں تو یہ خلاف ادب ہوگا میری مراد ہیں علامہ انور شاہ لولابی کشمیری رحمہ اللہ جن کے علمی وقار سے متعارف پوری دنیا کا علمی حلقہ ہے ) ان کے علاوہ بھی کچھ شخصیات ہیں جو عربی زبان و ادب پر کام کررہے ہیں
پر مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تردد نہیں کہ اس بار میرے محترم بازی مار گئے ہیں سب سے آگئے ہیں عربی زبان و ادب کی خدمات انجام دینے میں کچھ سال سے موصوف کی شگفتہ مزاجی سے حض اٹھانے میں مصروف ہوں اور موصوف بھی اپنی شگفتہ مزاجی میں نکھار لاتے جارہے ہیں
جن کا مختصر علمی و ادبی خاکہ پیش خدمت ہے
میری مراد ہیں ڈاکٹر معراج الدین ندوی حفظہ اللہ
والد محترم : عبدالرحمن
سکونت پانتہ چوک
تعلیمی قابلیت : ڈاکٹریٹ مؤرخ ناقد اور ادیب احمد امین مصری کے تنقیدی اور ادبی و تاریخی خدمات پر
تبسہ یونیورسٹی الجزاء سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ عربی زبان و ادب کی خدمات پر
زیان یونیورسٹی الجزاء کی طرف سے سینٹفک بورڈ ممبر۔
آیدن یونیورسٹی ترکی کی جانب سے مجلہ تلمیذ اور اس کے چیف ایڈیٹر ہونے کے ناطے یک سالہ مالی معاونت
عربی زبان میں ان کی کچھ تالیفات
1- ترجم عشرة اجزاء من القرآن الحكيم
2- الاستاذ أحمدأمين ناقدا وأديبا
3- رائدالاختبار لنجاح الأبرار
4- تعالوا نتعلمِ العربية
5- الفكرة اللغوية عند الاستاذ أحمد أمين
6- رئيس التحرير لمجلة التلميذ
7- قنديل أم هاشم “دراسة تحليلية” (باللغة الأردية)
8- ماه صيام بحيثيت طبيب حاذق
9- نور الأريب من قواعد الأديب
لکھنے کا شوق
۱۴ سال کی عمر میں غیر مربوط طریقے سے لکھنا پڑھنا شروع کیا تھا۔۔۔پھر ۱۵ سال کی عمر میں ” لا اکراہ فی الدین ” کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا تھا جو نامساعد حالات کی وجہ سے ضائع ہوگیا
عزیز مکرم جو سب سے بہترین کام عربی زبان و ادب کے لئے انجام دے رہے ہیں وہ ہے مجلة التلمیذ
کی اشاعت اس بارے میں مشہور نقاد و مصنف ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب رقم طراز ہیں
ڈاکٹر معراج الدین ندوی خود بھی بحیثیت لیکچرر عربی زبان و ادب کی تدریس سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عربی زبان وادب کی خدمت مجلہ “التلميذ” کی مسلسل اشاعت سے سرانجام دے رہے۔ یہ رسالہ اپنے معیار کی بدولت عالمی سطح کے رسائل میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نظر آرہا ہے کیونکہ ایک تو اس کی معیاری تحریرات اور دوسرا عربی دنیامیں اس کی پزیرائی سے عیاں ہے کہ حلقہ قارئین نہ صرف اسے پسند کرتے ہیں بلکہ بطور مدیر مجلہ ڈاکٹر معراج الدین بھی رسالے کی زینت معروف ومعتبر اساتذہ کرام اور ادباء وشعراء کی تحریر اور کلام سےبڑھا رہے ہیں۔ راقم کی نظر سے چند شمارے گزرے ہیں اور پڑھ کر اطمینان ہوا کہ رسالہ کامیابی کی طرف گامزن ہے۔۔عربی زبان کے اسکالرز اور طلبہ کے لئے ایک مفید رسالہ ہے
مجلة التلمیذ کا سفر عزیز محترم کی زبانی
2011 میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل ہونے کے بعد اپنے مشفق استاذ محترم پروفیسر صلاح الدین عمری نے مجھے سے کہا، آپ کوئی علمی و ادبی مجلہ نکالے مجھے ایک لمحے کے لئے اپنی ذات پر ترس آیا کہ یا الله کہی میرے استاذ محترم مجھ سے ناراض ہوکر مجھے کسی مصیبت میں ڈالنا تو نہیں چاہ ریے ہیں رب کی رحمت پر کامل بھروسہ رکھ کر اور اپنی ہمت کو تحریک دے کر میں نے بسم اللہ کرنے کا ارادہ باندھ لیا اور اپنے استاد محترم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور ان کی رہنمائی میں دسمبر 2011 میں اس کام کو عملی شکل دے کر پہلا شمارہ تلمیذ کا صرف 24 صفحات پر شائع ہوا
لیکن یہ کام محنت طلب ہونے کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کے بغیر بالکل ممکن نہ تھا اپنے دیگر اساتذہ اور رفقاء سے مشورے لینے کے بعد اس بات کا انداز ہوا پر اسے جاری رکھنے کے لئے طے کر لیا کہ چاہئے کتنی بھی مشکلات آئیں چاہئے مجھے کسی درگاہ یا مسجد کے سامنے ہاتھ کیوں نہ پھیلانا پڑے پر کام کو جاری ہی رکھوں گا اور اس کی اشاعت کو برابر جاری رکھنے کے لئے کبھی کچھ رقم دوستوں سے اور کبھی کچھ رقم اپنے والد محترم سے لیتا رہا حالانکہ والد محترم حفظہ اللہ نے ایک بار کہا کہ آپ عربی کے بجائے اردو میں مجلہ نکالیں لوگ ہاتھوں ہاتھ لیں گے اللہ نے آپ کو اردو میں لکھنے بولنے کی صلاحیت دی ہے پر میں نے ادب و احترام سے ان سے کہا کہ میرے استاد کا حکم ہے میں کیسے چھوڑ سکتا ہوں میں آپ کے حکم کے مطابق اردو میں بھی مستقبل میں شائع کرنے کی کوشش کروں گا ( یاد رہے اردو میں شاہین نامی رسالہ جاری کرنے کا ارادہ کرچکے تھے پھر نہ معلوم کیا ہوا )
خیر والد محترم نے دعائیں دے کر خاموشی اختیار کر لی اور میں پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگیا
یوں یہ سلسلہ چلتا رہا کہ ایک بار پھر 2013 میں میرے حوصلوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا کہ اب اس مجلے پر درود فاتحہ پڑھ کر دفن کردیا جائے کیوں کہ ہر ماہ ایک موٹی رقم کا انتظام کرنا مشکل ہوچکا تھا ایک اہل و عیال کی ذمہ داریاں اور دوسری طرف اس مجلے پر اخراجات ۔۔۔بڑا مشکل لمحہ تھا۔۔۔جب اس صورت حال کو میری شفیق و رفیق زوجہ محترمہ ڈاکٹر نور افشاں صالحاتی نے دیکھا کہ میں پریشانی میں مجلے کو بند کرنے جا رہا ہوں تو انہوں نے اپنے زیورات لاکر میرے سامنے رکھ کر کہا کہ علم اور علمی کاموں کے لئے اگر یہ زیورات کام نہ آئیں تو ہمارا جاہل رہنا ہی بہتر تھا ان کے جذبہ ایثار اور ذوق علمی کو دیکھ کر میں نے اپنے اندر ایک عجیب و غریب خوشی و مسرت کو محسوس کیا جس کی بنیاد پر آج تک میں کھڑا ہوں اور اس مجلے کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کشمیر ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہورہا ہوں یہی وجہ ہے کہ 2017 میں جناب ڈاکٹر اصغر حسن سامون پرنسپل سیکریٹری ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اس مجلے کو اپنی سرپرستی میں لیکر مالی بوجھ سے کسی حد راحت دی جس کا میں مشکور و ممنون ہوں
موصوف کے اساتذہ جن کا تذکرہ انتہائی ادب سے کرتے ہیں
میرے کچھ اساتذہ :
مولانا بہاؤالدین سلفی ۔۔۔ان سے میں۱۴ /۱۵
سال کی عمر میں حدیث کا درس لیا اور ان سے ایک سال تک استفادہ کرتا رہا
۱۵ سے ۱۶ کی عمر کے درمیان عربی زبان کے قواعد اور “منہاج العربیہ”محمد عبداللہ وانی سابقہ امیر جماعت اسلامی سے پڑھیں اور استفادہ حاصل کیا جو کہ میرے لئے تعلیمی سفر کا آغاز تھا
پھر اس کے بعد جامعة الفلاح کی ایک دور دراز شاخ “چوکنیاں ” نامی دیہات ميں واقع مصباح العلوم میں ایک سال گزارا پھر وہاں کے اساتذہ کو میرے جمعہ بیانات پر اعتراضات اور ان کے پڑھانے کے دوران میرے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات سے پریشان ہونا سبب اخراج ہوا اس کے بعد ندوہ العلماء کا رخ کیا جہاں گرچہ پانچ چھ ماہ تک ہوسٹل کی سہولیات سے محروم رہا پر پھر اپنے اساتذہ کی شفقت و محبت کے زیر سایہ مجھے بھی ہوسٹل کی سہولیات میسر رہیں جہاں میں نے بہت سے اساتذہ سے استفادہ کیا جن میں مولانا فیصل بھٹکلی صاحب سے خاص تعلق بھی رہا اور عربی ادب کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا بھی ان سے یوں علم کا سفر اپنی منازل طے کرتا رہا جو میری تمنا و خواہش تھی طبری علامہ زمخشری اور تفسیر ماجدی وغیرہ کے ساتھ ساتھ تفھیم القرآن کا مطالعہ کرتا رہا مولانا مودودی رحمہ اللہ نے سابقہ تفاسیر کو جس خوبی سے عام فہم بنا کر اپنی تفسیر کو تیار کیا ہے مجھے اس پر فخر ہے یہ عظیم علمی کارنامہ ہے جو کہ ہر خاص و عام کے لئے قابل استفادہ ہے
محترم ایک انتہائی سادہ مزاج کے حامل شخصیت کے مالک ہیں اور علمی و ادبی خدمات کے لئے انتہائی تیزی کے ساتھ محو سفر انکی سادگی کا یہ عالم کہ ایک بار سرینگر کے ایک سادہ سے ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کے لئے چلے آئے اور چائے پینے کے لئے آرڈر دے کر باتوں میں لگ گئے گرچہ میں ان کے علمی وقار سے متعارف ہونے کے سبب کچھ احتیاط کر رہا تھا پر موضوف مسلسل اپنے علمی سفر کی روداد سناتے رہے یہ اور بات ہے کہ ان سے باتیں کرنے کے دوران گر کوئی میری طرح کا انسان پھنس جائے تو ہوائیں اڑتی محسوس ہوں گی کیونکہ موصوف اچانک بات کرتے کرتے اردو کشمیری کو بول جاتے ہیں اور اپنی بات کا اختتام عربی الفاظ میں کرتے ہیں اور زبان سے ناواقف پریشان ہوجاتا ہے کہ اب کیا کروں اس بندے کا میری تو سمجھ کچھ نہیں آیا بس پھر ہاں ہوں کرنے میں ہی عافیت ہے ویسے محترم ہیں بڑے ہی سخنور اور پاکیزہ مزاج کے
دعا گو ہوں کہ رب الکریم مزید ترقی سے نوازے اور اپنی رحمتوں کا سایہ قائم و دائمی بنائے رکھے آپ پر اور یہ علمی و ادبی ستارہ چمکتا ہی رہے
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
