تازہ ترین
فوجی کرنل ،میجر،ایس آئی2فورسز اہلکار،2جنگجوسمیت7افراد ہلاک
شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ راجوار ہندوارہ میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جاری تصادم آرائی 15گھنٹے بعد اختتام پزیر ہوئی۔اس دوران اس جھڑپ میں مقامی فوجی یونٹ کا1 کرنل،میجر،جموں کشمیر پولیس کے ایک ایس آئی 2فورسز اہلکار،2جنگجوسمیت7افراد ہلاک ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ گاؤخانے میں چھلے جنگجوؤں نے تمام افسر و اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد مارڈا ہے تاہم فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مکان میں موجودجنگجووں نے کنبے کے سبھی افراد کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تاہم فوجی کرنل کی قیادت میں فورسز کی ایک ٹیم کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں عام شہریوں کو بچالیا گیا،جس دوران جنگجوؤں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہ تمام افسر اور اہلکار جاں بحق ہوئے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ کے ہند وارہ گاؤں سے چند کلو میٹر دور ایک بستی راجواڑ ہندوارہ کے ڑنجہ مولہ میں فورسز نے علاقے میں جنگجوؤں کی موجود گئی کی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع موصول ہوئی،جس کے بعد فوج کے 21RR،اورسپیشل آپریشن گروپ اہلکاروں (ایس او جی)نے اطلاع موصول ہونے کے فوراً بعدپورے علاقے کو سنیچر کے صبح ہی سخت محاصرے میں لے کر اور گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی ہے،ذارئع نے بتایا اگر چہ فورسز کو شام چار بجے تک تلاشی کارروائیوں کے دوران کوئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوا ہے تاہم شام 4بجے کے قریب فوج اور جنگجو ؤں کے درمیان مختصر گولیوں کا تبادلہ ہوا،اور اس کے ساتھ ہی گاؤں میں مزید کمک کو طلب کیا گیا،اور پوری بستی کو سیل کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا گاؤں کی طرف آنے اورباہر جانے والے تمام راستوں کو سیل کیا گیا ہے اورچھپے بیٹھے جنگجو ؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی شروع کی گئی۔ ذرائع نے کہا کہ زور دار فائرنگ کے دوران جنگجو ؤں نے ایک رہائشی گاؤ کانے میں پناہ لی اور اس دوران طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا ہے جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا اور اسکے بعد فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ذرائع نے بتایافائرنگ رک جانے کے فوراً بعد مقامی فوجی یونٹ کا کمانڈنگ آفسر،ایک میجر،زچل ڈارہ ایس او جی کیمپ کا انچارج اور ان کے2باڑی گاڑ یہ سمجھ کر کہ اب فائرنگ کا سلسلہ رک گیا،اور جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ جنگجوؤں جاں بحق ہوئے ہیں کیوں کہ دوسری جانب سے کوئی فائرنگ نہیں ہو ئی۔اس دوران جب پانچوں افراد مکان میں داخل ہوئے تو یہاں گاؤں خانے میں موجود جنگجوؤں نے دوبارہ شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی ان افسران اور اہلکاروں کاشام ساڑے 5بجے کے قریب کنٹرول روم کے ساتھ رابطہ منقطع ہوا ہے اور فائرنگ بھی رک گئی ہے۔
بتایا جاتا ہیاس دوران جو فورسز گیرے کی ڈیوٹی پر مامور تھی انہیں لگا کہ فوجی پارٹی نے افسر سمیت اند ہی مورچہ سنبھالا،جس دوران جب رابطہ نہیں ہوا تو انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے مکان میں بھی جنگجوؤں موجود تھے جن کو غالباً یرغمال بنا لیا گیا ہے۔اگر چہ سنیچر کی شام اس حوالے سے سوشل میڈیا اور نیشنل میڈیا نے اس حوالے سے پہلے ہی خبر چلائی تھی”تاہم دفاعی ذرائع نیا س خبر کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ برینگ نیوز بنانے کے بجائے میڈیا اداروں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہے کہ جو اہلکار لڑ رہے ہیں ان کے افرد کنبہ کتنے پریشان ہو ں گے جس کے حوالے سے فوج نے بھی متعدد فوج کالز وصول کئے ہیں“۔نمائندے ذرائع کا حوالہ دینے ہوئے بتایا کہ ہلاکتوں کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی فوج کے دیگر اعلیٰ افسران جائے واردات پر پہنچ گئے ہیں۔
اس دوران رات بھرجائے جھڑپ سے وقفے وقفے سے علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ہے جہاں بعد میں 21آر آر کے کمانڈگ آفسر،ایک میجر،ایس او جی سب انسپکٹر دو اہلکاروں کے علاوہ2جنگجوؤں کی لاشوں کو برآمد کر لیا گیا ہے،بتایا جاتا ہے کہ مارے گئے جنگجوں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت لشکر کمانڈر ساکن پاکستان کے طور کی ہے جبکہ غیر سرکاری اطلاع کے مطابق دوسرا مقامی ہے جو ہندوارہ سے ہی تعلق رکھتا تھا۔اس دوران اتوار کے صبح فوج کی طرف سے جاری ایک مختصر بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر جنگجووں نے مکان میں موجود عام شہریوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تاہم فوجی کرنل کی قیادت میں فورسز کی ایک ٹیم کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں عام شہریوں کو بچالیا گیا۔ فوج کے مطابق تاہم اس دوران مذکورہ ٹیم جنگجووں ں کی فائرنگ کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں کرنل آشوتوش شرما، میجر انوج سود،نائک راجیش اور لانس نائک دنیش نامی فوجی ہلاک ہوگئے۔
اس کے علاوہ ٹیم میں شامل جموں کشمیر پولیس کی ایس او جی ونگ کا ایک سب انسپکٹر بھی ہلاک ہوگیا۔ کرنل شرما21آر آر کا کمانڈنگ آفیسر تھا اور اْسے کشمیر میں ابھی تک بہادری کیلئے دو میڈل عطا ہوئے تھے۔کرنل شرما کا تعلق اْتر پردیش کے بلند شہر جبکہ میجر سود کا تعلق بلند شہر سے تھا۔جھڑپ میں مارے گئے ایس او جی سب انسپکٹر کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ لولاب سے تعلق رکھتا تھا۔ذرائع کے مطابق علاقے میں سال2000ء میں بھی اسی طرح کی ایک جھڑپ میں ایک کمانڈنگ افسر مارا گیا ہے خیال رہے اس سے چند سال قبل جنوبی کشمیر کے ہندورہ ترال میں 42RRکاکرنل ایم این رائی بھی ایک مختصر فائرنگ کے واقعے میں مار گیا تھا۔کشمیر وادی میں اگر چہ فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان تصادم آرئیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے تاہم گزشتہ شند سال کے دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ جب کوئی افسرکسی جھڑپ کو انتا قریب گیا تھا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
