ہندوستان
فرقہ پرستی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہر ہندوستانی کا فرض: سنجے سنگھ
نئی دہلی، ملک کے موجودہ حالات کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) سنجے سنگھ نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرستی عروج پر ہے اور ہر معاملے کو ہندو مسلم رنگ دے دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہرہندوستانی کا فرض ہے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ دنوں آل انڈیا قومی تنظیم کی جانب سے’موجودہ حالت میں ہماری ذمہ داریاں‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں ہندو مسلم کی بات کرتے ہیں تو فرقہ پرستوں کو بہت مزہ آتا ہے کیوں کہ اس سے ان کی سیاست کی دکان چلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)صرف ہندو مسلم کرکے عوامی مسائل سے بچنا چاہتی ہے، یہ نہیں چاہتی کہ کوئی تعلیم، روزگار، صحت، اقتصادیات، سماج کے ٹوٹتے بکھرتے تانے بانے اور ملک کے موجودہ حالات پر کوئی بات کرے۔اس سے ان کی سیاسی دوکان بند ہوسکتی ہے۔انہوں نے ملک میں کمزور طبقوں اور مسلمانوں پر ہونے والی زیاتی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ معاملہ صر ف مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کا نہیں ہے بلکہ دلتوں، کمزور او رمحروم طبقوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہورہی ہے۔ انہوں اس طرح کے پروگرام کو ملک کے موجودہ حالات میں ضروری قرار دیا۔
آل انڈیا قومی تنظیم کے صدر، سابق مرکزی وزیر اور رکن پارلیمنٹ طارق انور نے صدارتی خطاب میں قومی تنظیم کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہاکہ1982میں قائم کر دہ آل انڈیا قومی تنظیم(اے آئی کیو ٹی) اقلیتوں اور کمزور طبقہ کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرتی رہی ہے اور اس تنظیم نے دبے کچلے کے حقوق کے لئے لڑنے میں کبھی امتیازی رویہ نہیں برتا اور پسماندہ طبقات کے ساتھ ہونے والے ظلام کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے۔
انہوں نے ملک کے موجود ہ حالات میں لڑنے کا عہد کرتے ہوئے کہاکہ جب بھی قوم پر کوئی مصیبت آئی ہے قومی تنظیم نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تمام طبقوں سے متحد ہوکر لڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آج کے دور میں تعلیم یافتہ یعنی ذی شعور افراد کی ذمہ داری کافی اہم ہے۔ انہوں نے میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا بھی اپنی ذمہ داری سمجھے۔
سماجوادی پارٹی سے راجیہ سبھا کے رکن جاوید علی نے تمالوگوں پر پوری ایمانداری اور پوری قوت کے ساتھ ہر ظلم کے خلاف لڑنے کی اپیل کرتے ہوے کہاکہ سب کو ساتھ مل کر آوازاٹھا نے کی ضرورت ہے۔ جب یہ کام کریں گے تو تبھی حالات بدلیں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ماضی میں جب اقلیتوں کے ساتھ کچھ معاملہ ہو تاتھا تو بڑی تعداد میں اکثریتی طبقہ کھڑا ہوتا تھا، مگر آج وہ تعداد کافی کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے ماحول میں وطن عزیز کی ایکتااور مضبوطی کو بچانا اشد ضروری ہے۔
ڈی یو کے پروفیسررتن لعل نے تعلیمی صورت حال اور اس کے گرتے معیار پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ آج کم پڑھے لکھے لوگ بھی پرنسپل، وائس چانسلر اور پروفیسر بن رہے ہیں، جبکہ یہ لوگ آرٹیکل بھی نہیں لکھ سکتے ہیں، یہیوجہ سے ان کی کتابیں گوگل پر موجود نہیں ہیں، جبکہ یہ صرف خاص نظریہ کے ہی لوگ ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ تمام آئینی اداروں پرمخصوصی طبقے کے نظریہ کے لوگوں کا قبضہ ہو تا جا رہا ہے، جن سے آزاد کرانا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
سینئر صحافی ولیڈرآسوتوش نے آئینی بحرانک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالت میں آئین کو بچا نے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے، کیو نکہ آئین و جمہوریت کے بچنے سے ہی تمام اقوام ہی نہیں بلکہ ملک بچے گا۔ انہوں نے کہاکہ آج محض باباصاحب کے بنائے ہوئے جمہوری نظام اور دستور کو بچا نے کی لڑائی ہے، جس میں سبھی مذاہب کے لوگوں کو آگے آنا چاہئے،کسی ایک کے قوم یا طبقے کی نمائندگی کافی نہیں ہے۔
بار کو نسل آف انڈیاکے سابق چیئر مین کے سی متل نے موجودہ عدالتی رویہ پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج بار ایسو سی ایشن کھوکھلی ہوچکی ہے۔انہوں نے کہاکہ آج کے نفرتی و تشدد کے دور میں انڈیا بلاک کے نمائندوں کو اپنی اہم ذمہ داری انجام دینے کی ضرورت ہے، کیو نکہ آج بی جے پی اقتدار میں بیٹھ کر قانون میں ردود بد ل کر کے آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور ملک کو کھوکھلا کررہے ہیں، جبکہ ہم کہہ دینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک گاندھی اور نہرو کا ملک ہے، جو کبھی بھی ہندو راشٹر نہیں بن سکتا ہے۔
آل انڈیا قومی تنظیم کے جنرل سکریٹری محمد ہدایت اللہ جینٹل نے مہمانوں کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ قومی تنظیم ملکی و ملی مسائل کے حل میں اہم رول ادا کرے گی۔
پروگرام سے بزرگ انسا نی حقوق کارکنا ڈاکٹر جان دیا ل، سکھ گرودوارہ پر بندھک کمیٹی کے سابق کن سریندر سنگھ کوہلی،یوگا مایا جی ودیگر نے بھی اظہا رخیال کیا۔قبل ازیں قومی تنظیم دہلی کے صدر ڈاکٹر محمد پرویز میاں نے تمام شرکا استقبال کرتے ہوئے مہمانوں کا تعارف کرایا۔پروگرام کوے دیگر شرکاء میں یو نائیڈ مسلم فرنٹ کے چیئرمین شاہد علی ایڈوکیٹ، آئی آئی سی سی کے تاحیات ممبر حاجی محمد شمیم احمد(سوت والے)، شیخ محمد عمران عالم ایڈوکیٹ،ڈاکٹر مظفر حسین غزالی،شفیع دہلوی، اسعد میاں،قومی تنظیم یو پی کے صدر طالب علی،شمس الضحی،محمد جمال، ایم ٹی انصاری، امد اد اللہ جوہر ودیگر شامل تھے۔ نظامت کے فرائض شمس تبریز قاسمی نے انجام دئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے زیادہ اونچی 20 چوٹیوں پر کامیاب چڑھائی کرنے والی کوہ پیما ٹیم کا جمعہ کے روز یہاں استقبال کیا۔
اس ٹیم نے چامسیر-لنگسیر، گیاما نالا اور چوکسلا علاقوں میں 20 ایسی چوٹیوں پر پہلی بار چڑھائی کی جہاں پہلے کسی نے چڑھائی نہیں کی تھی۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ مہم دیرانگ میں واقع ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ اینڈ ایڈونچر اسپورٹس’ کے 20 کوہ پیماؤں کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ ٹیم کی قیادت کرنل رنویر سنگھ جموال نے کی۔
وزیر دفاع نے کوہ پیماؤں کی ہمت اور عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہندوستان کی کوہ پیمائی کی صلاحیت اور ایڈونچر اسپورٹس میں قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کوہ پیماؤں کو نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور کہا کہ ان کامیاب مہمات سے ملک کے نوجوان کوہ پیماؤں کو ایڈونچر کی سرگرمیوں اور دریافتوں کی ترغیب ملے گی۔
مہم کے دوران اس ٹیم نے اونچائی والے علاقوں میں بہتر منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت، صبر اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مقصد اونچائی والے سرحدی علاقوں میں ہمت اور دریافت کرنے کے جذبے کو فروغ دینا نیز آنے والی نسلوں کو کوہ پیمائی کے لیے بیدار کرنا تھا۔
فلیگ ان تقریب میں سکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ اور وزارت دفاع کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ’میک اِن انڈیا‘ پہل کے 12 سال مکمل ہونے پر اس کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب پوری دنیا کی ضروریات کے لیے مصنوعات تیار کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے ملک میں پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے نتیجے میں ہندوستان میں زیادہ پیداوار، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تبدیلی تمام شعبوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اس یقین پر مبنی تھی کہ ’’ہندوستان دنیا کے لیے مینوفیکچرنگ کرسکتا ہے۔‘‘
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے 12 سال مکمل ہونا صرف ایک سنگ میل نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب کوئی ملک اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے اور حکومت مسلسل اصلاحات کے ذریعے اس اعتماد کو مضبوط کرتی ہے تو بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے بلکہ دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرے۔
گوئل نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ہندوستان میں اب تک کی سب سے زیادہ 94.53 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوئی، جبکہ مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک مجموعی ایف ڈی آئی 843 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں جدید صنعتی شہر قائم کیے جارہے ہیں اور کاروبار میں آسانی کے لیے قوانین کو بھی آسان بنایا جارہا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) نے سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو مزید رفتار دی ہے۔ 31 مارچ 2026 تک پی ایل آئی پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں 2.40 لاکھ کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری، 23.8 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار یا فروخت اور 15.2 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوئی ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر 14.6 لاکھ سے زیادہ روزگار پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانکس و ٹیلی کام، دواسازی، طبی آلات، آٹوموبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی ہارڈویئر اور اسپیشلٹی اسٹیل سمیت کئی شعبوں کو پی ایل آئی اسکیم سے فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے اب تک 470 کروڑ سے زیادہ آرڈر دیے جاچکے ہیں۔
گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کی اصل کامیابی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہے جو اس نے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ فاونڈر، صنعت کاروں، مینوفیکچررز، اختراع کاروں، برآمد کنندگان اور عوام میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ’’ہندوستان بنا سکتا ہے، ہندوستان اختراع کرسکتا ہے اور ہندوستان دنیا کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کا سفر ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنانے کے بڑے ہدف کے ساتھ جاری ہے، جو 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے وژن کو بھی مضبوط کرے گا۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
پی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز بھارتیہ جن سنگھ کے نظریہ ساز پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یومِ پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، ایک صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیز انسانیت کے علم بردار اور انتودیہ کے حامی کے طور پر ان کے تعاون کو یاد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر مودی نے کہا کہ پنڈت اپادھیائے کے خیالات شمولیت پر مبنی ترقی، سماجی انصاف اور تعمیرِ ملت کی ہندوستان کی کوششوں کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا، “میں پنڈت دین دیال اپادھیائے جی کو ان کی جینتی پر ادب کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔”
پنڈت اپادھیائے کو ایک “صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیزانسانیت کے علم بردا اور انتودیہ کے رہنما” کے طور پر بیان کرتے ہوئے، مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے “عوام کو ترقی کے مرکز میں رکھنے اورقطار کے آخری شخص کو اوپر اٹھانے کے لازوال نظریات” ملک کے ترقیاتی سفر میں آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ نظریات جامع پیش رفت، سماجی انصاف اور قوم کی تعمیر کی طرف ہمارے اجتماعی سفر کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔”
25 ستمبر 1916 کو پیدا ہوئے پنڈت اپادھیائے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی پیشرو، بھارتیہ جن سنگھ کی اہم نظریاتی شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے جن سنگھ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس کے نظریاتی فریم ورک کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے انسانیت کے فلسفے نے متوازن سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی کے وسیع تر فریم ورک کے اندر فرد اور معاشرے کو رکھنے کی کوشش کی۔ انتودیہ کا تصور، جسے موٹے طور پر سماجی اور اقتصادی نظام کے سب سے نیچے والے شخص کی ترقی کے طور پر سمجھا جاتا ہے، بعد میں بی جے پی کی سیاسی اور پالیسی سے جڑی گفتگو میں ایک بار بار آنے والا موضوع بن گیا۔
پنڈت اپادھیائے کے یوم پیدائش پر مسٹر مودی کے خراج عقیدت نے آخری شخص کی فلاح و بہبود پر مسلسل زور دینے کو اجاگر کیا اور ان کی نظریاتی میراث کو جامع ترقی اور سماجی انصاف کے وسیع تر اہداف سے جوڑ دیا۔
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
