فن و ادب
عرفان خان کی آنکھیں بھی اداکاری کرتی تھیں
(29 اپریل برسی کے موقع پر)
ممبئی، عرفان خان نے اپنی زبردست اداکاری سے نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ میں بھی اپنے ہنر کا جوہر دکھایا۔عرفان خان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنا مقدر خود ہی بنایا اور ممبئی جیسے شہر میں ان کا کوئی گاڈ فادر بھی نہیں تھا لیکن اپنی اداکاری کے ہنر سے انہوں نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا تھا۔عرفان کی پیدائش راجستھان کے جےپور کے آمیر اوڑ علاقے کے ایک عام سے کنبے میں 7 جنوری 1967 کو ہوئی تھی۔ان کے والد کی ایک ٹائر پنچر بنانے کی دکان تھی۔
عرفان خان گھر میں بڑے بیٹے تھے تو ذمہ داریاں بھی زیادہ تھیں۔گھروالوںکو امید تھی کہ عرفان جلد برسرروزگار ہوجائے گا،لیکن ایسا نہیں ہوا۔بچپن کے دنوں میں عرفان خان کرکیٹر بننا چاہتے تھے لیکن خاندان کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے انہیں اپنی خواہش کو مارنا پڑا۔وہ بچپن میں اچھے کرکیٹر بھی تھے اور سی کے نائیڈو ٹرافی میں ان کا سلیکشن بھی ہوگیا تھا۔
عرفان جب گریجویشن کررہے تھے،اسی وقت ان کی توجہ ایکٹنگ کی طرف ہوئی۔پہلے کچھ نئے اداکاروں کے ساتھ وہ اداکاری سیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔پھر ان کی ملاقات نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی)کے ایک شخص سے ہوئی۔وہ کالجوں میں جاکر ڈرامہ کیا کرتے تھے۔عرفان بھی ان کے ساتھ ان کی ٹیم میں شامل ہوگئے اور طلبہ کے ساتھ کوریڈور میں،کلاس روم میں اور کینٹین میں ڈرامہ کرتے ہوئے ہی ایکٹنگ کرنے میں ماہر ہوگئے اوراسی سمت میں کریئربنانے کےلئے سنجیدہ بھی ہوئے۔
عرفان نے جب دہلی کے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں ایکٹنگ کے کورس کےلئے ایڈمشن لیا تو تھوڑے ہی وقت بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ایسے میں عرفان کو گھر سے ملنے والی مالی مدد بند ہوگئی اور کچھ سہارا ان کو ملنے والی اسکالرشپ نے دیا اور ان کی ایک کلاس میٹ ستاپا سکندر نے بھی ان کی کافی مدد کی۔کورس پورا ہونے کے بعد عرفان ستاپا کے ساتھ ممبئی آگئے اور بعد میں دونوں نے نکاح کرلیا۔
عرفاں خان کے کریئر کی شروعات ٹیلی ویژن سیرئل سے ہوئی تھی۔اپنے شروعاتی دنوں میں وہ چانکیے،بھارت ایک کھوج،چندر کانتا جیسے سیریلوں میں نظر آئے۔انہوں نے اپنے سنی کریئر کی شروعات سال 1988میں ریلیز ہوئی میرا نائر کی فلم ’سلام بامبے‘ سے ایک چھوٹے سے رول سے کی تھی۔
سال 1990 میں ریلیز فلم ’ایک ڈاکٹر کی موت‘ سے عرفان اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔پھررفتہ رفتہ انہیں کام ملنے لگا۔دیکھتے ہی دیکھتے ایک دہائی کا سفر گزر گیا لیکن انہیں اسٹارڈم نہیں ملا۔سال 2001میں عرفان کی فلم دی واریئر اور قصور ریلیز ہوئی جو کامیاب رہیں۔
اس کے بعد 2003 میں عرفان خان کی فلم حاصل ریلیز ہوئی اور اس کے ٹھیک بعد مقبول۔ان دونوں فلموں نے انہیں وہ شہرت دلائی جس کے وہ حق دار تھے اور ان دونوں ہی فلموں کے بعد ان کے کریئر نے اچانک رفتار پکڑ لی۔سال 2007 میں ریلیز فلم ’لائف ان اے میٹرو‘ اور دی نیمسیک میں عرفان خان نے زبردست اداکاری کی اور شائقین کا دل جیت لیا۔
عرفان خان نے نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ کی کئی فلموں میں بھی کام کیا اور اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔سال 2008 میں ریلیز سپر ہٹ ہالی ووڈ فلم سلم ڈاگ ملینائر میں عرفان خان نے زبردست رول ادا کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے ہالی ووڈ فلم دی امیزنگ اسپائڈر مین ،جوراسک ورلڈ،انفرنو،اے مائیٹی ہارٹ،سینی کوڈو وغیرہ فلموں میں بھی کام کیا۔سال 2016 میں ریلیز ہوئی ہالی ووڈ فلم دی جنگل بک میں عرفان نے اپنی آواز بھی دی۔ہالی ووڈ کے مشہور ادا کار ٹام ہینکس کو یہ کہنے کےلئے مجبور ہوناپڑا کہ عرفان خان کی آنکھیں بھی اداکاری کرتی تھیں۔
سال 2011میں ہندوستانی حکومت نے عرفان خان کو پدم شری سے نوازا ۔سال 2012 میں انہیں فلم پان سنگھ تومر میں اداکاری کےلئے بہترین اداکار کا نیشنل ایوارڈ دیاگیا۔سال 2012 میں آنگلی کی فلم لائف آف پائی میں کام کرنے کا موقع ملا۔یہ فلم پوری دنیا میں سپرہٹ ہوئی۔اس کے بعد عرفان نے سال 2013 میں ریلیز ہوئی سپرہٹ فلم دی لنچ باکس میں بھی کام کیا۔
سال 2004میں انہیں فلم حاصل کےلئے بہترین ویلین کا فلم فیئرایوارڈ بھی ملا۔سال 2008 میں فلم لائن ان اے میٹرو کے لئے فلم فیئر کے بہترین معاون اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس کے بعد انہیں فلم ہندی میڈیم کے لئے بھی بہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔
عرفان خان نے اپنے سنی کریئر میں تقریباً 90 فلموں میں کام کیا۔ان کے کریئر کی بہترین فلموں میں گناہ،فٹ پاتھ،آن:مین ایٹ ورک،چاکلیٹ،روگ،ساڑھے سات پھیرے،سنڈے ،کریزی 4،بلو،جذبہ،پیکو،یہ سالی زندگی،تھینکیو ،رائٹ یا رانگ،حصہ ،ناک آؤٹ،ایسڈ فیکٹری،نیویورک،صاحب بی بی اور گینگسٹر ریٹرنس ،ڈی ڈے،غنڈے،حیدر،تلوار،مداری،انگریزی میڈیم اور ہندی میڈیم وغیرہ شامل ہیں۔ عرفان خان کافی عرصے سے لا علاج کینسر سے مبتلا رہے اور 29 اپریل 2020 کے دن انہوں نے زندگی کی جدو جہد ہار کر داعی اجل کو لبیک کہا۔
یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
جموں و کشمیر کی پانچ فلمیں پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے منتخب
سری نگر، جموں و کشمیر کے ہدایت کاروں کی بنائی ہوئی پانچ فلموں کو پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر 2026 کے مسابقتی ’’جموں و کشمیر سلیکٹ‘‘ حصے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
منتخب فلموں میں محمد ولی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘، روہن رویندرن نائر کی ’عریفہ‘، سدھارتھ کول اور انکت ولی کی ’بٹ کوچ‘ (گم شدہ گلی)، کپل متو کی ’تصرف دار‘ (کشمیر کے جنات) اور بابا تصدق حسین کی ’نقشِ دور‘ (غلام نبی دھر کی کہانی) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق فیسٹیول کے لیے قائم پیش نظارہ کمیٹی نے موصولہ فلموں کا جائزہ لینے اور ان کی فنی خوبیوں اور مسابقتی حصے کے لیے موزونیت کا جائزہ لینے کے بعد ان فلموں کی سفارش کی۔ اس انتخاب میں مختلف النوع کہانیوں، اصناف اور نقطۂ نظر کو جگہ دی گئی ہے، جن میں خاص طور پر جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے، سماجی حقائق اور انسانی تجربات سے جڑی کہانیوں پر توجہ دی گئی ہے۔
کشمیری اور ہندی زبانوں میں بنائی گئی یہ پانچوں فلمیں بچپن، خاندان اور یادداشت سے لے کر نقل مکانی، شناخت، ورثے، ثابت قدمی اور کشمیر کے بدلتے سماجی منظرنامے جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘ عید کے موقع پر کشمیر کے ایک گاؤں میں رہنے والے دو کم عمر بہن بھائیوں کی کہانی ہے۔ ’عریفہ‘ ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جو کشمیر میں اپنے آبائی گھر واپس آتی ہے اور بچپن اور اپنے والد سے جڑی یادوں کا سامنا کرتی ہے۔
’بٹ کوچ‘ ایک کشمیری مہاجر خاندان کی کہانی کے ذریعے نقل مکانی، شناخت اور گھر سے جڑے دیرینہ تصور کو پیش کرتی ہے۔ ’تصرف دار‘ کشمیر کے ماضی کے پراسرار واقعات، یادوں اور زخموں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے، جبکہ ’نقشِ دور‘ پدم شری سے سرفراز لکڑی کے ایک کاریگر کی زندگی اور خدمات کو پیش کرتی ہے جو سری نگر کے وسطی علاقے میں رہتے ہوئے کشمیر کی دستکاری، ثقافتی ورثے اور ثابت قدمی کو اجاگر کرتے ہیں۔
منتخب فلمیں چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے مسابقتی پروگرام کا حصہ ہوں گی، جہاں ناظرین اور فلم سازوں کو جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی منفرد فلمی آوازوں اور کہانیوں سے روبرو ہونے اور ان پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔
یو این آئی۔ م ع
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
