ہندوستان
مودی کا خط: جھوٹ کا کوئی اثر نہ ہونے سے ’آپ مایوس اور پریشان ہیں : کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ مسٹر مودی نے عوام سے بات چیت کرنے سے متعلق قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کے امیدواروں کو جو خط لکھا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بہت مایوس اور پریشان ہیں کیونکہ انہوں نے عوام کے سامنے جو جھوٹ پیش کیا ہے ، اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ اس لیے اب وہ امیدواروں کو بھی جھوٹ بولنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں ۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ “میں نے این ڈی اے کے امیدواروں کو لکھا ہوا آپ کا خط دیکھا ہے جس میں آپ نے انہیں بتایا ہے کہ ووٹرز سے کیا بات چیت کرنی ہے۔ خط کے لہجے اور مواد سے ایسا لگتا ہے کہ آپ بہت مایوس اور پریشان ہیں، اس لیے آپ ایسی زبان کا استعمال کرنے کے لئے امیدواروں کو کہہ رہے ہیں ۔ لیکن یہ زبان وزیر اعظم کے دفتر کے لیے موزوں نہیں ہے ۔ اس خط سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تقریروں میں جو جھوٹ بولا جا رہا ہے، اس کا مطلوبہ اثر نہیں ہو رہا ہے ، اس لیے اب آپ چاہتے ہیں کہ این ڈی اے کے امیدوار آپ کے جھوٹ کو آگے بڑھائیں۔ لیکن ایک جھوٹ کو ہزار بار دہرانے سے وہ سچ نہیں ہوجاتا۔
مسٹر کھڑگے نے لکھا “ووٹر اتنے ذہین ہیں کہ وہ خود پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں کیا لکھا ہے اور ہم نے کن گارنٹیوں کا وعدہ کیا ہے۔ ہماری گارنٹیایں اتنی سادہ اور واضح ہیں کہ ہمیں ان کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔” ہم نے آپ کو اور وزیر داخلہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ کانگریس خوشامد کرنے کی سیاست کر رہی ہے لیکن پچھلے 10 برسوں میں ہم نے چینیوں کی خوشامد دیکھی ہے جس کی وجہ سے آپ 19 جون 2020 کو چین کو ‘درانداز’ نہیں کہہ پا رہے تھے ۔ 20 ہندوستانی فوجیوں کی عظیم قربانی کی آپ نے یہ کہہ کر توہین کی کہ ’’ نہ کوئی داخل ہوا ہے اور نہ ہی کوئی داخل ہے‘‘۔
کانگریس صدر نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) اور راشٹریہ سوم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کو ریزرویشن مخالف قرار دیتے ہوئے لکھا “آپ اپنے خط میں دعویٰ کرتے ہیں کہ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی سے ریزرویشن چھین لیا جائے گا، جب کہ ‘آر ایس ایس اور بی جے پی نے 1947 سے ہر مرحلے پر ریزرویشن کی مخالفت کی ہے۔
سب جانتے ہیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی یہی چاہتی ہے ۔ ریزرویشن ختم کرنے کے لیے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے لیے ان کی آبادی کی بنیاد پر ریزرویشن کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ “آپ کی پارٹی نے مختلف کمپنیوں سے ‘غیر قانونی اور غیر آئینی’ انتخابی بانڈز کے ذریعے 8,250 کروڑ روپے اکٹھے کیے جن میں چندہ، سودے، ٹھیکے لینے، رشوت لینے، بھتہ خوری اور جعلی کمپنی کے راستوں اور اسکیموں کا استعمال کیا گیا۔ آپ جھوٹ بولتے ہیں کہ کانگریس وراثتی ٹیکس لگانا چاہتی ہے جب کہ سابق وزیر خزانہ اور آپ کی پارٹی کے رہنما بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ وراثتی ٹیکس چاہتے ہیں لوگ آپ کے رہنماؤں کی یہ تقریریں اور تبصرے آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔
مسٹر کھرگے نے کہا “آپ کو مسلسل بڑھتی ہوئی نابرابری کے بارے میں بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ آپ کو بے روزگاری اور قیمتوں میں بے مثال اضافے کے بارے میں بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جو ہمارے لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔ اسی طرح خواتین پر بڑھتے ہوئے مظالم پر بات کرنے میں آپ کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے زیادہ اونچی 20 چوٹیوں پر کامیاب چڑھائی کرنے والی کوہ پیما ٹیم کا جمعہ کے روز یہاں استقبال کیا۔
اس ٹیم نے چامسیر-لنگسیر، گیاما نالا اور چوکسلا علاقوں میں 20 ایسی چوٹیوں پر پہلی بار چڑھائی کی جہاں پہلے کسی نے چڑھائی نہیں کی تھی۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ مہم دیرانگ میں واقع ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ اینڈ ایڈونچر اسپورٹس’ کے 20 کوہ پیماؤں کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ ٹیم کی قیادت کرنل رنویر سنگھ جموال نے کی۔
وزیر دفاع نے کوہ پیماؤں کی ہمت اور عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہندوستان کی کوہ پیمائی کی صلاحیت اور ایڈونچر اسپورٹس میں قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کوہ پیماؤں کو نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور کہا کہ ان کامیاب مہمات سے ملک کے نوجوان کوہ پیماؤں کو ایڈونچر کی سرگرمیوں اور دریافتوں کی ترغیب ملے گی۔
مہم کے دوران اس ٹیم نے اونچائی والے علاقوں میں بہتر منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت، صبر اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مقصد اونچائی والے سرحدی علاقوں میں ہمت اور دریافت کرنے کے جذبے کو فروغ دینا نیز آنے والی نسلوں کو کوہ پیمائی کے لیے بیدار کرنا تھا۔
فلیگ ان تقریب میں سکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ اور وزارت دفاع کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ’میک اِن انڈیا‘ پہل کے 12 سال مکمل ہونے پر اس کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب پوری دنیا کی ضروریات کے لیے مصنوعات تیار کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے ملک میں پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے نتیجے میں ہندوستان میں زیادہ پیداوار، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تبدیلی تمام شعبوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اس یقین پر مبنی تھی کہ ’’ہندوستان دنیا کے لیے مینوفیکچرنگ کرسکتا ہے۔‘‘
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے 12 سال مکمل ہونا صرف ایک سنگ میل نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب کوئی ملک اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے اور حکومت مسلسل اصلاحات کے ذریعے اس اعتماد کو مضبوط کرتی ہے تو بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے بلکہ دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرے۔
گوئل نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ہندوستان میں اب تک کی سب سے زیادہ 94.53 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوئی، جبکہ مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک مجموعی ایف ڈی آئی 843 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں جدید صنعتی شہر قائم کیے جارہے ہیں اور کاروبار میں آسانی کے لیے قوانین کو بھی آسان بنایا جارہا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) نے سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو مزید رفتار دی ہے۔ 31 مارچ 2026 تک پی ایل آئی پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں 2.40 لاکھ کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری، 23.8 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار یا فروخت اور 15.2 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوئی ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر 14.6 لاکھ سے زیادہ روزگار پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانکس و ٹیلی کام، دواسازی، طبی آلات، آٹوموبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی ہارڈویئر اور اسپیشلٹی اسٹیل سمیت کئی شعبوں کو پی ایل آئی اسکیم سے فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے اب تک 470 کروڑ سے زیادہ آرڈر دیے جاچکے ہیں۔
گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کی اصل کامیابی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہے جو اس نے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ فاونڈر، صنعت کاروں، مینوفیکچررز، اختراع کاروں، برآمد کنندگان اور عوام میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ’’ہندوستان بنا سکتا ہے، ہندوستان اختراع کرسکتا ہے اور ہندوستان دنیا کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کا سفر ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنانے کے بڑے ہدف کے ساتھ جاری ہے، جو 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے وژن کو بھی مضبوط کرے گا۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
پی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز بھارتیہ جن سنگھ کے نظریہ ساز پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یومِ پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، ایک صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیز انسانیت کے علم بردار اور انتودیہ کے حامی کے طور پر ان کے تعاون کو یاد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر مودی نے کہا کہ پنڈت اپادھیائے کے خیالات شمولیت پر مبنی ترقی، سماجی انصاف اور تعمیرِ ملت کی ہندوستان کی کوششوں کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا، “میں پنڈت دین دیال اپادھیائے جی کو ان کی جینتی پر ادب کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔”
پنڈت اپادھیائے کو ایک “صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیزانسانیت کے علم بردا اور انتودیہ کے رہنما” کے طور پر بیان کرتے ہوئے، مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے “عوام کو ترقی کے مرکز میں رکھنے اورقطار کے آخری شخص کو اوپر اٹھانے کے لازوال نظریات” ملک کے ترقیاتی سفر میں آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ نظریات جامع پیش رفت، سماجی انصاف اور قوم کی تعمیر کی طرف ہمارے اجتماعی سفر کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔”
25 ستمبر 1916 کو پیدا ہوئے پنڈت اپادھیائے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی پیشرو، بھارتیہ جن سنگھ کی اہم نظریاتی شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے جن سنگھ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس کے نظریاتی فریم ورک کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے انسانیت کے فلسفے نے متوازن سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی کے وسیع تر فریم ورک کے اندر فرد اور معاشرے کو رکھنے کی کوشش کی۔ انتودیہ کا تصور، جسے موٹے طور پر سماجی اور اقتصادی نظام کے سب سے نیچے والے شخص کی ترقی کے طور پر سمجھا جاتا ہے، بعد میں بی جے پی کی سیاسی اور پالیسی سے جڑی گفتگو میں ایک بار بار آنے والا موضوع بن گیا۔
پنڈت اپادھیائے کے یوم پیدائش پر مسٹر مودی کے خراج عقیدت نے آخری شخص کی فلاح و بہبود پر مسلسل زور دینے کو اجاگر کیا اور ان کی نظریاتی میراث کو جامع ترقی اور سماجی انصاف کے وسیع تر اہداف سے جوڑ دیا۔
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
